جسٹس قاضی فائز اور یحییٰ آفریدی کا مقدمات کی سماعت سے انکار

عدالت عظمیٰ میں پنجاب اور کے پی کے میں انتخابات بارے سو موٹو نوٹس میں ججز کے مابین تقسیم سامنے آنے کے بعد ایک بار پھر کشیدگی اس وقت دیکھنے میں آئی جب سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمات کا بینچ تبدیل کرنے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس یحیٰی آفریدی نےسپریم کورٹ میں مقدمات سماعت کے لیے مقرر ہونے کے طریقہ کار کا نوٹس لیتے ہوئے 28فروری کو مقدمات سننے سے انکار کردیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے عدالت عظمیٰ میں مقدمات سماعت کے لیے مقرر کرنے کے طریقہ کار کا نوٹس لے کر رجسٹرار سپریم کو ریکارڈ کے ہمراہ طلب کیا تھا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹرار سپریم کورٹ سے استفسار کیا کہ بینچ کیوں تبدیل کیا گیا جس پر رجسٹرار نے بتایا کہ مجھے چیف جسٹس کے سیکریٹری نے بینچ تبدیل کرنے کے لیے کہا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ ججز کے بینچ اسٹاف افسر چلاتا ہے، پوری دنیا اس کیس کو دیکھ رہی ہے، اپنا مؤقف سوچ کر بتائیں۔ رجسٹرار سپریم کورٹ نے بتایا کہ چیف جسٹس کے اسٹاف افسر کی زبانی ہدایت پر بینچ تبدیل کیا گیا، بینچ تبدیل کرنے کی منظوری چیف جسٹس نے دی تھی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بینچ کی اچانک تبدیلی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے رجسٹرار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بینچ آپ نہیں ہم چلائیں گے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ میں بطور جج اپنے حلف کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا، ممکن نہیں ایسے حالات میں آج کے کیسز سنوں۔انہوں نے کہا کہ بینچ تبدیل کرنے کی کوئی وجہ پیش نہیں کی گئی، اگر بنا کسی وجہ کے بینچز تبدیل ہوں گے تو بہت سے سوالات اٹھیں گے، جس کے خلاف فیصلہ دیں گے وہ کہے گا میرے لیے خاص بینچ بنایا گیا۔

رجسڑار سپریم کورٹ کی جانب سے عدالت کے سامنے بینچز تبدیلی کی فائل نہ دکھانے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجھے نوٹ دکھائیں بینچ کیوں تبدیل کیا ؟ دنیا سپریم کورٹ میں انصاف کے لیے دستک دیتی ہے، کیا رجسڑار صاحب شفافیت پر یقین رکھتے ہیں، مقدمات کی ردو بدل سے آدھا انصاف تو ختم ہو جاتا ہے۔رجسٹرار سپریم کورٹ عشرت علی نے کہا کہ کیس مینجمنٹ کی سفارشات 2 جولائی 2022 سے چیف جسٹس کے آفس میں زیر غور ہیں۔

عدالت نے کہا کہ چیف جسٹس کے بینچ تشکیل دینے کے اختیارات سے واقف ہیں لیکن بینچ تبدیل ہونے کی وجوہات ہونی چاہئیں، سمری میں لکھا جانا چاہیے کہ جج بیمار تھے یا دستیاب نہیں، اور دونوں جج صاحبان دستیاب تھے تو بینچ تبدیلی کی وجوہات سامنے نہیں لائی گئیں۔عدالت کا کہنا تھا کہ آئین میں عدلیہ کی آزادی کو تحفظ دیا گیا ہے، بغیر وجوہات بینچ تبدیل ہونے شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں اور عوام میں غیر ضروری تنقید ہوتی ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ موجودہ کیس میں دونوں بینچ تبدیل نہ کرنے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں، سپریم کورٹ میں پرانے مقدمات زیر التوا ہیں اور نیے مقرر کردئیے گئے ایسے میں آج مقدمات نہ سننے پر وکلا سے معذرت کرتا ہوں۔

