کیا FBR سے تاجروں کی گرفتاری کا اختیار واپس لے لیا جائے گا؟

فیڈرل بیورو آف ریونیو کو ٹیکس فراڈ کرنے والے تاجروں کی گرفتاری سمیت نئے اختیارات دینے پر ملک کا کاروباری طبقہ سراپا احتجاج ہے اور اس فیصلے کے خلاف ہڑتالیں بھی کی جا رہی ہیں۔ کاروباری طبقے کا مطالبہ ہے کہ ایف بی آر کو دیا جانے والا یہ اختیار واپس لیا جائے، لیکن ابھی تک یہ معاملہ طے نہیں ہو پایا۔
کاروباری افراد فنانس ایکٹ میں کی جانے والی ترامیم میں سب سے زیادہ مخالفت ٹیکس قانون کے سیکشن 37 اے اور 37 بی کی کر رہے ہیں۔ یہ سیکشنز فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام کو یہ اختیار دیتے ہے کہ وہ مبینہ ٹیکس فراڈ کیس کی تحقیقات کر کے اس میں ملوث افراد کو گرفتار کر سکیں۔
ٹیکس امور کے ماہر ذیشان مرچنٹ کے مطابق نئے طریقۂ کار کے تحت کسی فرد پر ٹیکس فراڈ کے شک کی صورت میں حکام اسے بلائیں گے کہ وہ بیان حلفی دے، کاغذات جمع کرائے اور انکوائری میں شامل ہو جائے جو کہ چھ مہینے کے اندر مکمل ہوگی۔ اس کے بعد اگر ٹیکس میں ہیر پھیر کا شک ہو تو انکم ٹیکس کمشنر رسمی تحقیقات کی منظوری دے گا، وہ ایسے فرد سے مزید دستاویزات طلب کرے گا اور اگر شواہد ناکافی ہوئے تو تحقیقات بند کر دے گا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ گرفتاری تب ہو گی اگر ٹیکس فراڈ پانچ کروڑ روپے سے زیادہ کا ہو، لیکن یہ طے ہو چکا ہے کہ ایف بی آر کی تین رکنی کمیٹی گرفتاری کی منظوری تب دے گی جب ملزم ایف بی آر کے تین نوٹسز کا جواب دینے میں ناکام ہو جائے یا مفرور ہو جائے۔
ذیشان مرچنٹ کے مطابق تحقیقات کے دوران عدالتی وارنٹ کے ذریعے بھی گرفتاری کی جا سکتی ہے۔ ملزم کو تحریری طور پر بتایا جائے گا کہ اسے کیوں گرفتار کیا جا رہا ہے اور وہ کریمینل کیسز کی طرح اس میں ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔
تاہم تاجر طبقے کی جانب فنانس ایکٹ میں ایک اور اقدام پر بھی احتجاج کیا جا رہا ہے جس میں کسی سودے پر ادائیگی پر دو لاکھ تک کیش ادائیگی کی جا سکتی ہے، لیکن دو لاکھ سے زائد پر جو کیش ادا کیا جائے گا، اسے قابل ٹیکس آمدنی شمار کیا جائے گا۔ مثلاً اگر تین لاکھ کی کیش ادائیگی کی جائے گی تو دو لاکھ سے اوپر ایک لاکھ روپے میں سے آدھی رقم پر ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔
فنانس ایکٹ کے خلاف کاروباری طبقے کے احتجاج بارے گفتگو کرتے ہوئے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر جاوید بلوانی نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں ٹیکس تنازعات اور اس کی چوری پر بننے والے کیسز میں سے 98 فیصد کا فیصلہ ٹیکس دہندگان کے حق میں آتا ہے اور صرف دو فیصد کیسز میں ٹیکس چوری ثابت ہوتی ہے۔
