اقتدار اور اختیار کی جنگ فوج کی قیادت جیتے گی یا عمران؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ عمران خان اور فوجی قیادت کے درمیان موجودہ کشمکش دراصل اقتدار اور اختیار کی جنگ ہے جو اب آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔ ان کے مطابق مسئلہ صرف یہی ہے کہ عمران کو اقتدار چاہیے جبکہ فوجی قیادت اپنی روایتی بالادستی یعنی اختیار سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ کلاسرا کے بقول اس لڑائی کا نتیجہ یہ ہے کہ عمران خان برسر اقتدار ہونے کی بجائے جیل میں ہیں جبکہ تمام تر اختیار فوجی قیادت کے پاس ہے۔
اپنے سیاسی تجزیے میں رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ اختیارات حاصل کرنے کی یہ کشمکش پاکستان بننے کے محض چند برس بعد شروع ہو گئی تھی جو آج ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ ماضی میں بھی کئی ایسے ادوار آئے جنہیں خطرناک کہا جا سکتا ہے، لیکن موجودہ صورتحال کئی حوالوں سے زیادہ بھیانک ہے۔ کلاسرا یاد دلاتے ہیں کہ پہلے بھی اس کشمکش نے ذوالفقار علی بھٹو شہید جیسے سیاست دانوں کو پھانسی گھاٹ تک پہنچایا، جلاوطنی پر مجبور کیا اور سیاسی عدم استحکام میں اضافہ کیا۔ ان کے مطابق اسی کھیل کے نتیجے میں بھٹو اور جنرل ضیا آمنے سامنے آئے تھے اور بھٹو صاحب کو اپنے اقتدار کے ساتھ ساتھ اپنی جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔
رؤف کلاسرا کے مطابق جنرل ضیاء الحق اور بھٹو کے مابین بھی بنیادی مسئلہ اقتدار اور اختیار کا تھا۔ بعد ازاں یہی تنازع جنرل ضیا کے بعد نواز شریف اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان کھڑا ہوا، ایک بار پھر اختیارات کے توازن کی جنگ شروع ہوئی، جسکا نتیجہ جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں نواز شریف کے اقتدار سے محرومی اور طویل جلاوطنی کی صورت میں نکلا۔ کلاسرا لکھتے ہیں کہ سیاستدان اگر اقتدار کی خاطر ہر حربہ آزماتے ہیں تو جرنیل بھی اختیارات حاصل کرنے اور اپنی سپیس بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ تاریخ کا ہر گزرتا ہوا باب یہی بتاتا ہے کہ دونوں فریقیں مسلسل حدود سے تجاوز کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
سینیئر صحافی یاد دلاتے ہیں کہ جنرل جہانگیر کرامت کو 1998ء میں اسی لیے گھر بھیج دیا گیا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف کو مشترکہ فیصلہ سازی کے لیے نیشنل سکیورٹی کونسل بنانے کی تجویز پیش کی تھی۔ تب فوجی حلقوں میں یہ سوچ موجود تھی کہ نواز شریف عسکری قیادت کی سپیس کم کر رہے ہیں اور طاقت کا توازن ان کے حق می ہو رہا ہے۔ چنانچہ اسٹیبلشمنٹ اور وزیراعظم کا ٹکراؤ ناگزیر ہو گیا تھا جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ جنرل کرامت کو استعفیٰ دینا پڑا کیونکہ وہ مزید اختیارات چاہتے تھے۔ تاہم سویلین حکومت کے اس فیصلے سے فوج کی سوچ میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ جنرل جہانگیر کرامت کے بعد آنے والے تمام آرمی چیفس نے اسی ایجنڈے کو آگے بڑھایا اور نیشنل سکیورٹی کونسل کو باقاعدہ آئینی ڈھانچے کا حصہ بنوا دیا۔
رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ قسمت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ وہی نواز شریف، جو کبھی فوج کے بڑھتے ہوئے اختیارات کے شدید مخالف تھے، قومی اسمبلی میں اس ترمیم کے حق میں ووٹ دیتے دکھائی دیے جس کے تحت جنرل عاصم منیر کو چیف آف ڈیفنس فورسز بنا کر تمام عسکری طاقت ایک عہدے میں مرکوز کی جا رہی ہے۔ کلاسرا کے مطابق یہ وہی نواز شریف ہیں جو ماضی میں فوجی اثرورسوخ کے خلاف دلیلیں دیتے تھے، مگر اب اسی نظام کو آئینی حیثیت دینے میں پیش پیش نظر آتے ہیں، جو پاکستانی سیاست اور ریاستی طاقت کے ڈھانچے میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے۔
جو لڑائی گاما پہلوان نے چھوڑ دی وہ عمران نے اپنے گلے کیوں ڈالی؟
جاوید چوہدری کے مطابق سیاست دانوں اور فوج کے درمیان اقتدار و اختیار کی جنگ نے ریاستی فضا اس حد تک بگاڑ دی ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو ذہنی مریض، غدار اور دشمن قرار دینے پر اتر آئے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ملکی تاریخ کا واحد سبق یہی ہے کہ جب بھی فوج نے اختیارات کا زیادہ لالچ کیا یا سیاستدانوں نے اقتدار کے لیے اپنی روح تک کا سودا کیا، دونوں نے بھاری قیمت ادا کی۔ وہ کہتے ہیں کہ آنے والے وقت میں دیکھنا یہ ہے کہ اس جاری لڑائی کا نقصان زیادہ کس کو ہوتا ہے یعنی فوج کو یا سیاستدانوں کو؟ ان کے بقول موجودہ حالات بتا رہے ہیں کہ اس بار نقصان دونوں کا ہوگا، کیونکہ اقتدار اور اختیار کی نہ ختم ہونے والی جنگ اب ریاست کے وجود اور ملک کے استحکام کو براہ راست متاثر کر رہی ہے۔
