کیا امریکہ بھٹو دور کی طرح ایران میں رجیم چینج کر پائے گا؟

 

 

 

تاریخ میں کسی بھی لیڈر کی عظمت کا تعین اس کی جیت یا ہار سے نہیں ہوتا بلکہ اس بات سے ہوتا ہے کہ اس نے اپنے دشمن کیساتھ جنگ کتنے جذبے، استقامت اور دلیری کے ساتھ لڑی۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید سے لے کر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید تک، کئی مسلم رہنماؤں نے اپنے ملک اور اپنی قوم کی بقا کی خاطر یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی امریکہ سے دشمنی مول لی کہ اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنی جانیں قربان کر دیں لیکن اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ تاریخ میں ایسے کردار ہی مزاحمت اور استقلال کی علامت بنتے ہیں۔

 

معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ لاطینی امریکہ سے ایران تک سامراجی طاقتوں کی زور زبردستی سے ’رجیم چینج‘ کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ لہٰذا پچھلے کئی برسوں سے ایران کے خلاف جو کچھ ہوتا رہا، اس پر ہمیں حیرانی نہیں ہونی چاہیے۔ البتہ وہاں کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں شہادت نے ایک بار پھر ایرانی قوم کو متحد کر دیا ہے اور صدر ٹرمپ کا ’رجیم چینج‘ کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوتا نظر نہیں آتا۔

 

مظہر عباس کے مطابق ایران میں قیادت کا ڈھانچہ ایسا ہے کہ اگر ایک رہنما کو مٹا دیا جائے تو دوسرا سامنے آ جاتا ہے۔ تاہم اس جنگ نے بہت سے ایسے ممالک کو بھی بے نقاب کر دیا جن کی سرزمین طویل عرصے سے ’امریکی اڈوں‘ کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔ اب یہی ممالک ایران کے میزائل حملوں کی زد میں ہیں۔ مظہر عباس کہتے ہیں کہ آخر کوئی تو وجہ ہوگی کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے راولپنڈی کے راجہ بازار میں خطاب کرتے ہوئے اپریل 1977 میں امریکہ کو ’سفید ہاتھی‘ سے تشبیہ دی اور کہا تھا کہ ’یہ ہاتھی میری جان کے درپے ہے کیونکہ میں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا ہے۔ آنے والے برسوں میں امریکی سامراج نے جنرل ضیاء الحق کے ذریعے ایک ایسے شخص کو پھانسی دے کر راستے سے ہٹا دیا جس نے 1974 میں ’اسلامک بلاک‘ کا تصور پیش کیا تھا۔

 

سینئیر صحافی کے بقول اہم بات یہ نہیں کہ آپ نے جنگ جیتی یا ہاری، بلکہ یہ ہے کہ آپ نے وہ جنگ کیسے اور کتنی بہادری سے لڑی۔ آج کا ایران شاہ کے ایران سے بہت مختلف ہے اور شاید اب رضا پہلوی جیسے افراد کی ایران میں واپسی کا تصور ’دیوانے کا خواب‘ معلوم ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ 1979ء کے ایرانی انقلاب سے لے کر آج تک ایران اندرونی اور معاشی طور پر مکمل طور پر مستحکم نہیں رہا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ امام خمینی کے دور سے ہی وہاں سیاسی کشمکش جاری رہی، چاہے وہ کمیونسٹ تودہ پارٹی ہو یا مجاہدین خلق۔ مگر جب ایران پر بیرونی حملہ ہوا تو انہی اختلافی حلقوں نے بھی اسے بیرونی جارحیت قرار دے کر مسترد کیا اور ’ رجیم چینج‘ کے امریکی اور اسرائیلی منصوبے کے خلاف متحد ہو گئے۔

 

سینیئر صحافی کے مطابق ایران میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب ایرانی پارلیمنٹ کو دھماکوں سے اڑا دیا گیا، مگر قوم پھر بھی متحد رہی۔ تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے کے وقت جو ’خفیہ دستاویزات‘ برآمد ہوئیں، ان میں بعض پاکستانی کاغذات بھی شامل تھے۔ انہیں پڑھ کر اس خطے میں امریکی عزائم کا اندازہ لگانا مشکل نہیں، خواہ وہ پاکستان ہو یا افغانستان۔ پاکستان میں 1977 کی ’رجیم چینج‘ کے پس منظر میں بھی وہی طاقتیں کارفرما دکھائی دیتی ہیں، اور پھر بھٹو کی پھانسی کا معاملہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ مظہر عباس کہتے ہیں کہ ایران ’خمینی سے خامنہ ای تک‘ مزاحمت کی علامت دکھائی دیتا ہے۔ البتہ وہاں ’رجیم چینج‘ کا اپنا ایک داخلی طریقۂ کار بھی موجود ہے، جس کی بڑی مثال ہر پانچ سال بعد صدر اور شوریٰ کے انتخابات ہیں، جو ان کے اپنے نظام کے تحت منعقد ہوتے ہیں اور روایتی پارلیمانی نظام سے مختلف ہیں۔

