ضامن کے بغیر حکومت اور PTI کے مذاکرات کا امکان معدوم ہو گیا

ملک کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے حکومت کی جانب سے ایک بار پھر محمود خان اچکزئی کے ذریعے پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش کے بعد سیاسی حلقوں میں مختلف سوالات زیر بحث ہیں۔ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ کیا اتنے اختلافات اور خدشات کے بعد پی ٹی آئی اور حکومت کے مابین مذاکرات کا کامیاب ہونا ممکن ہے؟کیا محمود خان اچکزئی حکومت اور اپوزیشن کو قریب لانے میں کامیاب ہو سکیں گے؟ حکومت اور پی ٹی آئی میں مذاکرات کا ضامن کون ہو گا؟ کیا مذاکراتی عمل سے ملک میں جاری سیاسی تقسیم میں کوئی کمی آئے گی؟ تاہم مبصرین کے مطابق حکومت اور پی ٹی آئی میں اعتماد کے فقدان کی وجہ سے مذاکرات ناکام سے دوچار ہوتے دکھائی دیتے ہیں کیونکہ پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی سے قبل مذاکرات کرنے پر تیار نہیں ہو گی جبکہ حکومت کسی صورت عمران خان کی رہائی پر آمادہ نہیں اس دیڈلاک کی وجہ سے حکومت اور اپوزیشن کا ایک پیج پر آگے بڑھنا ناممکن نظر آتا ہے۔ اس لئے حکومت کا محمود خان اچکزئی سے مذاکرات کی پینگیں بڑھانا سود مند ثابت نہیں ہو گا
خیال رہے کہ وفاقی حکومت اور اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے درمیان مذاکرات کے لیے روابط کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے حکومتی مذاکراتی ٹیم کے اہم رکن رانا ثنااللہ نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی سے بات چیت کا آغاز کیا ہے جس میں دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کو باضابطہ طور پر آگے بڑھانے جیسے اُمور پر گفتگو کی گئی ہے۔تحریک تحفظ آئین پاکستان نے رانا ثنااللہ اور محمود خان اچکزئی کے درمیان رابطے کی تصدیق کی ہے، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ اُن کی رانا ثنااللہ کے ساتھ پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی ہے۔تاہم انھوں نے مزید کہا کہ وہ مذاکرات کے شروع ہونے یا نہ ہونے کی تردید یا تصدیق نہیں کرتے مگر مذاکرات کے سوا کسی کے پاس کوئی راستہ نہیں۔تاہم دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات ہوئے ہیں اور نہ ہی ہوں گے۔ پی ٹی آئی حکومت سے براہ راست بات چیت نہ کرنے کے اپنے موقف پر قائم ہے۔ بطور اپوزیشن جماعت ہماری سپیکر قومی اسمبلی سے ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں جو اسمبلی اُمور چلانے یا اپوزیشن کے پارلیمانی معاملات کے بارے میں ہوتی ہیں۔
تاہم مذاکرات کے حوالے سے تجزیہ کار ضیغم خان سمجھتے ہیں کہ محمود خان اچکزئی کی سربراہی میں حکومت سے مذاکرات میں کسی پیشرفت کے امکانات بہت کم ہیں۔اُن کے خیال میں پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے محمود خان اچکزئی کو مذاکرات کا اختیار حکومت کے لیے ایک اچھا موقع تو ہے تاہم حکومت نے اب یہ کہہ دیا ہے کہ ہم براہ راست بات چیت کریں گے جس کے لیے پی ٹی آئی کو یوٹرن لینا پڑے گا۔ضیغم خان کا کہنا تھا کہ ابھی تک دونوں فریقین کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا آغاز نہیں ہوا۔ پی ٹی آئی نے مذاکرات کے لیے محمود خان اچکزئی کو اجازت دی ہے کیونکہ وہ براہ راست بات کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں’دوسری جانب حکومتی مؤقف یہ سامنے آیا ہے کہ ہم سے مذاکرات کی جو بات بھی کریں وہ براہ راست ہونی چاہیے تاہم مجھے نہیں لگ رہا کہ بانی پی ٹی براہ راست بات کرنے کے رضامند ہو گے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’اس تمام صورتحال میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں کسی پیشرفت یا کامیابی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ حکومت براہ راست بات کرنا چاہتی ہے اور پی ٹی آئی حکومت سے براہ راست مذاکرات کے حق میں نہیں کیونکہ اُن کے نزدیک یہ حکومت ناجائز ہے اور فارم 47 کی پیدوار ہے۔‘
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ صورتحال میں محمود اچکزئی ن لیگ اور پی ٹی آئی کو ساتھ بٹھا سکیں گے؟ تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت آج کل کچھ زیادہ ایکٹو ہے ایک طرف جے یو آئی ف سے بات چیت چل رہی ہے تو دوسری یہ خبر آئی ہے کہ پی ٹی آئی سے بات چیت کے لئے ایک وفاقی وزیر کو مینڈیٹ دے دیا گیا ہے۔تاہم حقیقت میں ہماری ساری سیاسی جماعتیں راولپنڈی کو خوش کر نے میں لگی ہیں۔ اسی لئے موجودہ حالات میں لگتا نہیں ہے حکومت کی طرف سے جو کوشش کی جارہی ہے اس کا تحریک انصاف کوئی سنجیدہ جواب دے گی۔تاہم کچھ سیاسی تجزیہ کار اور خوش فہم حلقے صدر اور وزیراعظم سے مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقاتوں کے بعد اب مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف کی جانب سے پارٹی رہنمائوں اور حکومت کو مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی سے مذکرات جاری رکھنے کے مشورے، کو ملکی سیاست کی مایوس کن صورتحال میں ایک خوشگوار منظر کی تشکیل اور آمد سے تعبیر کر رہے ہیں۔ تاہ ناقدین کے مطابق گزشتہ کئی سال کے الجھے اور نظم وضبط کے ساتھ الجھائے گئے آخری حد تک بگڑے ہوئے ملکی سیاسی حالات و معاملات کو سنوارنے اور سنبھالنے میں بھی خاصا وقت درکار ہوگا کیونکہ ضروری نہیں کہ خوش فہم سیاسی حلقوں کی مفاہمت کا یہ معاملہ جس کا ابھی باقاعدہ اور باضابطہ آغاز بھی نہیں ہوا وہ کسی کامیابی کی پیشرفت میں مطلوبہ مسافت بھی طے کرتا ہے یا پھر تھک ہار کر ہی راستے میں بیٹھ جاتا ہے یا بٹھا دیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے کچھ کہنا بھی قبل ازوقت ہو گا۔
