سپریم کورٹ نے آئین شکنوں کی سہولتکاری کیسے کی؟

گزشتہ 50 برسوں میں آئین کی چوکیدار عدلیہ نے نہ صرف دو بار پی سی او کے ترازو میں آئین تول کے ردی کے بھاؤ بیچا بلکہ ایک آمر مطلق کو اس میں ترمیم کا کلی اختیار دے کر آئین شکن کی سہولتکاری بھی کی۔ یہ پاکستانی آئین کا گولڈن جوبلی سال ہے۔اسے نصف صدی پہلے ٹوٹی ہوئی قوم جوڑنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ پچاسویں برس میں یہ تھکن سے چور قوم کو توڑنے کے کام میں لایا جا رہا ہے۔

ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی وسعت اللہ خان نے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کیا ہے۔ وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ اس آئین میں پارلیمنٹ بالا ترین ادارہ تھا۔ پچاس برس بعد پارلیمنٹ زیریں ترین ادارہ ہے۔اس آئین میں انتظامیہ یعنی حکومت بااختیار ہونے کے باوجود پارلیمنٹ کے تابع تھی اور پارلیمنٹ عوامی امنگوں کے تابع تھی اور عوام اللہ میاں کے تابع تھے۔مگر پچاس برس میں رفتہ رفتہ خوفِ خدا گیا، پھر عوامی امنگیں قتل ہوئیں، پھر پارلیمنٹ بیلٹ بکس سے اس طرح نکلنی شروع ہوئی جیسے مداری ڈنڈہ پھیر کے صندوق سے خرگوش، کبھی پھول، کبھی کرنسی نوٹ اور کبھی رنگین رومال در رومال نکالتا چلا جاتا ہے۔

وسعت اللہ خان کے مطابق اب تک اس آئین میں 26 ترامیم ہو چکی ہیں۔ پہلی سات ترامیم تو خود آئین ساز حکومت نے چار برس میں کر ڈالیں ۔ان میں سے تیسری، چوتھی اور پانچویں ترمیم کے ذریعے عدالتی دائرہِ کار محدود کیا گیا اور حزبِ اختلاف کا گلا دبانے کے لیے پریونٹیو ڈیٹینشن قوانین کے تحت گرفتاری کو ناقابلِ ضمانت قرار دیا گیا۔

مارچ 1981 میں عبوری آئینی حکم نامے پی سی اوکے تحت اعلیٰ عدلیہ پر دوسرا شب خون مارا گیا اور پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں اور ناپسندیدہ ججوں سے ایک ہی وار میں نجات حاصل کر لی گئی۔حلف کے لیے مدعو نہ کیے جانے والے سپریم کورٹ کے ججوں میں جسٹس مولوی مشتاق حسین بھی شامل تھے جنھوں نے لاہور ہائی کورٹ میں ہوتے ہوئے اس آئین کے خالق ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت سنائی تھی۔

وسعت اللہ خان کا مزید کہنا ہےکہ یہ آئین نفاز کے چوتھے برس ہی ایک غاصب بالائے آئین باوردی آمریت کا یرغمال بن گیا۔ اور تیزاب سے دھلی نئی عدلیہ نے ایسے شخص کو خوشی خوشی آئین میں ترمیم کا اختیار دے دیا جو بذاتِ خود آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت بغاوت کا مجرم قرار دیے جانے کا حق دار تھا۔

اسی آمریت کے تحت آئین کو ضمانت پر رہا کرنے کی شرط کے عوض ’اٹھونجا ٹو بی‘ کے ڈنڈے کے زور پر آٹھویں ترمیم کے ذریعے نومبر 1985 میں آئین آختہ کر کے پارلیمانی کے بجائے نیم صدارتی کر دیا گیا۔ اسے 12 برس بعد تیرہویں ترمیم کے ذریعے واپس پارلیمانی کیا گیا۔

