کیا خامنہ ای کی موت کے بعد ایران میں رجیم تبدیل ہو پائے گا؟

بالآخر اسرائیل نے امریکہ کی مدد سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو شہید تو کر دیا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس کے بعد ایران میں وہ رجیم تبدیلی ممکن ہو سکے گی جس کا خواب صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو دیکھتے رہے ہیں؟ بظاہر ایسا ہوتا نظر نہیں آتا کیونکہ ایران میں کوئی ایسا مضبوط لیڈر موجود نہیں جو موجودہ نظام کو الٹ کر خامنہ ای کی جگہ لے سکے۔
نیتن یاہو نے اپنے تازہ نشریاتی خطاب میں خامنہ ای کی موت کا اعلان کرتے ہوئے ایرانی عوام سے کہا کہ وہ آگے بڑھیں اور انقلاب کا راستہ ہموار کریں۔ تاہم ہوا اس کے الٹ اور ایرانی عوام خامنہ ای کی شہادت کے رد عمل میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ خیال رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای 86 سال کی عمر میں شہید ہوئے، وہ تین دہائیوں سے ایران کی سیاست پر قابض تھے۔ انکا دورِ حکومت دنیا میں سب سے طویل حکمرانیوں میں شمار ہوتا ہے، اور اس دوران انہوں نے ایران کے تمام طاقت کے مراکز پر اپنی گرفت مضبوط کی۔
یاد رہے کہ ایران میں رہبرِ اعلیٰ کے عہدے پر صرف دو ہی افراد فائز رہے ہیں۔ پہلے آیت اللہ روح اللہ خمینی تھے اور دوسرے آیت اللہ علی خامنہ ای۔ یہ عہدہ رکھنے والا ریاست کا سربراہ بھی ہوتا ہے اور پاسدارانِ انقلاب سمیت تمام مسلح افواج کا کمانڈر بھی ہوتا ہے۔ خامنہ ای 1989 میں امام خمینی کی وفات کے بعد اس عہدے پر فائز ہوئے تھے۔ خامنہ ای کا بچپن شمال مشرقی شہر مشہد میں ایک مذہبی خاندان میں گزرا۔ غربت کے باوجود انہوں نے دینی تعلیم حاصل کی اور صرف 11 سال کی عمر میں عالمِ دین کے طور پر اہل قرار پائے۔ نوجوانی میں انہوں نے شاہ ایران کے خلاف سیاسی سرگرمیاں شروع کیں اور اسلامی انقلاب کے دوران اہم کردار ادا کیا۔
اسلامی انقلاب کے ابتدائی سالوں میں خامنہ ای نے انقلاب کے وفادار طلبہ کے امریکی سفارت خانے پر قبضے کی حمایت کی، جس میں یورپی اور امریکی سفارت کار یرغمال بنائے گئے۔ اس واقعے نے امریکہ کے ساتھ ایران کے تعلقات کو ہمیشہ کے لیے خراب کر دیا۔ 1981 میں ایک قاتلانہ حملے میں وہ شدید زخمی ہوئے، لیکن اس کے بعد ان کی سیاسی حیثیت مزید مستحکم ہوئی۔ اسی سال صدر محمد علی رجائی کے قتل کے بعد خامنہ ای صدر منتخب ہوئے اور بعد میں 1989 میں خمینی کے انتقال کے بعد رہبرِ اعلیٰ کے طور پر منتخب ہوئے۔ خامنہ ای نے اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے تین دہائیوں میں پارلیمان، عدلیہ، پولیس، میڈیا اور مذہبی اداروں میں اپنے وفادار افراد کا نیٹ ورک قائم کیا۔ وہ عوامی وفاداری یقینی بنانے کے لیے ذاتی عقیدت کا ماحول بھی پروان چڑھاتے رہے، جبکہ مخالفین کی گرفتاریاں اور سیاسی جبر بھی جاری رکھا۔
خامنہ ای کے دور میں ایران نے کئی بڑے چیلنجز کا سامنا کیا، جن میں 1980 کی عراق-ایران جنگ بھی شامل ہے۔ خارجہ پالیسی میں خامنہ ای نے ایران کو مغرب اور امریکہ سے دور رکھا اور جوہری پروگرام کو غیر اسلامی ہتھیار قرار دیا۔ تاہم اسرائیل اور مغربی ممالک پر ایران کی خفیہ جوہری سرگرمیوں کا الزام لگا، جس کی بنیاد پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں۔ اس دوران امریکہ نے ایران پر دباؤ ڈالا کہ وہ اپنا جوہری پروگرام ختم کر دے لیکن ایران نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا جس کے نتیجے میں پچھلے برس امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کر دیا۔ 2025 میں اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ فوجی کارروائیوں کے بعد ایران نے بھی جوابی میزائل حملے کیے، جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
