سزائیں عمران کی سیاست ختم کر دیں گی یا اسے زندہ کر دیں گی؟

 

 

 

عمران خان اور انکی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کرپشن ریفرنس ٹو میں 17، 17 برس قید کی سزائیں سنائے جانے کے بعد پاکستانی سیاست ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے۔ اس عدالتی فیصلے نے نہ صرف تحریک انصاف بلکہ مجموعی سیاسی منظرنامے کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا یہ سزائیں عمران خان کی سیاست کا اختتام ثابت ہوں گی یا وہ سیاسی مزاحمت کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو جائیں گے۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کرکٹ کے میدان سے سیاست کے ایوانوں تک عمران خان کا سفر اب اپنے مشکل ترین مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ ان کی سیاست زندہ رہتی ہے یا ختم ہو جاتی ہے۔ ایک ایسا رہنما جو عوامی مقبولیت کے زور پر اقتدار تک پہنچا، پھر طاقتور اداروں سے ٹکراؤ کے بعد اقتدار سے بے دخل ہوا، جیل گیا اور اب مسلسل عدالتی سزاؤں کا سامنا کر رہا ہے۔ 2018 کے عام انتخابات میں عمران خان کی کامیابی کو وسیع تر سیاسی حلقوں نے فوجی اسٹیبلشمنٹ سے قربت کا نتیجہ قرار دیا تھا۔ تب یہ تاثر عام تھا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد سے آر ٹی ایس سسٹم کو بٹھا کر انتخابی نتائج کو انجینیئر کیا گیا اور عمران کو وزیراعظم بنایا گیا، تاہم جب انہی اداروں سے ان کے اختلافات بڑھے تو نہ صرف انکی حکومت ختم ہوئی بلکہ وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی پہنچ گئے۔

 

عمران خان نے سیاست میں قدم ایسے وقت میں رکھا جب پاکستان میں روایتی سیاسی جماعتوں، خاندانی سیاست اور کرپشن کے بیانیے سے عوام، خصوصاً نوجوان طبقہ، سخت بیزار ہو چکا تھا۔ تحریک انصاف نے خود کو ایک متبادل سیاست کے طور پر پیش کیا، جس کا محور احتساب، شفافیت اور قومی خودداری تھا۔ 2011 کے بعد عمران خان کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور وہ تیزی سے ایک عوامی لیڈر کے طور پر ابھرے۔ 2018 کے انتخابات میں ان کی کامیابی کو اگرچہ اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے جوڑا گیا، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ اس وقت عوامی سطح پر ایک مضبوط سیاسی قوت بن چکے تھے۔

 

اقتدار میں آنے کے بعد عمران خان کے دور کو ایک ’ہائیبرڈ نظام حکومت‘ قرار دیا گیا، جس میں وزیراعظم کے ساتھ اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو مرکزی فیصلہ سازوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ خارجہ پالیسی، احتسابی عمل اور داخلی سلامتی کے معاملات میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ہم آہنگی کا تاثر دیا جاتا رہا۔ خود عمران کئی مواقع پر فوج کی غیر جانبداری کی تعریف کرتے رہے اور جنرل باجوہ کو ایک پروفیشنل اور غیر سیاسی فوجی سربراہ قرار دیتے رہے۔ تاہم یہ تعلقات 2021 کے بعد تیزی سے بگڑنے لگے، خاص طور پر جب ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔

 

لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی تعیناتی کے فیصلے نے دونوں کے درمیان خلیج کو نمایاں کر دیا۔ جب فوجی اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کی حمایت واپس لینے کا فیصلہ کیا تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے مشترکہ طور پر تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کیا۔ اپریل 2022 میں عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے عمران خان کی حکومت کا خاتمہ ہوا، جس کے بعد انہوں نے اسے امریکی سازش قرار دیتے ہوئے براہِ راست فوجی اسٹیبلشمنٹ سے وابستہ اہم ترین شخصیات پر الزامات عائد کرنا شروع کر دیے، جنہیں وہ ماضی میں اپنا محسن قرار دیتے رہے تھے۔

 

