جمائما خان کی فلم کی کہانی، سجل علی کی زبانی

پاکستانی فلم اور ڈرامہ انڈسٹری میں صلاحیتوں کا لوہا منوانے والی اداکارہ سجل علی نے بتایا  ہےکہ کمزور خواتین والے کرداروں کا انتخاب خود نہیں کرتی ہوں بلکہ سکرپٹ کا حصہ ہوتے ہیں۔برطانوی فلم ساز جمائما خان کی فلم ’واٹس لو گوٹ ٹو ڈو ود اٹ؟‘ میں مرکزی کردار ادا کرنے والی پاکستانی اداکارہ نے فلم میں ’میمونہ‘ کا کردار ادا کیا ہے، انہوں نےڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میمومنہ کا کردار جنوبی ایشیا کی ہزاروں لڑکیوں کی کہانی ہے، وہ جنوبی ایشیا کی لڑکیوں کو اعتماد اور قوت فراہم کرتی ہے۔اداکارہ نے بتایا کہ یہ پہلا پروجیکٹ ہے جس میں پاکستان اور پاکستانی ثقافت کو بہت خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے، ’واٹس لوو گاٹ ٹو ڈو ود اٹ‘ پاکستان میں 3 مارچ کو ریلیز ہوگی۔

 

واٹس لو گوٹ ٹو ڈو ود اٹ؟‘ رومانوی کامیڈی نوعیت کی فلم ہے جس کی کہانی پاکستانی اور برطانوی خاندان کے گرد گھومتی ہے جنہیں رشتے کی تلاش ہے، فلم کے ٹریلر میں پاکستانی اور برطانوی ثقافت کا خوبصورت امتزاج دکھایا گیا ہے۔سجل علی نے بتایا کہ یہ فلم صرف رومانوی کامیڈی نہیں بلکہ اس میں بہت کچھ ہے، یہ فلم خوشی غم پر مبنی ہے جو آپ کو رُلانے پر بھی مجبور کرے گی لیکن ساتھ ہی فلم کے آخر میں آپ اپنے پیاروں کو گلے لگانے پر مجبور پر ہوجائیں گےُ۔

 

اداکارہ کا کہنا تھا کہ میمونہ کی کہانی پاگل پن اور خود سری پر مبنی ہے جس کا ہم سب سے تعلق ہے لیکن ہم اسے دوسروں سے چھپاتے ہیں کیونکہ ہمیں ڈر ہوتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے، سجل علی نے فلم کے ہدایت کار اور بھارتی فلم ساز شیکھر کپور کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’شیکھر کپور دنیا کے بہترین ہدایت کاروں میں سے ایک ہیں، وہ بہترین ہیں، چاہے وہ کسی بھی ملک کی کہانی اپنی فلم کے ذریعے پیش کریں وہ بہترین ہوتا ہے، انہوں نے فلم کے سکرپٹ کے ساتھ انصاف کیا ہے۔

 

اداکار سے جب پوچھا گیا کہ وہ ایسے اسکرپٹ کا انتخاب کرنے کے حوالے سے کتنی محتاط رہتی ہیں جن میں مضبوط خواتین کی تصویر کشی کی گئی ہو؟ جس پر سجل علی نے جواب دیا کہ میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے اچھے اسکرپٹ ملتے ہیں، میں جان بوجھ کر ایسے اسکرپٹ کا انتخاب نہیں کرتی جس میں خواتین کو کمزور دکھایا جاتا ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسا کرنا میری ذمہ داری ہے، میں صرف ٹی وی اور فلم کی حد تک محدود نہیں رہ سکتی بلکہ مجھ پر اس سے بھی آگے، بہت کچھ کرنے کی ذمہ داری ہے۔

 

یاد رہے کہ فلم میں پاکستانی اور بھارتی اداکاروں کی کاسٹ  شامل ہے جسے برطانوی فلم ساز جمائما گولڈ سمتھ نے تحریر کیا ہے، مستقبل میں پاکستانی اور بھارتی اداکاروں کا ساتھ میں کام کرنے کے امکان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سجل علی کا کہنا تھا کہ ہم بھارت میں کام نہیں کرسکتے لیکن ہم بین الاقوامی سطح پر مل کر کام کررہے ہیں، بھارتی اداکارہ سری دیوی کے ساتھ کام کرنا میرے لیے بہت بڑی بات تھی اور میرے ملک کے لیے بھی اعزاز کی بات تھی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بدقسمتی سے سیاست کی وجہ سے دونوں ممالک کے اداکاروں کو مشکل کا سامنا رہتا ہے، لیکن مجھے امید ہے کہ ہم ان مشکلات کا مقابلے کر سکتے ہیں اور اگر ایسا نہ ہوا تو مل کر کام کرنے کے کئی راستےموجودہیں۔

PSL8: لاہور نے اسلام آباد کو 110 رنز سے شکست دیدی

Back to top button