کیا فوجی قیادت اسلام آباد میں خون خرابے کی اجازت دے گی؟

وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے قبل حکومت کا 27 مارچ کو ڈی چوک پر دس لاکھ افراد کا جلسہ کرنے کے اعلان اور پی ڈی ایم کا 23 مارچ کو اسلام آباد پہنچنے کا اعلان سامنے آنے کے بعد اب سوال کیا جا رہا ہے کہ نیوٹرل ایمپائر کا کردار ادا کرنے والی فوجی قیادت اسلام آباد میں ممکنہ خون خرابے کی اجازت دے گی۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے پہلے اپوزیشن اور حکومتی جماعت کے کارکنان کو آمنے سامنے آنے سے روکنے کے لیے اس بات کا امکان ہے کہ اسٹیبلشمنٹ دونوں ہی فریقین کو ایسا کوئی اجتماع کرنے کی اجازت نہ دے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اپنی یقینی چھٹی کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان سڑکوں پر ا خر وہ کام کرنا چاہتے ہیں جو پارلیمان میں ہونا چاہیے۔ لہذا اس بات کا قوی امکان ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اپنی غیر جانبداری برقرار رکھتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اسلام آباد میں لوگ اکٹھا کرنے سے روک دے اور دونوں فریقین کی جنگ کو صرف قومی اسمبلی کے ایوان تک محدود کر دے۔ تاہم بعض مبصرین کے خیال میں اگر اسٹیبلشمنٹ اس معاملے میں خاموش رہی تو پھر خونی تصادم یقینی ہے جسکا فائدہ تیسری قوت اٹھا سکتی ہے۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری پہلے ہی اعکان کرنا چکے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 63 اے کی بنیاد پر تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے اراکین قومی اسمبلی کو تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کے روز ایوان میں داخل ہونے سے منع کیا گیا ہے لہٰذا اگر کسی منحرف رکن نے پارٹی پالیسی کے برعکس اپوزیشن کو سپورٹ کرنے کے لیے ایوان میں جانے کی کوشش کی تو اسے پہ ٹی آئی کے لاکھوں لوگوں کے مجمع سے گزر کر آگے جانا ہوگا۔

دوسری جانب مولانا فضل الرحمان نے 23 مارچ کو لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ 23 مارچ کو پی ڈی ایم نے جس مارچ کا اعلان کیا تھا، وہ ہو کر رہے گا جس میں پورے ملک سے لوگ شریک ہوں گے۔ یہ مارچ کتنے دن تک اسلام آباد میں رہے گا، اس کا فیصلہ بعد میں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ میں حکمرانوں پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر اسلام آباد میں ہمارے لوگوں کے ساتھ کسی گڑبڑ کی کوشش کی گئی تو ہم اینٹ کا جواب اینٹ اور پتھر کا جواب پتھر سے دیں گے۔

پی ڈی ایم اتحاد میں شامل تمام اپوزیشن جماعتوں نے کاؤنٹر سٹریٹجی کے طور پر اپنے کارکنان سے کہا کہ وہ 23 مارچ کو اسلام آباد پہنچنا شروع کردیں تاکہ تحریک انصاف کی جانب سے اپنے منحرف اراکین پر دباؤ ڈالنے کی صورت میں توازن قائم کیا جائے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے جمع کرائی جانے والی عدم اعتماد کی تحریک پر اجلاس بلانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ امکان ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ 28 مارچ کو ہوگی تاہم اس سے ایک روز قبل حکمران جماعت نے پارلیمنٹ کے باہر ڈی چوک میں سیاسی جلسہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے مطابق اپوزیشن تحریک عدم اعتماد کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس میں جب جائے گی، تو پارلیمنٹ کے باہر تحریک انصاف کے کارکنان کے بیچ میں سے ہو کر گزرنا پڑے گا، تحریک عدم اعتماد کی کارروائی کے بعد بھی جب اس کے ارکان پارلیمنٹ سے نکلیں گے تو انہیں کارکنوں کا سامنا ہوگا۔

