ونڈر بوائے نظام چلانے کے لیے آئے گا یا قربانی دینے کے لیے؟

 

 

 

معروف صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ کاروبارِ سلطنت میں ونڈر بوائز کی ضرورت اقتدار چلانے کے لیے نہیں ہوتی بلکہ بادشاؤں کی جان بچانے کے لیے ہوتی ہے۔ اس کھیل میں اصل ایندھن طاقت ہوتی ہے، جب تک یہ طاقت موجود رہے کھیل جاری رہتا ہے، اس دوران ونڈر بوائز جیلوں میں ہوتے ہیں۔ تاہم اصل وقت پر، یعنی کھیل کے اختتام پر ونڈر بوائے کو جیل سے نکالا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی جان دے کر بادشاہ کی جان بچا سکے۔

 

جاوید چوہدری اپنی تازہ تحریر میں 1971 کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس وقت پاور گیم کے کپتان جنرل یحییٰ خان تھے۔ جب کھیل بگڑ گیا، ملک ٹوٹ گیا، 90 ہزار فوجی بھارت کی قید میں چلے گئے اور فوجی افسران جی ایچ کیو میں آرمی چیف کے گلے پڑ گئے تو جنرل یحییٰ خان نے اپنا ونڈر بوائے ذوالفقار علی بھٹو سامنے کر دیا۔ بھٹو نے سارا ملبہ اپنے سر لے لیا اور یوں جنرل یحییٰ خان کی جان بچ گئی۔ اس کے بعد جنرل یحییٰ خان ریسٹ ہاؤسز اور اپنے گھر میں شراب اور موسیقی کے ساتھ زندگی گزارتے ہوئے 10 اگست 1980ء کو وفات پا گئے۔

 

پاکستان توڑنے والے جنرل کو قومی پرچم میں لپیٹ کر سلامی دے کر دفن کیا گیا اور کسی عدالت نے ان کا احتساب نہ کیا۔ اس کے برعکس ٹوٹے ہوئے پاکستان کو سنبھالنے، ایک لاکھ پاکستانی فوجی جوانوں کو بھارت کی قید سے رہائی دلوانے اور ملک کو پہلا متفقہ آئین دینے والے ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر چڑھا کر پھانسی دے دی گئی کیونکہ وہ ونڈر بوائے تھے۔

 

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ جنرل یحییٰ خان کا سارا کیا دھرا ذوالفقار علی بھٹو نامی ونڈر بوائے پر ڈال دیا گیا۔ وہ دوسری مثال جنرل مشرف کی دیتے ہیں جن کے دور میں افغانستان سے لال مسجد تک تباہی کے انبار لگ گئے اور دہشت گردی اس حد تک بڑھ گئی کہ فوجی افسران یونیفارم کے بغیر دفاتر جانے پر مجبور ہو گئے۔ ایسے میں تاریخ نے خود کو دہرایا، آصف علی زرداری کو ونڈر بوائے بنا کر لایا گیا، 2008 میں جنرل مشرف کو گرتی ہوئی عمارت سے نکال لیا گیا اور پیپلز پارٹی کو اس عمارت کے ملبے تلے کھڑا کر دیا گیا۔ نتیجتاً جنرل مشرف بچ گئے جبکہ پیپلز پارٹی اقتدار میں آنے کے باوجود سیاسی طور پر دفن ہو گئی۔ جاوید چوہدری سوال اٹھاتے ہیں کہ آج چاروں صوبوں کی زنجیر کہلانے والی پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ اور فارم 47 کے بغیر دس نشستیں بھی حاصل کر سکتی ہے؟ ان کے مطابق 2022ء میں یہی معاملہ نواز شریف کے ساتھ بھی ہوا۔ عمران خان سڑکوں پر متحرک تھے اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوا حالات کے دباؤ میں میر صادق اور میر جعفر بن چکے تھے۔ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ ونڈر بوائے نواز شریف کو آگے کر دیا گیا۔ جنرل باجوا گھر چلے گئے اور سیاسی بارودی سرنگوں نے نواز شریف کی سیاست کے چیتھڑے اڑا دیے۔ ان کے بقول، آج حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف اخلاقی اور سیاسی طور پر ختم ہو چکے ہیں اور نون لیگ کے اقتدار کے عوض اپنی قربانی دے چکے ہیں۔

 

