کیا اپوزیشن کی مجوزہ تحریک ایک نئے مارشل لاء کی راہ ہموار کرے گی ؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے یہ اہم ترین سوال اٹھایا ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کی کوشش کیا واقعی سویلین بالادستی بحال کرنے میں کامیاب ہو گی یا ایک مرتبہ پھر بالآخر فوجی مداخلت کا سبب بنے گی؟

انگریزی روزنامہ دی نیوز میں اپنے تازہ ترین سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ پاکستان کی جمہوریت کے ساتھ ایک مشکل تاریخ رہی ہے، کیونکہ ہمارے ملک اکثر سویلین حکومت اور فوجی مداخلتوں کے درمیان جھولتا رہا ہے۔ اپوزیشن اتحاد، جو عموماً جمہوریت کی بحالی کے نام پر بنتے ہیں، ایک طرف آمرانہ حکومتوں کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں، تو دوسری طرف انہی کے لیے راستہ بھی ہموار کرتے ہیں۔ 1981 میں بحالی جمہوریت کے لیے بنائے جانے والا ایم آر ڈی اتحاد نے جنرل ضیاء کی فوجی جنتا کے خلاف مزاحمت شرور کی اور جمہوریت کی بحالی کے لیے تحریک کی بنیاد رکھی۔ اس کے برعکس، 1977 میں قائم ہونے والا قومی اتحاد دارصل تحریک نظام مصطفی کے نام پر اسلامی قوانین کے نفاذ اور ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے لیے بنایا گیا تھا، قومی اتحاد کی تحریک کے نتیجے میں ضیاء الحق نے مارشلل لگا دیا اور ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے۔ یوں پاکستان مزید سیاسی انتشار کا شکار ہونے کے بعد 11 برس تک ضیاء الحق کے مارشل لاء میں جکڑا رہا۔

سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کہ اسی طرح، 1988 میں ضیاء الحق کے ایک طیارہ حادثے میں بھسم ہو جانے کے بعد پیپلزپارٹی کے خلاف فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر بننے والا "اسلامی جمہوری اتحاد” بے نظیر بھٹو کو اقتدار میں آنے سے روکنے کی ایک واضح کوشش تھی۔ پھر 2020 میں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کا بننے والا پی ڈی ایم اتحاف ابتدا میں عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ مخالف اتحاد کے طور پر ابھرا، لیکن پھر وقت کے ساتھ یہ اتحاد نظریاتی تبدیلی کا شکار ہو گیا۔ عمران خان کی عدم اعتماد تحریک کے ذریعے برطرفی کے بعد، یہ اتحاد خود اسٹیبلشمنٹ کی گود میں چلا گیا، جو اس کے ابتدائی موقف سے بالکل متضاد ہے۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ماضی کے ان تضادات کو دیکھتے ہوئے، ایک اہم سوال جنم لیتا ہے کہ کیا اپوزیشن جماعتوں کا حالیہ "گرینڈ اپوزیشن الائنس” واقعی جمہوری بحالی اور سویلین بالادستی کے لیے کوشاں ہے، یا یہ محض اقتدار کی تبدیلی کا ایک اور ذریعہ ہے جو ایک بار۔ہھر کسی فوجی مداخلت کا سبب بن سکتا ہے؟ انکا کہنا ہے کہ اصولی طور پر، سیاسی اتحاد تقسیم شدہ معاشروں میں ایک تعمیری قوت ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ مختلف سیاسی دھڑوں کو متحد کرتے ہیں، نظریاتی خلیج کو کم کرتے ہیں اور اجتماعی اثر و رسوخ کو بڑھاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایم آر ڈی نے چھوٹے قوم پرست گروہوں کو قومی سطح پر نمایاں کیا اور صوبائی حقوق کی وکالت کی، جو بالآخر 18ویں آئینی ترمیم کی منظوری میں مددگار ثابت ہوا، اس ترمیم نے صوبوں کو زیادہ خود مختاری دی۔ اسی طرح، 2006 میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ہونے والا "چارٹر آف ڈیموکریسی” ایک تاریخی کامیابی تھی، جس نے سیاست میں فوجی اثر و رسوخ کو کم کیا اور جمہوری منتقلی کے لیے بنیاد فراہم کی۔