اس سب کے باوجود خامنہ ای نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا اور جوہری افزودگی جاری رکھنے کا عہد کیا، جس سے عالمی تناؤ برقرار رہا۔ اس دوران جنوری 2026 میں ایران میں پیدا ہونے والے معاشی بحران اور احتجاجی تحریک کے بعد ریاست نے مظاہرین پر کریک ڈاؤن کیا، جس میں ہزاروں افراد جاں بحق اور دسوں ہزار گرفتار ہوئے۔ امریکی اور اسرائیلی قیادت نے اس دوران ایران پر مزید دباؤ ڈالنے کا اعلان کیا، لیکن خامنہ ای نے سخت موقف اختیار کیا اور خطے میں مکمل تصادم کی دھمکی دی۔
اب جب کہ آیت اللہ علی خامنہ ای مارے جا چکے ہیں تو ایران میں قیادت کے خلا نے غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ موجودہ نظام میں کوئی واضح جانشین نظر نہیں آتا جو فوری طور پر رجیم کو بدل سکے یا عوامی مقبولیت حاصل کر سکے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خامنہ ای کی طاقت بنیادی طور پر سخت گیر علما اور پاسداران انقلاب کی حمایت پر مشتمل تھی، اور اگر یہ حمایت ٹوٹ گئی تو سیاسی خلا پیدا ہو سکتا ہے، لیکن یہ کسی انقلاب کی فوری ضمانت نہیں ہے۔
امریکی اور اسرائیلی قیادت کے لیے اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا ایرانی عوام خامنہ ای کی موت کے بعد واقعی نیتن یاہو اور ٹرمپ کے خواب کے مطابق رجیم تبدیلی کے لیے آگے بڑھیں گے یا ایران کا سیاسی نظام اس غیر یقینی صورتحال میں بھی اپنی استحکام برقرار رکھے گا۔ ایک ویڈیو پیغام میں صدر ٹرمپ نے ایرانی عوام سے کہا کہ ’آزادی کا وقت‘ قریب ہے لہذا وہ اس موقع سے فوری فائدہ اٹھائیں۔ نیتن یاہو نے بھی ایسا ہی پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ جنگ ایرانی عوام کو حکومت کا تختہ الٹنے کا موقع فراہم کرے گی۔ تاہم تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو خامنہ ای کی شہادت کے باوجود ایران نے رجیم تبدیلی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔
عالمی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صرف فضائی حملوں کی مدد سے حکومت کی تبدیلی کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ سنہ 2003 میں عراق میں صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ بھی امریکی قیادت میں شروع ہونے والی بڑی آن گراؤنڈ جنگ کے نتیجے میں ہی ہوا تھا نہ کہ صرف فضائی حملوں کے نتیجے میں۔ اسی طرح 2011 میں معمر قذافی کی حکومت کا خاتمہ بھی لیبیا کی باغی افواج صرف اس صورت میں کر پائی تھیں کہ جب انھیں نیٹو اور کچھ عرب ریاستوں کی جانب سے فضائی مدد مسلسل دستیاب رہی۔
کیا خامنہ ای کی موت کے بعد ایرانی رجیم بھی بدل جائے گا؟
لیکن یاد رہے کہ ان دونوں کیسز میں نتیجہ یہ نکلا کہ ریاستوں کا انہدام ہوا، دونوں ممالک میں خانہ جنگی شروع ہوئی اور ہزاروں اموات ہوئیں۔ لیبیا آج بھی ایک ناکام ریاست ہے جبکہ عراق اب بھی امریکی حملے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی بڑے پیمانے پر خونریزی کے نتائج سے نمٹ رہا ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں فرض کیجیے کہ اگر یہ پہلا موقع بن بھی جائے کہ امریکہ صرف فضائی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے کسی ملک میں حکومت گرا دے، تب بھی ایسا کوئی امکان نہیں کہ ایران میں موجودہ اسلامی حکومت کی جگہ شاہ ایران کا جلا وطن بیٹا یا ان جیسا کوئی اور لبرل شخص سنبھال لے۔
