کیا گورنر راج کا نفاذ سیاسی بحران میں اضافہ کر دے گا؟

 

معروف صحافی اور تجزیہ کار زاہد حسین نے خبردار کیا ہے کہ وفاقی حکومت اگر تحریکِ انصاف کو کاؤنٹر کرنے کے لیے خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرتی ہے تو یہ فیصلہ ملک کو انتہائی سنگین سیاسی اور سیکیورٹی بحران میں دھکیل دے گا۔ انکے مطابق ایسا فیصلہ نہ صرف جمہوری عمل کو شدید نقصان پہنچائے گا بلکہ پہلے سے موجود سیاسی عدم استحکام میں مزید اضافہ کر دے گا۔

معروف انگریزی روزنامہ ڈان کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں زاہد حسین لکھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے امکان پر کئی ماہ سے بحث جاری ہے، تاہم بانی تحریک انصاف کی ہدایات کی روشنی میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے وفاق سے کھلی محاذ آرائی کی پالیسی اختیار کیے جانے کے بعد معاملہ مزید سنگین شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک نہایت حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ کچھ وفاقی وزراء کے حالیہ سخت ترین بیانات تصدیق کرتے ہیں کہ گورنر راج کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔

تاہم زاہد حسین کا کہنا ہے کہ گورنر راج کا نفاذ ملک کو مزید بحرانوں میں دھکیل دے گا جس کے دو سیاسی اور سیکیورٹی اثرات ہوں گے۔ ان کے مطابق پاکستان میں پہلے ہی جمہوری فضا محدود ہونے کے بعد انتشار کا شکار ہے، ایسے میں محاذ آرائی کی سیاست ریاستی ڈھانچے کو پٹڑی سے اتار سکتی ہے۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا ایک ایسا ملک، جو پہلے ہی کئی داخلی و خارجی سیکیورٹی خطرات کی زد میں ہے، اس قدر غیر ذمہ دارانہ فیصلے کا متحمل ہو سکتا ہے؟

لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان اور تحریکِ انصاف کے لیے ہمدردی رکھنے والے زاہد حسین اس پہلو پر خاموش نظر آتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کے نئے وزیراعلی نے جس طرح کھلے عام طالبان نواز مؤقف اپناتے ہوئے تحریک طالبان کے خلاف آپریشن کی مخالفت کی ہے، اس کے بعد وفاقی حکومت بڑھتی ہوئی خونی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے آخر کیا حکمتِ عملی اختیار کرے؟

ادھر وفاقی حکومت کی جانب سے گورنر راج کے ممکنہ نفاذ کے جواز کے طور پر خیبر پختون خوا میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور گورننس کے بگڑتے حالات کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔ زاہد حسین تسلیم کرتے ہیں کہ سٹریٹجک اہمیت کے حامل صوبے کو دہائی کی بدترین سیکیورٹی صورتِ حال کا سامنا ہے اور طالبان کی دہشت گردی سینکڑوں جانیں نگل چکی ہے، لیکن اس سب کے باوجود انکے مطابق بگڑتے ہوئے حالات کی بنیادی ذمہ داری وفاقی حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ ہر عائد ہوتی ہے۔ تاہم موصوف نے وضاحت نہیں کی کہ انہوں نے یہ نتیجہ کیسے نکالا ہے؟

زاہد حسین کے مطابق اصل مسئلہ طاقت کی سیاست ہے اور خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف کی حکومت کو سبق سکھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ تاہم سیاسی تجزیہ کار اس رائے سے اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ گزشتہ ایک برس کے دوران فوجی اسٹیبلشمنٹ اور وفاقی حکومت نے تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت کے ساتھ چلنے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر پہلے وزیراعلیٰ گنڈاپور اور اب سہیل افریدی مکمل طور پر عمران خان کی جارحانہ پالیسیوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ طالبان نواز سخت گیر وزیراعلیٰ کے آنے کے بعد سے صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان محاذ آرائی کھل کر سامنے آ چکی ہے، جس کے باعث اب گورنر راج کی باتیں شدت سے کی جا رہی ہیں۔

لیکن زاہد حسین کے مطابق اگر گورنر راج نافذ کیا گیا تو اس کے نتائج نہایت خطرناک ہو سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب صوبے کے کئی اضلاع میں عسکریت پسندی دوبارہ زور پکڑ رہی ہے اور مغربی سرحدی پٹی پر جنگ جیسے حالات موجود ہیں۔ ان کے مطابق سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ متاثرہ علاقوں کی مقامی آبادی ریاست سے مسلسل بیگانگی محسوس کر رہی ہے۔ صوبائی حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کشیدگی نے انتظامی کنٹرول تقریباً مفلوج کر دیا ہے، اور یہی خلا دہشت گرد گروہوں کو مزید کھلی آزادی فراہم کر رہا ہے۔ پشاور میں ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حالیہ حملہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ یہ گروہ اب اعلیٰ سیکیورٹی زونز میں بھی بے خوف کارروائیاں کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

تاہم اصل سوال بدستور موجود ہے کہ اس سنگین سیکیورٹی ناکامی کا ذمہ دار کون ہے؟ زاہد حسین کے مطابق اس ناکامی کی ذمہ دار اسٹیبلشمنٹ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے میں گورنر راج نافذ کرتے ہوئے خیبر پختون خواہ کی منتخب حکومت کو معطل کرنا آمریت ہی کی ایک شکل ہو گی۔ انکے بقول صوبائی حکومت کی برطرفی عوامی بے چینی میں مزید اضافہ کرے گی اور ملک کو مزید عدم استحکام کی طرف لے جائے گی۔

Back to top button