کیا ایران کے خلاف جنگ پورے مڈل ایسٹ میں پھیل جائے گی ؟

اسرائیل اور امریکہ کے جانب سے ایران پر مشترکہ فضائی اور میزائل حملوں کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ تاریخ کے ایک انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ ان حملوں سے نہ صرف خطے میں طاقت کا توازن بگڑ گیا ہے بلکہ ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی موت نے صورتحال کو ایک فیصلہ کن اور خطرناک موڑ پر پہنچا دیا ہے۔ اب اس خدشے کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ ایران پر حملوں کے نتیجے میں شروع ہونے والی جنگ پورے مشرق وسطی میں پھیل سکتی ہے۔
تہران نے اس کارروائی کو کھلا اعلانِ جنگ قرار دیتے ہوئے فوری اور وسیع جوابی حملوں کا آغاز کر دیا ہے، جسکے نتیجے میں پورا مشرقِ وسطیٰ عملی طور پر ایک ہمہ گیر جنگ کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ یہ حملے ایک ایسے وقت میں کیے گئے جب عمان کی میزبانی میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری تھے۔ مسقط اور جنیوا میں سفارتی رابطے بحال تھے اور عمان کے وزیر خارجہ کی جانب سے یہ عندیہ دیا گیا تھا کہ پیش رفت ممکن ہے اور امن دسترس میں ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ وہ جوہری پروگرام کے بارے میں عالمی برادری کو یقین دہانی کرانے کے لیے تیار ہیں، اگرچہ بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اپنے اتحادی گروہوں کی حمایت کو مذاکرات سے الگ رکھا گیا تھا۔
تاہم انہی سفارتی کوششوں کے دوران اچانک اسرائیلی۔امریکی حملوں نے تہران میں اس تاثر کو تقویت دی کہ مذاکرات محض وقت حاصل کرنے اور عسکری تیاری مکمل کرنے کی حکمت عملی تھے۔ ایرانی ذرائع یاد دلاتے ہیں کہ ماضی میں بھی ایسے مواقع پر حملے کیے گئے جب امریکہ اور ایران کے مابین پسِ پردہ بات چیت جاری تھی، یعنی مذاکرات کا مقصد صرف دھوکہ دہی ہے۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی 2018 میں آئی جب امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدارت میں ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ تہران نے اسے بدعہدی قرار دیا جبکہ واشنگٹن نے ایران پر خطے میں عدم استحکام پھیلانے، داخلی سطح پر سخت اقدامات کرنے اور مسلح گروہوں کی حمایت کے الزامات عائد کیے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت نے ایران کے اندر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ سرکاری سطح پر اسے شہادت قرار دیا گیا ہے اور ملک بھر میں بڑے پیمانے پر اجتماعات اور احتجاج دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی جا رہی ہے اور ریاستی میڈیا اس واقعے کو قومی خودمختاری پر حملہ قرار دے رہا ہے۔ ایرانی آئین کے مطابق مجلس خبرگان نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کرے گی، تاہم عبوری مرحلے میں ریاستی ادارے اور پاسدارانِ انقلاب زیادہ فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس واقعے نے داخلی سیاسی اختلافات کو وقتی طور پر پسِ پشت ڈال کر قومی اتحاد اور مزاحمتی بیانیے کو تقویت دی ہے۔
ایران نے جوابی کارروائی میں کم از کم پانچ خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا ہے جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور کویت میں امریکی عسکری تنصیبات پر میزائل داغے گئے ہیں، جبکہ عمان میں موجود امریکی مفادات کو بھی ممکنہ ہدف قرار دیا گیا ہے۔
ان حملوں کے بعد خطے بھر میں فضائی دفاعی نظام متحرک ہو چکے ہیں، متعدد ممالک نے اپنی فضائی حدود بند یا محدود کر دی ہیں، اور خلیج فارس و آبنائے ہرمز کی صورتحال غیر یقینی ہو گئی ہے۔ عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور توانائی کی منڈیاں شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ اسرائیل پر ایرانی میزائل حملے جاری ہیں جبکہ اسرائیلی فضائیہ ایران کے عسکری اور جوہری مراکز کو نشانہ بنا رہی ہے۔ لبنان میں موجود تنظیم حزب اللہ نے اسرائیل کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا ہے جس سے شمالی محاذ کھلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ یمن میں سرگرم حوثی موومنٹ نے بحیرہ احمر میں بحری آپریشنز معطل کرنے کی دھمکی دی ڈالی ہے، جبکہ عراق اور شام میں موجود ایران نواز مسلح گروہ بھی امریکی مفادات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ادھر ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس طرح یہ تصادم اب دو یا تین ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ اس کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔
یورپی ممالک فوری جنگ بندی کی اپیل کر رہے ہیں، مگر زمینی صورتحال اس کے برعکس اشارہ دے رہی ہے۔ عالمی حصص بازاروں میں غیر یقینی کی فضا ہے، تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات یورپ اور ایشیا تک محسوس کیے جائیں گے۔ سیاسی اور عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران پر ان تازہ حملوں کا بنیادی مقصد محض جوہری پروگرام کو محدود کرنا نہیں بلکہ ایران میں نظام کی تبدیلی، یعنی رجیم چینج، ہے۔ ان کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنانا بھی اسی وسیع حکمت عملی کا حصہ تھا تاکہ قیادت کے خلا اور سیاسی عدم استحکام کے ذریعے نظام کو کمزور کیا جا سکے۔
خامنہ ای کا قتل: ملک گیر مظاہرے، کراچی میں لوگ کس نے مارے؟
تاہم تجزیہ کار اس رائے سے اختلاف کرتے ہیں کہ خامنہ ای کی موت کے بعد امریکہ کی خواہش پر ایران میں فوری طور پر نظام تبدیل کیا جا سکے گا۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایرانی ریاستی ڈھانچہ گہرائی تک منظم اور نظریاتی بنیادوں پر قائم ہے، اور اس واقعے نے ایران میں امریکہ مخالف جذبات کو جنگل کی آگ کی طرح پھیلا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں بیرونی دباؤ کے نتیجے میں نظام کی تبدیلی کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں، بلکہ اس کے برعکس سخت گیر پالیسیوں، علاقائی کشیدگی اور طویل مزاحمت کے امکانات زیادہ روشن ہو گئے ہیں۔ موجودہ بحران اسی گہرے تصادم کی علامت ہے جس کے اثرات آنے والے برسوں تک عالمی سیاست اور معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