قبل ازیں ابتدائی سماعت میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں سپریم کورٹ کا جج ہوں، 5 سال تک چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ بھی رہ چکا ہوں، ہم چاہتے ہیں شفافیت ہونی چاہیے لیکن اگر رجسٹرار کیس ایک بینچ سے دوسرے بینچ میں لگا دے تو شفافیت کیسے ہوگی؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ لگتا ہے ایک رجسٹرار تو میرے جیسے جج سے بھی زیادہ طاقتور ہے، میں 2010 کے کیسز نہیں سن سکتا کیوں کہ کیسز رجسٹرار سماعت کے لیے مقرر کرتا ہے، کیا میں فون کرکے رجسٹرار کو یہ کہہ سکتا ہوں فلاں کیس فلاں بینچ میں لگا دیں۔رجسٹرار سپریم کورٹ نے بتایا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی منظوری سے ہی مقدمات سماعت کے لیے مقرر کیے جاتے ہیں۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ سوال یہ ہے کہ بینچ میں جسٹس حسن رضوی صاحب تھے تو بینچ کیوں تبدیل ہوا؟ مقدمات مقرر کرنے کا کیا طریقہ کار ہے؟سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ اورکزئی نے کہا کہ تھک گئے ہیں لیکن ہمارے کیسز نہیں لگتے بعدازاں عدالت کے طلب کرنے پر رجسٹرار سپریم کورٹ عشرت علی اور ایڈیشنل رجسٹرار عدالت میں پیش ہوئے تو سپریم کورٹ نے زیر التوا تمام پرانے مقدمات کا ریکارڈ طلب کر لیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس یحیٰی آفریدی نے رجسٹرار کو ساڑھے 11 بجے دوبارہ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ مقدمات مقرر کرنے کا طریقہ کار بھی واضح کیا جائے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میرے بینچ کے سامنے سال 2021 کے کیسز کیوں لگائے ہیں؟ کئی سال پرانے مقدمات کو چھوڑ کر نئے مقدمات کیوں مقرر کیے جاتے ہیں؟جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ میرے دو رکنی بینچ کو کیوں تبدیل کیا گیا؟ گزشتہ روز کی لسٹ میں جسٹس حسن اظہر رضوی تھے، آج جسٹس یحیٰی آفریدی کے ساتھ بینچ بنادیا گیا۔انہوں نے ہدایت کی کہ رجسٹرار تمام ریکارڈ لے کر 15 منٹ کے اندر پیش ہوں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مقدمات کو ’فرسٹ کم فرسٹ سرو‘ (پہلے آئیے پہلے پائیے) کے اصول کے مطابق مقرر کیوں نہیں کیا جاتا؟ میں لوگوں کو کیا جواب دوں گا۔

وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو رجسٹرار سپریم کورٹ عشرت علی عدالت پیش ہوئے۔رجسڑار سپریم کورٹ عشرت علی  عدالتی سماعت شروع ہونے کے بعد تاخیر سے پہنچے، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ رجسڑار صاحب عدالت ساڑھے گیارہ شروع ہوتی ہے، میرا آج بینچ جسٹس حسن اظہر رضوی کے ساتھ تھا اور جسٹس یحییٰ آفریدی دوسرے بینچ کے سربراہ تھے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے دوبارہ استفسار کیا کہ میرا اور جسٹس یحییٰ آفریدی کے بینچ کی تشکیل تبدیل کیوں کی گئی؟ رجسڑار سپریم کورٹ عشرت علی نے عدالتی سوالات کے جوابات دینے سے احتراز کیا جس پر عدالت برہم ہوگئی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس میں شفافیت نام کی کوئی چیز نہیں ہے، 1999 کے مقدمات سپریم کورٹ میں زیر التوا ہیں اور ہم 2022کی اپیلیں سن رہے ہیں، کوئی تو وضاحت ہونی چاہیے۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ رجسٹرار آفس جو بھی کام کرے وہ تحریری صورت میں ہونا چاہیے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ کو کچھ نہیں پتا۔انہوں نے ایڈیشنل رجسٹرار سے استفسار کیا کہ کیا آپ ڈی فیکٹو رجسٹرار کے طور پر کام کر رہے ہیں؟ ہمیں بتائیں کہ پھر ہم کس کو بلائیں، کیا ہم سیکشن افسر کو اس معاملے پر بلائیں، ہمیں بتائیں کہ کیسز سے متعلق سپریم کورٹ کا کیا طریقہ کار ہے اور پرانے کیسز کیوں نہیں لگائے جا رہے ہیں۔

آئین کو دوبارہ تحریر کرنے کا اختیار عدلیہ کو کس نے دیا؟

Back to top button