عدم اعتماد کی بال پر چھکا لگے گا یا کپتان کی وکٹ اڑے گی؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار فہد حسین نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد فائنل راونڈ میں داخل ہو چکی ہے اور اطلاع ہے کہ اپوزیشن نے اپنی نمبرز گیم پوری کر لی ہے۔ بساط بچھ چکی ہے۔ آخری گیند پر چھکا بھی لگ سکتا ہے اور وکٹ بھی اڑ سکتی ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں فہد حسین کہتے ہیں کہ اپوزیشن عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے کے لئے تیار ہے اور کسی بھی وقت طبل جنگ بج سکتا ہے۔ نمبرز گیم پر روشنی ڈالتے ہوئے فہد حسین بتاتے ہیں کہ اپوزیشن کی اصل تعداد 163 ہے لیکن اس میں دو ارکان کی کمی ہو سکتی ہے۔ ایم این اے علی وزیر تاحال جیل میں ہیں اور شاید ووٹ نہ دے سکیں۔
PPP کے ایک رکن قانونی وجوہات کی بنا پر باہر ہیں اور حالات انہیں واپسی کی اجازت نہیں دیتے۔ لہٰذا وزیر اعظم عمران خان کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لئے اپوزیشن کو ووٹنگ والے دن 9 سے 11 مزید اراکین قومی اسمبلی کی ضرورت ہوگی۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس سے زیادہ نمبرز موجود ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ انہیں تعداد پوری کرنے کے لئے حکومتی اتحادیوں MQM، PMLQ، GDA اور BAP کی ضرورت نہیں ہے۔ یعنی ان کے پاس PTI کے اندر سے لوگ موجود ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر اتحادیوں میں سے کوئی ساتھ آ گیا تو یہ انکے لیے بونس ہوگا۔
لیکن فہد کے بقول سوال یہ ہے کہ PTI کے اراکین اسمبلی کیسے اپوزیشن کے ساتھ چلے جائیں گے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ اپوزیشن نے باغی PTI ارکان کے ساتھ ایک ڈیل کی ہے۔ انہوں نے PMLN سے ٹکٹوں کا تقاضا کیا ہے کیونکہ ان کے نزدیک PTI کا ٹکٹ انہیں اب پنجاب میں اگلا الیکشن نہیں جتوا سکتا۔ PMLN نے اپنا ہوم ورک مکمل کر لیا ہے اور ان PTI ارکان کو متعلقہ حلقوں میں جگہ دے دی گئی ہے۔ ان حلقوں میں PMN کے اپنے امیدوار پارٹی کے ساتھ رابطے میں رہے ہیں اور انکو انفرادی طور پر کچھ مراعات دینے کے وعدے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈیل یہاں بھی ہو چکی ہے۔
دوسری جانب فہد حسین کا کہنا ہے کہ اس سارے کھیل میں اب تک امپائر نیوٹرل ہے۔ اپوزیشن کا اب تک ماننا یہی ہے۔ اسی لئے اپوزیشن کو بھی حوصلہ ہوا ہے کہ وہ عمران مخالف اراکین اسمبلی کی تعداد پوری کرنے کا عمل آگے بڑھائے کیونکہ اب تو ماضی کی طرح منحرف ہونے والوں کو فون کالز بھی نہیں آ رہیں۔ حکومتی اتحادی اب تک کھلے عام اپوزیشن کی طرف نہیں بڑھے ہیں لیکن PDM رہنماؤں کو یقین ہے کہ جب وہ دیکھیں گے کہ حکومت جا رہی ہے، اپوزیشن کی نمبرز گیم پوری ہو چکی ہے اور بھائی لوگ بھی نیوٹرل ہیں تو ان میں سے کچھ اراکین مذید ضرور ٹوٹیں گے۔ لیکن پھر تحریکِ عدم اعتماد لانے میں دیر کس بات کی ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے فہد حسین کہتے ہیں کہ اپوزیشن کے کچھ حلقوں میں شکست کا خوف ابھی موجود ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ انہیں پتہ ہے نمبرز ان کے پاس ہیں لیکن اگر موقع پر یہ نمبرز نہ رہے تو کیا ہو گا؟