انھوں نے سوال اٹھایا کہ حکومتی فیصلے کے مطابق ٹیکس چوری کے الزام پر گرفتاری ہو گی، اور تاجر کے بینک اکاؤنٹس بھی منجمد کر دیے جائیں گے، لیکن اگر بعد میں کچھ ثابت نہ ہوا تو اس تاجر کی عزت اور کاروباری ساکھ کا مداوا کیسے ہو گا؟ جاوید بلوانی نے کہا یہ ایسے اقدامات ہیں جو تاجر برادری کے لیے بہت تشویش ناک ہیں اور اسی وجہ سے کاروباری افراد ہڑتال پر مجبور ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ’دو لاکھ سے اوپر کی کیش ادائیگی پر معیشت کو دستاویزی بنانے کا جو اقدام اٹھایا گیا ہے، وہ بھی بڑا عجیب ہے۔۔۔ اکانومی کو ڈاکیومنٹ کرنے کے لیے ایف بی آر کے پاس انفورسمنٹ کا شعبہ ہے۔ لیکن اس کی جانب سے کوئی کام کرنے کی بجائے ایک نیا اقدام لیا گیا ہے کہ دو لاکھ سے اوپر والی کیش ادائيگی والی رقم پر ٹیکس لگا دیا جائے۔‘ انھوں نے کہا کہ جو لوگ آج ٹیکس نیٹ میں شامل ہیں، وہ رضاکارانہ شامل ہوئے ہیں اور جو لوگ ٹیکس ادا کر رہے ہیں انھیں ہی ایسے اقدامات سے پریشان کیا جا رہا ہے۔
اس معاملے پر ٹیکس ماہرین کا کہنا ہے کہ دراصل ملک میں ٹیکس فراڈ کی تعریف میں ترمیم کی گئی ہے۔
ذیشان مرچنٹ نے بتایا کہ ٹیکس فراڈ میں ہر اس چیز کو شامل کر دیا گیا ہے جس پر پہلے صرف معمولی سزا ملتی تھی، جیسے اب غلط انوائس، غلط بینک اکاؤنٹ دینا اور غلط بینک اکاؤنٹ کھولنا سب ٹیکس فراڈ قرار دیے گئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’ٹیکس فراڈ کا دائرہ بہت وسیع ہو گیا ہے اوراس میں بہت سارے لوگ آئیں گے۔‘
مرچنٹ نے اسے ’ڈریکونین قانون‘ قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ اس کا غلط استعمال ہو سکتا ہے۔
ان کی رائے ہے کہ اب مشکلات ایسے لوگوں کے لیے پیدا ہوں گی جو پہلے سے ٹیکس سسٹم میں ہیں، لیکن جو ٹیکس فراڈ کرتے ہیں وہ ملی بھگت کے ساتھ کرتے ہیں۔ اگر اس پہلو سے دیکھا جائے تو ٹیکس ادا کرنے والا پریشان ہے کہ وہ ٹیکس دے رہا ہے اور پھر بھی مسائل کا شکار ہے اور جو سسٹم کو دھوکہ دے کر ٹیکس نہیں ادا کر رہے، وہ آزاد ہیں۔‘
ذیشان مرچنٹ نے کہا کہ ’سسٹم کو مشکل بنایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے خدشہ ہے کہ اس سال ٹیکس ریٹرن جمع کروانے والوں میں کمی ہو سکتی ہے۔‘ مرچنٹ نے کہا کہ ’دو لاکھ سے زائد کیش والا اقدام معیشت کو دستاویزی بنانے کے لیے ٹھیک ہو سکتا ہے تاہم ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایف بی آر ایک دن اٹھے اور کہے کہ فوراً سے یہ کام شروع کر دو۔ ایف بی آر کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو کچھ وقت دے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایف بی آر کو بھی لچک دکھانی ہو گی اور ٹیکس ادا کرنے والوں کو بھی ٹیکس قانون پر زیادہ عمل درآمد کرنا پڑے گا۔‘
دوسری جانب ٹیکس امور کے ماہر ڈاکٹر اکرام الحق کا کہنا تھا کہ ‘کسی ٹیکس فراڈ کے ثابت ہونے کے بعد اس میں ملوث شخص کی گرفتاری تو جائز ہے تاہم اس سے پہلے گرفتاری جائز نہیں اور اسی وجہ سے تاجر احتجاج کر رہے ہیں۔ تاہم اس معاملے پر سرکاری موقف یہ ہے کہ تاجروں سے مذاکرات میں حکومتی کمیٹی نے تاجر لیڈرشپ کی تسلی کروا دی تھی اور انہیں بتا دیا تھا کہ حکومت نے فیصلے کرتے وقت آئی ایم ایف پروگرام اور اس کی شرائط کو بھی مد نظر رکھنا ہے۔