 

امام خمینی کی وفات کے بعد 1989ء میں آیت اللہ خامنہ ای کو ایران کا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا اور یہ عہدہ ان کے پاس شہادت تک رہا۔ یہ سب رہنما کسی نہ کسی مرحلے پر انقلابِ ایران کی تحریک سے وابستہ رہے۔ سادہ طرزِ زندگی ایران کے سیاسی مزاج کا حصہ رہا ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ جب امام خمینی جلاوطنی ختم کر کے واپس آئے تو انہوں نے شاہی محل کے بجائے سادہ زندگی اختیار کی، جس نے ایک عام ایرانی کو متاثر کیا۔ بعد کے ایرانی حکمرانوں کا طرزِ حکمرانی بھی کم و بیش اسی روایت کا تسلسل رہا۔ کاش ہماری اشرافیہ اس کا صرف دو فیصد ہی اپنا لے۔

 

سینیئر صحافی کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کے دور میں ایران کو اپنے نیوکلیئر پروگرام کی وجہ سے بدترین معاشی پابندیوں اور اقتصادی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ تمام تر یقین دہانیوں اور بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری کے باوجود امریکہ کے زیر اثر اقوامِ متحدہ کی سخت اقتصادی پابندیاں عائد رہیں۔ سامراج کسی بھی ایسے نظام کو برداشت نہیں کرتا جو دنیا میں مزاحمت کی علامت بن جائے۔ چنانچہ خامنہ ای اور ایرانی قیادت پر دباؤ بڑھتا گیا اور بالآخر وہی ہوا جس کی تلاش میں امریکی اور اسرائیلی حلقے ابتدا ہی سے تھے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بعض ملکوں کے برعکس ایران میں قیادت کی شہادت ایک نئی قیادت کو جنم دے دیتی ہے۔

 

مظہر عباس کے مطابق گزشتہ تین دہائیوں کے دوران، ہم نے ’رجیم چینج‘ کے تصور کو پاکستان سے عراق، شام سے لیبیا اور مصر تک عملی صورت میں دیکھا ہے۔ کہیں لیڈر قتل کیے گئے اور کہیں حکومتیں ختم کر دی گئیں۔ شاہ فیصل، یاسر عرفات، معمر قذافی اور دیگر رہنما ایک ہی سلسلے کی کڑیاں محسوس ہوتے ہیں۔ عراق میں صدام حسین کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس کی پالیسیوں سے اختلاف کے باوجود، اسے جھوٹ اور فریب پر مبنی قرار دیا جاتا ہے۔ دنیا میں پہلی بار کسی سربراہِ مملکت کی پھانسی کو براہِ راست دکھایا گیا، مگر عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش رہیں۔

مظہر عباس کے مطابق آج کی دنیا نائن الیون کے حملوں کے بعد نہیں بلکہ 1979ء کے بعد تبدیل ہونا شروع ہوئی۔ ایک بار امریکہ کے دورے کے دوران ایک پریس بریفنگ میں انہوں نے امریکی ترجمان سے سوال کیا: ’’کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ نائن الیون کے بعد امریکہ نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے دنیا بھر میں کھربوں ڈالر خرچ کیے، کیا دہشت گردی ختم ہوئی، کم ہوئی یا بڑھی؟‘‘ ترجمان کچھ دیر خاموش رہا، پھر بولا: ’آپ درست کہہ رہے ہیں، وہ بڑھی ہے، تاہم ہم اسے ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

 

سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے خاندان کے کئی افراد اور اہم کمانڈرز کی شہادت ایرانی قیادت کے لیے بے شمار سوالات چھوڑ گئی ہے۔ مگر ایک بات واضح ہے کہ امریکہ کسی بھی حوالے سے قابلِ اعتماد نہیں سمجھا جاتا۔ یہ جنگ بھی ایسے وقت شروع ہوئی جب مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی تھی۔ اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے تو ’اسرائیلی منصوبہ‘ بے نقاب ہو سکتا تھا۔ اگر ایران کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے تو حماس کے ساتھ کیوں نہیں؟

ایران میں زمینی افواج بھیجے بغیر ریجیم چینج ممکن کیوں نہیں؟

وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا اب ’بورڈ آف پیس‘ جیسے نعروں پر اعتماد کیا جا سکتا ہے؟ غزہ میں ہزاروں فلسطینی، جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں، شہید کر دیے گئے۔سامراجی ’رجیم چینج‘ کے تصور نے دنیا کو آج نہیں بلکہ برسوں سے غیر محفوظ بنا رکھا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آج وہ سامراجی طاقتیں اور ان کے اتحادی زیادہ واضح طور پر بے نقاب ہو رہے ہیں۔

Back to top button