اگر یہ نمبرز خاموشی سے حکومت کی طرف چل پڑے تو کیا ہو گا؟ اگر اپوزیشن سے کوئی دھوکا ہو گیا تو کیا ہو گا؟ ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ اپوزیشن سو فیصد کامیابی کا یقین ہو جانے کے بعد آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ لہذا وہ مطلوبہ اراکین اسمبلی سے دوگنا لوگوں کو اپنے ساتھ ملانا چاہتے ہے تاکہ اگر ان میں سے کچھ لوگ آخری وقت پر کم بھی ہو جائیں تو بھی 172 کا جادوئی ہندسہ عبور کرنے میں مشکل پیش نہ آئے۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ وہ خیبر پختونخوا سے کچھ PTI ارکان کو اپنی طرف لا سکتے ہیں جب کہ PPP سندھ میں ایسی ہی کوششوں میں مصروف ہے۔ آصف زرداری کا ماننا ہے کہ اگر سب کچھ پلان کے مطابق ہوا تو یہ تعداد 190 تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ ایک مشکل ہدف ہے لیکن اس کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں
۔
ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کو پتہ ہے کہ اس کے کون سے ارکان اپوزیشن کی طرف جا سکتے ہیں؟ فہد حسین کے بقول حکومت کو اندازہ ہے کہ تحریک انصاف کے کونسے ممبران قومی اسمبلی بغاوت کر سکتے ہیں۔ ان ارکان سے اپوزیشن کے رابطے خاموشی سے جاری ہیں لیکن اتنی خاموشی سے بھی نہیں کہ حکومتِ وقت اپنے تمام وسائل کے باوجود ان کا پتہ نہ لگا سکے۔
کچھ ممبران اسمبلی ایسے بھی ہیں جو ابھی فیصلہ نہیں کر سکے ہیں اور اپنے آپشنز پر غور کر رہے ہیں لیکن اپوزیشن کا کہنا ہے کہ وہ اپنی نمبرز گیم میں ان لوگوں کو نہیں گن رہی جن کو اب تک کوئی کنفیوژن ہے۔
فہد حسین کا کہنا ہے کہ اپوزیشن میں کامیابی کے تمام تر اعتماد کے باوجود کچھ معاملات پر ابہام موجود ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ باقی تمام فیصلوں کو بعد پر چھوڑتے ہوئے ابھی اپوزیشن کو صرف عمران خان کو نکالنے پر توجہ دینی چاہیے۔
بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں فوری انتخابات ہونے چاہئیں؟ اپوزیشن کا اب دعویٰ ہے کہ تمام جماعتیں فوری الیکشن پر متفق ہو چکی ہیں لیکن اب بھی کچھ ابہام ہے کہ یہ فیصلہ ہو چکا ہے یا اس پر بحث جاری ہے۔ ایک آپشن یہ ہے کہ قومی اسمبلی کو تحلیل کر دیا جائے جب کہ صوبائی اسمبلیوں کو ایسے ہی چلنے دیا جائے چہ جائیکہ وہ خود سے گر جائیں۔
ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا اپوزیشن کو پہلے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانی چاہیے یا سیدھے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف؟ بقول فہد حسین، سپیکر کے پاس بے حساب اختیارات ہیں اور وہ وزیر اعظم کے خلاف کسی بھی تحریک کو سبوتاژ کر سکتے ہیں۔ سپیکر اپنے اختیارات کو استعمال کر کے اسمبلی کے اجلاس کو مؤخر بھی کر سکتے ہیں۔
حجاب پہننا خواتین کا اپنا انتخاب ہے
اپوزیشن کے قانونی حلقے ان معاملات پر بھی غور کر رہے ہیں تاکہ ایک واضح تصویر سامنے آ سکے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہ کوئی سوراخ کھلا نہیں چھوڑنا چاہتے۔ ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کو دیکھنے میں وقت لگ رہا ہے۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود فہد حسین کے خیال میں چونکہ وزیر اعظم عمران خان ایک فائٹر ہیں اس لیے عدم اعتماد کے میچ کا فیصلہ آخری اوور کی آخری بال پر ہونے کا امکان یے۔
