فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر مذاکرات کی کامیابی ناممکن

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار زاہد حسین نے کہا ہے کہ حکومت اور تحریک انصاف کے مابین مذاکرات کا مثبت نتیجہ نکلنا اس لیے ممکن نہیں کہ اصل فیصلہ ساز پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ ہے جو اب عمران خان کو معافی دینے کے لیے تیار نہیں۔

روزنامہ ڈان میں اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں زاہد حسین کہتے ہیں کہ دونوں فریقین مذاکرات کی میز پر آنے کے بعد اپنے اپنے سخت مؤقف سے ایک قدم پیچھے ہٹے ہیں۔ لیکن ابھی مذاکرات کی شرائط واضح نہیں ہوسکیں۔ یہ واضح نہیں کہ اپنے محدود مینڈیٹ کے ساتھ حکمران جماعت انہیں کیا پیشکش کر سکتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اصل طاقت اور اختیارات تو کسی اور کے ہاتھ میں ہیں۔

زاہد حسین کے مطابق انہیں لگتا ہے کہ جن کے پاس اصل طاقت ہے وہ اپوزیشن کے ساتھ بات چیت آگے بڑھانے کے لیے پہلے ہی اپنی شرائط طے کر چکے ہیں۔ لہٰذا دونوں جماعتوں کے درمیان معنی خیز مذاکرات کے لیے گنجائش کم ہو چکی ہے۔ ایسے میں وہ مذاکرات کے ادوار میں صرف آپس میں گفتگو کریں گے۔ سال نو کی شروعات کے ساتھ بڑے مسئلے کو حل کیے بغیر سیاسی تعطل کو کم کرنے کی امید انتہائی کم ہے۔ ملک میں آمرانہ طرزِ حکمرانی کے بڑھتے ہوئے سایوں میں جمہوریت کے لیے جگہ تنگ ہوتی جارہی ہے۔ بظاہر تو ملک میں عوامی حکومت ہے لیکن طاقت کا مرکز سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہے۔ مشکوک قانونی حیثیت رکھنے والی عوامی حکومت اقتدار میں رہنے کے لیے غیرجمہوری قوتوں کی محتاج ہے۔

زاہد حسین کہتے ہیں کہ یہ پہلا موقع ہے جب پی ٹی آئی کی قیادت حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادہ ہوئی ہے تو یقیناً برف پگھلی ضرور ہے۔ اپوزیشن جماعت ایک قدم پیچھے ہٹی تو حکمران جماعت کا بھی اس حوالے سے مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔ دونوں فریقین نے مذاکرات کے لیے اپنی کمیٹیاں بھی تشکیل دی ہیں جن کے درمیان اس ہفتے بات چیت کے آغاز کی توقع ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پیش رفت 26 نومبر کے اسلام آباد واقعے کے چند ہفتوں بعد ہوئی ہے جس میں مبینہ طور پر پی ٹی آئی کے کچھ کارکنان جاں بحق ہوئے تھے۔ اس پُرتشدد واقعے نے سیاسی کشیدگی میں اضافہ کیا تھا اور اس واقعے میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کو شدید نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ دوسری جانب فوجی عدالتوں نے 9 مئی 2023 کے واقعے میں ملوث 85 مجرمان کو مختلف سزائیں سنا دی ہیں۔ اس روز پی ٹی آئی کے حامیوں نے ملک بھر میں فوجی تنصیبات کو حملے کا نشانہ بنایا تھا۔ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی جانب سے مشروط اجازت کے بعد دیا گیا کیونکہ عدالت عظمیٰ میں عام شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی قانونی حیثیت سے متعلق مقدمہ زیرِ التوا ہے۔

اگرچہ پی ٹی آئی کے حامیوں کو سزائیں اور پارٹی میں بڑھتی اندرونی چپقلش سے شاید قیادت تناؤ کا شکار ہے لیکن حکومت کے لیے بھی مشکل پیدا ہو رہی ہے کیونکہ اسے عام شہریوں کے فوجی عدالت میں ٹرائل پر بین الاقوامی دباؤ کا سامنا ہے جس کے باعث دونوں فریقین بات چیت شروع کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ یہ اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی صفوں میں بھی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے بڑھتے اثر و رسوخ کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ایسے میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تناؤ سے سول انتظامیہ کے لیے ماحول مزید تنگ ہوتا۔ البتہ یہ تو یقینی ہے کہ عوامی حکومت آزاد نہیں ہے۔

