کیا پاکستانی ٹیم انڈیا کے ساتھ میچ کھیلنے پر تیار ہو گی؟

 

 

 

لاہور میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل،  پاکستان کرکٹ بورڈ اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد پاکستان اور انڈیا کے درمیان 15 فروری کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا میچ ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں، جس کے بعد دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کی نظریں آئندہ فیصلے پر مرکوز ہو گئی ہیں۔

 

اتوار کے روز لاہور میں آئی سی سی اور پی سی بی کے حکام کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں پاکستان کی جانب سے انڈیا کے خلاف مجوزہ میچ کے بائیکاٹ پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس اجلاس میں آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ، پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام شریک تھے۔ ملاقات کو اس تنازع کے حل کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم مذاکرات کا حتمی نتیجہ تاحال سامنے نہیں آ سکا۔ آئی سی سی اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے نمائندے لاہور ملاقات کے بعد اپنے اپنے ملکوں کو روانہ ہو گئے ہیں اور بنگلہ دیش نے جو مطالبات پیش کیے ہیں ان پر حتمی فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

 

اس سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر بتایا تھا کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام اور آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ پی سی بی چیئرمین محسن نقوی سے ملاقات کے لیے لاہور پہنچ گئے ہیں۔ بعد ازاں تینوں کی ملاقات کی تصاویر بھی جاری کی گئیں، جس سے ان قیاس آرائیوں کو مزید تقویت ملی کہ معاملہ کسی حل کی جانب بڑھ رہا ہے۔

 

دوسری جانب انڈین کرکٹ کنٹرول بورڈ کے نائب صدر راجیو شکلا نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے تمام فیصلے آئی سی سی کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بی سی سی آئی آئی سی سی کے کسی بھی فیصلے کو قبول کرے گا۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا تھا جب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اپنی ٹیم کی سیکیورٹی سے متعلق خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے انڈیا میں اپنے میچز نہ کھیلنے اور انہیں کسی دوسرے ملک منتقل کرنے کی درخواست کی تھی، جسے آئی سی سی نے مسترد کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد حکومت پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ وہ بنگلہ دیش کی حمایت میں 15 فروری کو انڈیا کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرے گی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی بعد ازاں اس موقف کی توثیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیصلہ بنگلہ دیش کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر کیا گیا۔

 

حکومتی فیصلے کے مطابق اگر پاکستان ٹیم انڈیا کے خلاف میچ نہیں کھیلتی تو اسے پوائنٹس کی کٹوتی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ اقدام آئی سی سی کے موجودہ ٹی وی حقوق کے معاہدوں کے لیے بھی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ پاکستان اور انڈیا کے میچز عالمی سطح پر سب سے زیادہ دیکھے جانے والے مقابلوں میں شمار ہوتے ہیں۔ مسلسل غیر یقینی صورتحال مستقبل کے میڈیا معاہدوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، جو 2027 کے ورلڈ کپ کے بعد ختم ہونے والے ہیں۔ آئی سی سی نے اس تناظر میں پہلے پی سی بی کو خبردار کیا تھا کہ بائیکاٹ کے فیصلے کے دور رس نتائج ہو سکتے ہیں۔ اس کے بعد آئی سی سی نے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ پاکستانی کرکٹ بورڈ تمام فریقین کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے باہمی طور پر قابلِ قبول حل تلاش کرنے میں مدد دے گا۔

 

چونکہ پاکستان 15 فروری کو بھارت کے ساتھ کولمبو میں میچ نہ کھیلنے کے فیصلے پر قائم تھا لہذا آئی سی سی نے اپنے ڈپٹی چیئرمین کو مسئلے کے حل کے لیے لاہور روانہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ چونکہ پاکستان کا یہ موقف تھا کہ پہلے بنگلہ دیش کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ازالہ کیا جائے لہذا بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے سربراہ کو بھی پاکستان آنے کی دعوت دی گئی۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ جب تک بنگلہ دیشی بورڈ کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے تب تک پاکستان اور انڈیا کے میچ کھیلنے یا کھیلنے کے حوالے سے کوئی پیشرفت نہیں ہو گی۔

 

یاد رہے کہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 7 فروری کو انڈیا اور سری لنکا میں شروع ہو چکا ہے اور 8 مارچ تک جاری رہے گا، جبکہ شیڈول کے مطابق پاکستان اور انڈیا کے درمیان میچ 15 فروری کو ہونا ہے۔

 

با خبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی کے توسط سے آئی سی سی اور بنگلہ دیشی بورڈ کے درمیان معاملات بڑی حد تک طے پا چکے ہیں، اور اب گیند آئی سی سی کی کورٹ میں ہے۔ ان کے مطابق عمران خواجہ ابتدا سے ہی اس تنازع کے حل میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں اور انہوں نے اتوار کو ہونے والے مذاکرات میں بھی امین الاسلام کے ساتھ کافی مثبت رویہ اپنائے رکھا۔ ادھر بھارتی حکومت کے ماؤتھ پیس کا کردار ادا کرنے والے نام نہاد صحافی انڈین سپورٹس جرنلسٹ وکرانت گپتا نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ حالیہ ملاقاتوں کے بعد بڑے فیصلے کا اعلان ہو سکتا ہے۔ یار رہے کہ وکرانت کو تب شدید خفت اٹھانا پڑی جب آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین پاکستان پہنچ گئے۔ اس سے پہلے وکرانت یہ جھوٹی خبریں پھیلا رہا تھا کہ پاکستان آئی سی سی کی منتیں کر رہا ہے۔ تو ہم عمران خواجہ کی آمد سے یہ جھوٹ بے نقاب ہو گیا اور واضح ہو گیا کہ کون کس کا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے۔

پاکستان، بنگلادیش اور آئی سی سی کے مذاکرات اختتام پذیر، بریک تھرو کا امکان

سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں، جہاں کچھ افراد فیصلے کے قریب ہونے کی بات کر رہے ہیں تو کچھ اب بھی اس تنازع کے طول پکڑنے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔

اب سب کی نظریں آئی سی سی، پی سی بی اور متعلقہ فریقین کے آئندہ اعلان پر ہیں، جو یہ طے کرے گا کہ آیا کرکٹ کی دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ 15 فروری کو میدان میں سجے گا یا نہیں۔

Check Also
Close
Back to top button