سینیئر صحافی کے بقول تاریخ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اپوزیشن اتحاد طرزِ حکمرانی میں تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ 1969 کی "راؤنڈ ٹیبل کانفرنس” کے نتیجے میں جنرل ایوب خان کو اپنا صدارتی نظام ترک کرنا پڑا اور 1973 میں ملک کو پارلیمانی نظام دیا گیا، جو اپوزیشن کے مسلسل دباؤ کا نتیجہ تھا۔ تاہم، سیاسی اتحاد ہمیشہ مثبت نتائج نہیں دیتے۔ 2014 کا "آزادی مارچ” اور دھرنا، جو عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کی قیادت میں انتخابی دھاندلی کے خلاف احتجاج کے طور پر شروع ہوا تھا، جمہوری نظام کو نقصان پہنچانے اور غیر جمہوری قوتوں کو مضبوط کرنے کا سبب بنا۔

ایسے میں اگر نیا "گرینڈ اپوزیشن الائنس” واقعی سویلین بالادستی اور جمہوریت کی بحالی کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے سب سے پہلے اپنی اندرونی خود احتسابی سے آغاز کرنا ہوگا۔ تحریک انصاف کو اتحاد کی سب سے بڑی جماعت ہونے کے ناطے اپنی سابقہ غلطیوں کو تسلیم کرنا ہوگا، جن میں میڈیا پر پابندیاں، سیاسی مخالفین کی گرفتاریوں اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعاون کے ذریعے سویلین سپیس محدود کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ لہٰذا عوام کیساتھ جمہوری اقدار کی پاسداری کا عوامی عہد کیے بغیر، اپوزیشن کی یہ جدوجہد محض اقتدار کے حصول کی کوشش سمجھی جائے گی۔

سہیل وڑائچ کے بقول ایک کامیاب سیاسی اتحاد کے لیے محض حکومت کو گرانا کافی نہیں ہوتا، بلکہ اسے ایک جامع حکمت عملی بھی پیش کرنی چاہیے جو جمہوری اداروں کے استحکام، آئین کی بالادستی اور شہری آزادیوں کے تحفظ پر مرکوز ہو۔ اس کے لیے قانونی اور آئینی اصلاحات پر زور دینا، ایک واضح پالیسی فریم ورک تیار کرنا اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا ضروری ہے جو صرف وقتی سیاسی مفاد کے لیے کیے جائیں۔ نئے اپوزیشن اتحاد کی سب سے بڑی کمزوری اس کے اندرونی تضادات ہیں۔ اگرچہ یہ 2024 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے، مگر اس کے اندرونی بیانیے ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ دھاندلی صرف پنجاب اور کراچی تک محدود تھی، جبکہ مولانا فضل الرحمان کی جمیعت علمائے اسلام کا الزام ہے کہ خیبر پختونخوا میں خود تحریک انصاف نے دھاندلی کی اور ایک مرتبہ پھر اقتدار میں اگئی۔ ان متضاد بیانات کے باعث اتحاد کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

