آزاد کشمیر کا اگلا صدر پیپلزپارٹی کا ہو گا یا نون لیگ کا؟

بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے انتقال کے بعد آزاد کشمیر کا ایوانِ صدر خالی ہوتے ہی اقتدار کے ایوانوں میں سرگوشیاں، جوڑ توڑ اور پس پردہ ملاقاتیں تیز ہوگئی ہیں۔ اسلام آباد سے مظفرآباد تک یہ سوال گونجتا سنائی دے رہا ہے کہ آزاد کشمیر کااگلا صدر کون ہوگا، منصب صدارت کیلئے کس سیاسی جماعت کا پلڑا بھاری ہے، اور سب سے اہم یہ کہ نیا صدر محض باقی ماندہ مدت پوری کرے گا یا پورے پانچ سال کے لیے ایوانِ صدر کا مکین بنے گا؟
خیال رہے کہ صدر آزاد کشمیر کے عہدے کے حصول کے لیے سیاسی سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی آچکی ہے۔ ذرائع کے مطابق مختلف سیاسی جماعتوں اور اہم شخصیات نے اسلام آباد اور مظفرآباد میں لابنگ کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ پس پردہ رابطوں اور مشاورت کا سلسلہ بھی زور و شور سے جاری ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں صدر کے عہدے کے لیے اپنے تجربہ کار اور بااثر رہنماؤں کو آگے لانے کی خواہاں ہیں۔ اس وقت سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد، راجا فاروق حیدر خان، سردار محمد یعقوب خان، سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان، سابق صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان اور سابق ترجمان دفتر خارجہ تسنیم اسلم صدارتی دوڑ میں شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق موجودہ سیاسی صورتحال میں پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ (ن) سے وابستہ کسی شخصیت کے صدر منتخب ہونے کے امکانات زیادہ دکھائی دیتے ہیں، تاہم مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق احمد بھی منصبِ صدارت کے لیے متحرک ہیں اور انھوں نے اس منصب کے حصول کیلئے سیاسی و غیر سیاسی شخصیات سے ملاقاتوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہےجبکہ دوسری جانب تمام صدارتی امیدواران کی جانب سے پارٹی قیادت، پارلیمانی اراکین اور بااثر سیاسی شخصیات سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے تاکہ مطلوبہ حمایت حاصل کی جا سکے۔
واضح رہے کہ اس وقت آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہے۔ اسی تناظر میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ آیا حکمران جماعت اپنے عددی برتری کے بل بوتے پر اپنا صدر منتخب کروا پائے گی یا نہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق صدر کے انتخاب کے لیے قانون ساز اسمبلی میں سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے جو پیپلز پارٹی کے پاس موجود ہے، اس لیے وہ بظاہر اپنا صدر منتخب کروا سکتی ہے۔ تاہم لگتا نہیں کی پیپلز پارٹی اس حوالے سے سولو فلائٹ لے گی لگتا یہی ہے کہ پیپلزپارٹی اگلے صدر آزاد کشمیر بارے فیصلہ مسلم لیگ ن سمیت تمام اتحادی سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے کرے گی۔ ماہرین کے مطابق ایوان میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے 27 ارکان کی حمایت ضروری ہے جو پیپلز پارٹی کے پاس موجود ہے، تاہم ذرائع کے مطابق بیرسٹر سلطان محمود گروپ اس وقت حکومت سے ناراض ہے۔ اگر ان کے ساتھ معاملات طے نہ ہو سکے تو پیپلز پارٹی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ نیا صدر کتنے عرصے کیلئے منتخب ہو گا؟ مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر کے صدر کے انتقال، استعفے یا مواخذے کی صورت میں نئے صدر کی مدت کے حوالے سے آئینی ماہرین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ کچھ ماہرین کے مطابق نیا صدر صرف باقی ماندہ مدت کے لیے منتخب ہوگا، جبکہ دیگر کی رائے ہے کہ نیا صدر پورے پانچ سال کے لیے عہدہ سنبھالے گا۔
واضح رہے کہ آئینی طور پر صدر ریاست کا عہدہ خالی ہونے کی صورت میں 30 روز کے اندر انتخاب ہونا ضروری ہے، تاہم اس وقت چونکہ آزاد کشمیر میں چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ بھی خالی ہے، جو انتخابی شیڈول جاری کرنے کا مجاز ہوتا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور کی جانب سے نئے چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر کی تعیناتی کے لیے تین ناموں پر مشتمل پینل چیئرمین کشمیر کونسل شہباز شریف کو ارسال کیا جا چکا ہے۔ امکان ہیں کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف جلد اس حوالے سے مشاورت کے بعد نام کی منظوری دے دیں گے جس کے بعد آزاد کشمیر کے نئے صدر کے انتخاب بارے شیڈول جاری کر دیا جائے گا۔
