کیا سپریم کورٹ تاحیات نااہلی کیخلاف پٹیشن قبول کرے گی؟

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے منتخب عوامی نمائندوں کی تاحیات نااہلی کے خلاف پٹیشن دوبارہ داخل کئے جانے کے بعد قانونی اور سیاسی حلقوں میں یہ بحث شروع ہو چکی ہے کہ کیا اس بار پاکستان کی سب سے بڑی عدالت اس اہم ترین قانونی نکتے کی تشریح پر راضی ہوگی یا نواز شریف کے چوتھی بار وزیراعظم بننے کا راستہ بدستور بند رہے گا؟
اس درخواست کو قبول کرنے اور تاحیات نااہلی کو غلط قرار دینے کے نتیجے میں نواز شریف اور جہانگیر خان ترین کے علاوہ بھی کئی اور نااہل قرار دیے جانے والے افراد دوبارہ پارلیمنٹ کا حصہ بننے کے اہل ہو جائیں گے۔ یاد رہے کہ نواز شریف کو 28 جولائی 2017 کو پاناما پیپرز کیس میں اور جہانگیر ترین کو 15 دسمبر 2017 کو حنیف عباسی کیس کے فیصلوں میں قانون ساز بننے سے نااہل قرار دیا گیا تھا، تاہم اس وقت ان کی نااہلی کی مدت نہیں بتائی گئی تھی۔ بعد ازاں ایک خصوصی بینچ نے قرار دیا تھا کہ تاحیات نااہلی سے مراد عمر بھر کے لئے نااہلی ہے۔
اب اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ بار میدان میں اتری ہے تاہم عدالت عظمیٰ نے اس کی جانب سے دائر کردہ پہلی پٹیشن اعتراضات لگا کر مسترد کردی تھی۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے تاحیات پابندی سے متعلق درخواست رجسٹرار آفس کی جانب سے واپس کرنے کے فیصلے کو چیلنج کر دیا ہے۔ درخواست میں عدالت عظمیٰ سے اپنے اس سابقہ حکم پر نظرثانی کرنے کی استدعا کی گئی ہے جس میں انہوں نے آئین کے آرٹیکل 62 (1 ایف) کے تحت سیاستدانوں کو تاحیات نااہل قرار دیا تھا۔
سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے سپریم کورٹ بار کی درخواست کو 29 جنوری کو ناقابلِ سماعت قرار دے کر واپس کر دیا تھا، اور کہا تھا کہ سپریم کورٹ کا 5 ججوں پر مشتمل بینچ 2018 کے سمیع اللہ بلوچ کیس میں پہلے ہی اس معاملے کا فیصلہ کر چکا۔ سپریم کورٹ بار کی اپیل میں رجسٹرار کے فیصلے کو معطل کر کے اس کی اصل درخواست کو نمٹانے کے لیے معاملہ عدالت عظمیٰ کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، یہ درخواست بار کے صدر محمد احسن بھون کی جانب سے ایڈووکیٹ منصور عثمان اعوان نے دائر کی ہے۔
اپوزیشن PMLQ اور MQM کے بغیر بھی کامیاب ہو جائے گی
ایس سی بی اے کی اپیل میں دلیل دی گئی ہے کہ موجودہ آئینی پٹیشن نہ صرف سینیٹ کے انتخابات کے لیے اہلیت سے متعلق ہے بلکہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں سمیت کسی بھی منتخب دفتر کے رکن کی اہلیت سے بھی متعلق ہے۔ اس طرح پٹیشن میں اٹھائے گئے نکات کے ذریعے عوامی اہمیت کے سوال کا اطمینان بخش جواب دیا گیا ہے اور اسے ثابت کرنے کے لیے اپیل میں 1988 کے بے نظیر بھٹو اور 1996 کے شاہدہ ظہیر عباسی کے مقدمات کا حوالہ دیا گیا ہے، تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ آئین کے آرٹیکل 184(3) کی تشریح کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ہمیشہ آزادانہ اور وسیع سوچ کی پیروی کی ہے۔
اپیل میں بنیادی حقوق کے نفاذ بارے وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے ماضی میں کہا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی غیر معمولی اصل دائرہ اختیار کو استعمال کرنے کے لیے کافی ہے، آرٹیکل 17 سیاسی جماعت بنانے کے حق کے ساتھ الیکشن لڑنے اور حکومت بنانے کے حق کو یقینی بناتا ہے۔ سپریم کورٹ بار نے دلیل دی ہے کہ موجودہ پٹیشن آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح سے متعلق آرٹیکل 17 کے تحت دیے گئے حقوق کی روشنی میں آئین کے آرٹیکل چار، نو اور 10 اے کے ساتھ پڑھی جاتی ہے۔
اپیل میں کہا گیا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کا متن نااہلی کی مدت کے بارے میں خاموش ہے، کیونکہ نا اہلی کو مستقل یا دائمی قرار دینا آئین کی زبان میں بیان نہیں کیا گیا، اس لیے فیصلے کے تحت آرٹیکل 17 کے تحت ضمانت یافتہ امیدواروں کے حقوق کو غیر مناسب حد تک کم کیا گیا۔
مزید برآں، درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات یا دائمی نااہلی کسی حلقے کے ووٹر کے لیے دستیاب انتخابی آپشن کو بہت محدود کر دیتی ہے، چاہے وہ انتخاب پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلی یا مقامی حکومت کے لیے ہو، اس آرٹیکل کے تحت تاحیات نا اہلی سے شہری، ووٹرز حق رائے دہی کے آزادانہ استعمال اور اپنی مرضی کے مطابق اپنے نمائندوں کا انتخاب کرنے سے بھی محروم ہوجاتے ہیں۔
انفرادی شکایت کے بارے میں اپیل میں استدلال کیا گیا ہے کہ ایس بی سی اے وکلا برادری کا ایک اعلیٰ ترین نمائندہ ادارہ ہے جس کی پاکستان میں فعال اور متحرک جمہوریت میں براہ راست دلچسپی ہے، مزید یہ کہ ایسوسی ایشن کے کئی ممبران ہیں جو موجودہ، سابق اور ممکنہ طور پر مستقبل میں کسی منتخب ادارے بشمول سینیٹ، قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیاں اور مقامی حکومتیں کے نمائندے ہوسکتے ہیں۔
ایس بی سی اے کی اپیل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس طرح درخواست گزار کی جانب سے طلب کیا گیا ریلیف کسی فرد کے لیے مخصوص نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق ہر اس شخص سے ہے جو آئین کے ذریعے قائم کردہ نمائندہ جمہوریت میں دلچسپی رکھتا ہے۔