زاہد حسین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پی ٹی آئی کی شرائط و مطالبات سامنے نہیں آئے ہیں لیکن پی ٹی آئی کی قیادت نے کچھ نکات بتا دیے ہیں جن میں عمران خان اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کی رہائی کے علاوہ 9 مئی اور 26 نومبر پر جوڈیشل کمیشن کے قیام بھی شامل ہوں گے۔ لیکن یہ بات سب پر واضح ہے کہ طاقتور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی توثیق کے بنا حکومت ان مطالبات کو تسلیم نہیں کرے گی۔ کچھ وفاقی وزرا نے بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ حکومت کے پاس فیصلے کرنے کے انتہائی محدود اختیارات ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے بالخصوص 9 مئی واقعے کے بعد جو سخت مؤقف اختیار کیا گیا، اس کی وجہ سے یہ انتہائی مشکل ہے کہ حکومتی کمیٹی پی ٹی آئی کے مطالبات کو تسلیم کرے۔

ظاہر ہے کہ اسٹیبلشمنٹ دفاعی تنصیبات پر حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ اور منصوبہ سازوں کا بھی فوجی ٹرائل چاہتی ہے۔ ان میں فیض حمید کے علاوہ عمران خان بھی شامل ہو سکتے ہیں جن پر پہلے ہی مقدمہ درج ہو چکا ہے۔ حالیہ بیان میں آئی ایس پی آر کے ترجمان نے حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث افراد کے ٹرائلز پر اسٹیبلشمنٹ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے اس عمل کے غیر منصفانہ ہونے کے الزامات کو یکسر مسترد کیا۔ ان کے ریمارکس نے پی ٹی آئی کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے مؤقف میں کسی طرح کی لچک ظاہر نہیں کی۔

زاہد حسین کہتے ہیں کہ فوجی ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری صاف الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ اگر کوئی جماعت اپنے گمراہ کن نظریے پر بضد اور اپنا بیانیہ مسلط کرنے پر مصر ہے تو پھر ان سے بات کرنے کی کیا ضرورت ہے؟‘ بات چیت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’اگر اس طرح کے مسائل کا حل بات چیت میں ہوتا تو پوری دنیا کی تاریخ میں جنگیں، تنازعات، لڑائیاں یا مہم جوئی نہ ہوتی‘۔ ہر کوئی یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ سیاسی مذاکرات کو جنگی صورت حال سے بھلا کیسے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔

لہذا زاہد حسین کے مطابق سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکمران اتحاد مذاکرات میں اپوزیشن کو کوئی بھی اہم چیز کیسے پیش کرسکتا ہے۔ پی ٹی آئی کی محاذ آرائی کی سیاست سے کوئی اتفاق نہیں کر سکتا لیکن 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ اتنا غلط بھی نہیں۔ عام لوگوں کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ حقیقت میں کیا ہوا تھا۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تحریک انصاف نے 26 نومبر کے واقعات کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا کہ اب پارٹی کی اپنی ساکھ پر سوالیہ نشان کھڑے ہو چکے ہیں۔

پی پی پی اور نون لیگ کا مجبوری کا اتحاد کتنا عرصہ چل پائے گا؟

زاہد حسین کا کہنا ہے کہ یہ بھی ایک جائز مطالبہ ہے کہ ایک سال سے زائد عرصے سے بغیر کسی فردِ جرم کے جیلوں میں قید سیاسی رہنماؤں کو رہا کیا جائے یا انہیں منصفانہ ٹرائل فراہم کیا جائے۔ یہ پیشگی اقدامات مذاکرات کو جاری رکھنے اور سیاسی تناؤ کو کم کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کر سکتے ہیں۔ اس سے ملک کا بنیادی سیاسی مسئلہ تو حل نہیں ہوسکتا لیکن بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک میں جمہوری عمل کو بچایا جائے جو عملی طور پر غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھوں یرغمال بن چکا ہے۔ اگر ریاست اور جمہوری اداروں کو کمزور کیا جائے تو کسی قسم کے استحکام کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔ سیاسی قوتوں کے درمیان مذاکرات ہی ملک کو اس دلدل سے نکال سکتے ہیں۔ یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے جس سے فوری طور پر نمٹا جانا چاہیے۔

Back to top button