اسی طرح، اپوزیشن قیادت کے عزائم بھی اتحاد کو غیر مستحکم کر سکتے ہیں۔ عمران خان مسلسل فوجی اسٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ تو بناتے ہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ فوجی مداخلت کے خلاف نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کے ذریعے ایک مرتبہ پھر سے اقتدار میں آنے کے لیے کوشاں ہیں۔ حکومت اور تحریک انصاف کے مابین حالیہ مذاکراتی عمل بھی ان کے اسی موقف کی وجہ سے ناکام رہا۔ اسی طرح نون لیگ سے علحدگی اختیار کرنے والے  سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی دوبارہ اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے وزارت عظمیٰ حاصل کرنا چاہیتے ہیں، مگر تحریک انصاف عمران خان کے سوا کسی اور کو یہ عہدہ دینے پر آمادہ نہیں ہوگی۔ مولانا فضل الرحمان، جو سیاسی چالاکیوں کے ماہر سمجھے جاتے ہیں، طویل عرصے سے صدارت کے خواہشمند ہیں اور توقع رکھتے ییں کہ تحریک انصاف انہیں اس عہدے کے لیے نامزد کرے، مگر تحریک انصاف کی کمزور پوزیشن کے باعث وہ اس قسم کی یقین دہانی کرانے کی پوزیشن میں نہیں۔ یہ باہمی مفادات اتحاد کے طویل المدتی استحکام کو مشکل بنا رہے ہیں۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف اور جمیعت علمائے اسلام کے درمیان شدید انتخابی مخاصمت اپوزیشن اتحاد کے لیے ایک اور عملی مسئلہ کھڑا کر سکتا ہے۔ یہ علاقہ روایتی طور پر ان دو جماعتوں کے درمیان تقسیم رہا ہے، جس کے باعث یہاں سیٹ ایڈجسٹمنٹ تقریباً ناممکن نظر آتی ہے۔ اگر دونوں جماعتوں کے مابیں کوئی سمجھوتہ کیا بھی گیا، تو اس سے ایک خلا پیدا ہو سکتا ہے، جسے کوئی تیسری قوت پُر کر سکتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے تحریک انصاف نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے "چارٹر آف ڈیموکریسی” کے بعد خالی ہونے والی سیاسی سپیس پر قبضہ کیا تھا۔

سینیئر صحافی کہتے ہیں کہ موجودہ اپوزیشن اتحاد میں ایک اور غیر یقینی عنصر محمود خان اچکزئی ہیں، جو ایک تجربہ کار قوم پرست سیاستدان ہیں۔ اگرچہ وہ ذاتی طور پر مفاہمت کے حامی ہیں، مگر ان کی اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ انہیں ایک متنازع شخصیت بناتا ہے۔ نواز شریف کے ساتھ 1990 سے 2018 تک ان کی قربت اب مخالفت میں بدل چکی ہے، جبکہ تحریک انصاف، جو آزاد خیال رہنماؤں کو ایڈجسٹ کرنے میں ناکام رہی ہے، پہلے ہی انہیں مذاکراتی عمل میں پیچھے دھکیل چکی ہے۔ اپوزیشن اتحاد میں ایک اور اہم مسئلہ فیصلہ سازی اور کنٹرول کا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر، عمر ایوب خان اور بیرسٹر گوہر اپنے اتحادیوں کو یقین دہانیاں کرانے میں مصروف ہیں، مگر عمران خان، جو جیل میں بیٹھ کر اتحاد کا انتظام چلا رہے ہیں، تمام معاملات کو خود کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔ اس حد سے زیادہ مرکزیت نے موجودہ اپوزیشن اتحاد کی پیش رفت کو روک دیا ہے اور اسے ایک مؤثر سیاسی پلیٹ فارم بننے سے محروم رکھا ہے۔

ملک ریاض کے خلاف کارروائی سے معیشت کو فائدہ ہوگا یا نقصان؟

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اگر تحریک انصاف اپنے اتحادیوں پر مکمل بھروسہ کرے اور انہیں مؤثر مذاکرات کا اختیار دے، تو یہ اتحاد ایک مضبوط سیاسی قوت بن سکتا ہے، پارلیمنٹ کے اندر بھی اور سڑکوں پر بھی۔ لیکن اگر یہ اپنی متضاد پالیسیوں پر قائم رہا، تو یہ ایک غیر مؤثر اتحاد ہی رہے گا۔

Back to top button