مگر جس نواز شریف کی حکومت نے اس کی اوریجنل پارلیمانی شکل بحال کی اسی حکومت نے چودھویں ترمیم کے ذریعے رکنِ پارلیمان کی رائے کو پارٹی پالیسی کے تابع کر دیا اور یوں پارٹی سربراہ ایک نئے آمر کے طور پر ابھرا اور پارلیمنٹ ربڑ کی ایک نئی مہر بن گئی۔

وسعت اللہ خان کے بقول جنرل پرویز مشرف کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ انھوں نے اپنے دور میں ایک بار نہیں دو بار آئین معطل کر کے عبوری آئینی حکم نامہ پی سی او نافذ کیا۔یعنی اپنے ہی غیر اعلانیہ مارشل لا دور میں ایک اور مارشل لا لگایا اور دو بار ناپسندیدہ ججوں سے نجات حاصل کی۔

جنوری 2000 میں پہلی کوشش میں وہ کامیاب ہو گئے اور نومبر 2007 دوسری بار وہ منھ کے سائز سے بڑا غیر آئینی نوالہ چبانے کی کوشش میں بتیسی ہلوا بیٹھے۔مشرف دور میں عدلیہ کے جاری کردہ لائسنس کے تحت 2003 میں سترہویں ترمیم کے ذریعے آئین دوبارہ نیم صدارتی ہو گیا اور تیرہویں ترمیم کو غیر موثر کر دیا گیا۔

مگر دو ہزار دس میں ایک سیاسی صدر آصف زرداری نے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے اختیارات کا پلڑا ایک بار پھر پارلیمانی نظام کے حق میں جھکا دیا اور مرکز کے کئی اہم اختیارات صوبوں کو منتقل ہو گئے۔

لیکن صوبے تیرہ برس گذرنے کے بعد بھی یہ طاقت استعمال کرنے کے قابل نہیں ہو سکے ۔بلکہ انھیں جو تھوڑی بہت طاقت ملی وہ بھی نچلی سطح پر منتقل کرنے کے بجائے چابیوں کا گچھا سمجھ کے اپنے کمربند سے باندھ لی۔

وسعت اللہ خان کا مزید کہنا ہے کی ان پچاس برسوں میں آئین کی چوکیدار عدلیہ نے ہی دو بار پی سی او کے ترازو میں آئین تول کے ردی کے بھاؤ بیچ ڈالا۔ پھر اسے بہت مشکل سے دونوں بار بولی میں واپس خرید کے جز دان میں باندھ کے چھینکے میں لٹکانا پڑا۔مگر طرح طرح کی بلیاں آج تک اس چھینکے پر جھپٹنے کے لیے ہلکان ہیں۔

جب یہ آئین پچاس برس پہلے دس اپریل 1973 کو منظور ہوا تو آرٹیکل چھ کو آئندہ کے لیے بالائے آئین آمریت کے نزول کا دروازہ بند کرنے کا حتمی حل بتایا گیا۔یہ فرض کر لیا گیا کہ آرٹیکل چھ کے تحت آئین توڑنے، معطل کرنے یا کسی شق کو غیر آئینی طریقے سے مسخ کرنے یا ایسا کرنے کی سازش میں شریک ہونے کی سزا موت قرار دیے جانے سے اس آئین کے ساتھ کھلواڑ یا چھیڑ چھاڑ کرنے والا کوئی بھی منتخب یا غیر منتخب شخص دس بار سوچے گا۔

اگر واقعی ایسا ہوتا تو شاید ہم ضیا الحق کے بعد کسی بھی منتخب یا غیر منتخب آمر کا ذکر نہ سن رہے ہوتے اور کس ادارے کا کیا اور کتنا آئینی دائرہ ہے اور کس آئینی شق کا اصل مطلب کیا ہے جیسی بحث بھی ہمارے کانوں کے لیے اجنبی ہوتی۔پہلے گناہ کا بیج نگاہ سے چوک جائے تو یہ بیج جرم کی پوری فصل لہلہا سکتا ہے۔

کیا ہیں یہ لوگ اپنے شجر آپ کاٹ کر

دیتے ہیں پھر دہائی کہ سایہ کرے کوئی

ایوب خان نے بھٹو پر بھارتی شہری ہونے کا الزام کیوں لگایا؟

Back to top button