یہ وہ موڑ تھا جہاں عمران خان پاکستانی سیاست میں ایک نئے کردار میں ایسے لیڈر کے طور پر سامنے آئے جو طاقتور اداروں کو للکار رہا تھا۔ تاہم اس بیانیے کا نتیجہ وہی نکلا جو ماضی میں پاکستان کی سیاست میں اکثر نکلتا رہا ہے۔ 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے بعد تحریک انصاف شدید دباؤ کا شکار ہو گئی اور عمران جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ گئے۔ اس کے بعد عدالتی فیصلوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔ پہلے توشہ خانہ کرپشن ریفرنس ون اور 190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان کو 14، 14 برس قید کی سزائیں سنائی گئیں، اور اب توشہ خانہ ٹو کرپشن کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 17، 17 سال قید کی سزا دے دی گئی ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق سعودی عرب کے دورے کے دوران ملنے والے قیمتی تحائف، خصوصاً بلغارین جیولری سیٹ، کو توشہ خانہ میں جمع نہ کروانا اختیارات کے ناجائز استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔

 

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جیولری سیٹ کی اصل مالیت کروڑوں روپے تھی، تاہم اسے دانستہ طور پر کم قیمت پر ظاہر کیا گیا، جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔ فیصلے میں عمران خان کی عمر کو مدنظر رکھتے ہوئے سزا میں نرمی کا ذکر بھی کیا گیا۔ حکومت نے اس فیصلے کو انصاف کی فتح قرار دیا ہے، جبکہ تحریک انصاف نے اسے سیاسی انتقام اور منظم دباؤ کا نتیجہ قرار دیا۔ سوشل میڈیا پر ردعمل شدید اور واضح طور پر منقسم نظر آ رہا ہے۔ ایک جانب عمران خان کے حامی اسے ایک مقبول سیاسی رہنما کو سیاست سے باہر کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ احتساب سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے، چاہے کوئی کتنا ہی طاقتور یا مقبول کیوں نہ ہو۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جیلیں ہمیشہ سیاستدانوں کو کمزور نہیں کرتیں۔

 

ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر نواز شریف تک، قید اور سزاؤں نے کئی رہنماؤں کو وقتی طور پر تو کمزور کیا، مگر ان کے سیاسی بیانیے کو مزید تقویت بھی ملی۔ تحریک انصاف سے ہمدردی رکھنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ عمران خان بھی اسی مرحلے پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جہاں طویل قید انہیں عملی سیاست سے دور تو رکھ سکتی ہے، مگر ان کی مقبولیت اور مزاحمتی سیاست کا بیانیہ مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔ تاہم سیاسی تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ تحریک انصاف اس وقت شدید تنظیمی اور قیادتی بحران کا شکار ہے۔ پارٹی کے کئی اہم رہنما سیاست چھوڑ چکے ہیں، کئی جیل میں ہیں جبکہ کچھ نے خاموشی اختیار کر لی ہے۔ عمران خان کی طویل سزا پارٹی کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف عمران خان کے بغیر مؤثر سیاسی کردار ادا کر سکے گی۔

سہیل وڑائچ کا اسٹیبلشمنٹ کو جبر کی بجائے صبر کا مشورہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر تحریک انصاف عمران خان کو محض ایک شخصیت کے بجائے ایک نظریے کے طور پر پیش کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پارٹی زندہ رہ سکتی ہے، لیکن اگر ساری سیاست ایک ہی نام کے گرد گھومتی رہی تو تنظیمی کمزوری مزید گہری ہو جائے گی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران کی سزا نے پہلے سے موجود سیاسی پولرائزیشن کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایک طرف ریاستی اداروں اور حکومت کا بیانیہ ہے، جبکہ دوسری جانب عوامی مقبولیت اور سوشل میڈیا کی طاقت سے لیس ایک سیاسی جماعت کھڑی ہے۔ یہ صورتحال جمہوری عمل، عدالتی ساکھ اور سیاسی استحکام کے لیے ایک سنجیدہ امتحان بن چکی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ محض ایک قانونی معاملہ نہیں بلکہ پاکستان کی سیاسی سمت کا تعین کرنے والا واقعہ ہے۔ تحریک انصاف، حکومت، عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ اس وقت تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔ آنے والا وقت ہی یہ طے کرے گا کہ عمران خان کی سیاست کا یہ باب اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے یا یہ ایک نئے اور مزید طاقتور سیاسی بیانیے کا آغاز ثابت ہو گا۔

Back to top button