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ ابھی ایک اور ونڈر بوائے باقی ہے جس کا نام عمران خان ہے۔ ان کے مطابق عمران موجودہ بادشاہوں کے مستقبل کی انشورنس پالیسی ہیں اور ہائبرڈ سسٹم کی آخری سانس تک جیل میں رہیں گے۔ جس دن اس نظام کے ستون اور کڑیاں ہلیں گی، اس دن انہیں جیل سے نکالا جائے گا، گرم حمام میں غسل اور گرم کھانا دیا جائے گا اور ایک بار پھر انہیں گرتی ہوئی عمارت کے نیچے کھڑا کر دیا جائے گا۔ جاوید چوہدری کے بقول، یوں ایک اور پیادہ بادشاہ بننے کی خواہش میں مارا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے سسٹم میں ایک ونڈر بوائے ہمیشہ موجود ہوتا ہے، لیکن وہ نظام چلانے کے لیے نہیں بلکہ جان بچانے کے لیے ہوتا ہے۔ وہ کھیل کے آخر میں آتا ہے اور اپنی جان دے کر بادشاہ کو بچا لیتا ہے۔

 

اسی تناظر میں جاوید چوہدری عثمانی سلطنت کی مثال دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ونڈر بوائے کا تصور کوئی نیا نہیں بلکہ یہ تاریخ میں بار بار دہرایا جاتا رہا ہے۔ ان کے مطابق عثمانی سلطنت کے زوال کی بنیادی کہانی دراصل تین طاقتور پاشاؤں یعنی طلعت پاشا، اسماعیل انور پاشا اور احمد جمال پاشا کے گرد گھومتی ہے جنہوں نے پہلی جنگِ عظیم سے قبل دنیا کی سب سے بڑی سلطنت کو اپنے شکنجے میں لے لیا۔ یہ تینوں پاشا عملی طور پر ریاست کے اصل مالک بن چکے تھے، جب کہ سلطان عبدالحمید کو آہستہ آہستہ بے اختیار کر کے معزول اور جلاوطن کر دیا گیا۔

جاوید چوہدری لکھتے ہیں کہ سلطان عبدالحمید جنگوں سے بچنا چاہتے تھے، آئین، پارلیمنٹ اور آزادیِ اظہار دینا چاہتے تھے، مگر پاشاؤں نے ریاست کو بلاوجہ جنگوں میں جھونک دیا۔

بعد ازاں سلطان کے بیٹے محمد رشاد کو ونڈر بوائے بنا کر تخت پر بٹھایا گیا، جس کا نام سلطان محمد پنجم رکھا گیا۔ اسے عیاش اور نالائق ثابت کر کے ’’کمیٹی آف یونین اینڈ پراگریس‘‘ قائم کی گئی اور تمام اختیارات قانونی طور پر تینوں پاشاؤں کے ہاتھ میں آ گئے۔

 

جاوید چوہدری کے مطابق جب اختیار فوجی کمانڈروں کے ہاتھ میں آتا ہے تو جنگ ناگزیر ہو جاتی ہے، چنانچہ بلقان کی جنگ، اٹلی سے جنگ اور پھر پہلی جنگِ عظیم نے سلطنت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ لاکھوں فوجی مارے گئے، معیشت برباد ہو گئی اور سلطان محمد پنجم ڈپریشن میں چل بسے۔ اس موقع پر پاشاؤں کو ایک ایسے ونڈر بوائے کی ضرورت پڑی جس کے سر ساری تباہی ڈال کر وہ خود فرار ہو سکیں۔

 

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ ونڈر بوائے سلطان عبدالحمید کا بیٹا شہزادہ وحیدالدین تھا، جسے 57 برس تک جیل میں بطور ’’ریزرو ونڈر بوائے‘‘ رکھا گیا تھا۔ جیسے ہی سلطان محمد پنجم کا انتقال ہوا، پاشا جیل سے وحیدالدین کو نکال لائے، گرم حمام اور شاہی دسترخوان کے بعد اسے سلطان محمد ششم بنا کر تخت پر بٹھا دیا گیا، اور خود خاموشی سے منظر سے غائب ہو گئے۔

آفریدی کے پنجاب اور سندھ کے دورے تنقید کی زد میں کیوں؟

جاوید چوہدری لکھتے ہیں کہ اس کے بعد سلطنت کی ساری تباہی، جنگِ عظیم کی ہار، لاشوں کے انبار اور ریاستی بربادی سلطان محمد ششم کے کھاتے میں ڈال دی گئی، حتیٰ کہ 1922ء میں خلافت کا خاتمہ کر دیا گیا۔ ونڈر بوائے کو جلاوطن کر کے در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کیا گیا اور وہ آخرکار اٹلی میں گمنامی اور ذلت کی حالت میں وفات پا گیا، جب کہ تاریخ نے سارا الزام اسی کے سر ڈال دیا۔

جاوید چوہدری کے بقول، اصل مجرم تین پاشا تھے، مگر وہ ایک ونڈر بوائے کو آگے کر کے خود بچ نکلے۔ یہی فارمولا آج بھی دہرایا جاتا ہے: ونڈر بوائے نظام چلانے کے لیے نہیں، بلکہ طاقتور کرداروں کو بچانے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور آخرکار تاریخ کے پھانسی گھاٹ پر لٹکا دیا جاتا ہے۔

Back to top button