فواد چوہدری نے ڈی چوک کے جلسے کو ’تمام جلسوں کی ماں قرار‘ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس جلسے میں ملک بھر سے دس لاکھ افراد کی شرکت متوقع ہے۔ انھوں نے کہا کہ جس نے ووٹ ڈالنا ہو گا، وہ اس دس لاکھ کے ہجوم میں سے گزر کر جائے گا اور جب ووٹ ڈال کر آئے گا تب بھی یہیں سے گزر کر جائے گا۔ اس لیے اپنی پیٹیاں کس لیں کیونکہ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ ہو گا۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ میں ن لیگ، پیپلز پارٹی اور دوسری اپوزیشن جماعتوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ عمران خان کے مقابلے کا ایک جلسہ ہی کر کے دکھا دیں، ایک عوامی ریفرنڈم کا پتا چل جائے گا۔

اس صورت حال پر اپوزیشن کی جماعتوں نے بھی سر جوڑ لیے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے بھی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ کے باہر جلسے کے اعلان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ سابق اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی خورشید شاہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر حکومت 10 لاکھ افراد کو پارلیمنٹ کے باہر اکٹھا کرنا چاہتی ہے تو ہم بھی اس سے زیادہ لوگ پارلیمنٹ کے باہر اکٹھے کریں گے ہم حکومت کو طاقت کے بل پر ایک آئینی اور قانونی عمل کو سبوتاژ نہیں کرنے دیں گے۔ حکومت جو بھی کرے گی اس کو اسی زبان میں جواب دیا جائے گا۔ مسلم لیگ (ن) پنجاب کی ترجمان عظمٰی بخاری کے مطابق انہوں نے بھی اس حوالے سے تیاری مکمل کر لی ہے، حکومت بھلے جتنے مرضی بندے پارلیمنٹ کے باہر کھڑے کرے، اپوزیشن اپنے تمام 172 اراکین کے ساتھ اکٹھے پارلیمنٹ کی عمارت میں داخل ہوگی۔

ن لیگ کے رہنما چوہدری تنویر خان کا 7 روزہ ریمانڈ منظور

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے کارکن ان تمام اراکین اسمبلی کی حفاظت کر رہے ہوں گے اور تمام اراکین ایک ہی وقت میں پارلیمنٹ کی عمارت میں داخل ہوں گے۔ اگر اس دوران حکمران جماعت نے کسی بھی قسم کی شرارت کی تو حالات کی ذمہ دار صرف حکومت ہو گ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر اپوزیشن بھی ویسا ہی رویہ اپنائے گی تو اس سے تو عدم استحکام اور تشدد کا خطرہ پیدا نہیں ہو گا؟ اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ شروعات کرنے والے ہم نہیں، عدم اعتماد پارلیمنٹ میں لے کر آنا ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے جب کہ اپوزیشن نے ایسا کوئی اعلان بھی نہیں کیا کہ وہ جتھے لے کر پارلیمنٹ کے باہر پہنچے گی۔

جب ہم کسی بھی طریقے سے غیر قانونی اور غیر آئینی کام نہیں کر رہے اور حکومت آئینی حق کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے دھمکیوں پر اتر آئے تو ہمارے پاس کوئی اور آپشن نہیں رہ جاتا، سوائے اس کے کہ حکومت کو اسی زبان میں جواب دیا جائے، صورت حال بگڑ جانے کا خدشہ ہو سکتا ہے تاہم اس کی ذمہ داری شروعات کرنے والوں پر ہو گی۔

اسی طرح جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ترجمان نے بھی کہا ہے کہ اگر حکومت نے کسی بھی طریقے سے عدم اعتماد کے راستے میں رکاوٹ ڈالی تو اس سے پہلے ہی کارکنوں کو اسلام آباد پہنچنے کی حتمی کال دی جائے گی۔ اگر حکومت بزور طاقت روکے تو اپوزیشن کے پاس کوئی اور چارہ نہیں رہ جاتا، حکومت نے رکاوٹ ڈالی تو تصادم کا خطرہ ہو گا تاہم اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔ ایسے میں دونوں فریقین کے مابین تصادم کا خطرہ ہے جسے روکنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی طرف دیکھا جا رہا ہے۔

Will the military leadership allow bloodshed in Islamabad?

Back to top button