یوسف رضا گیلانی ٹڈاپ میگا کرپشن کیسز سے مکمل بری

وفاقی اینٹی کرپشن عدالت نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو ٹڈاپ میگا کرپشن کیسز میں مکمل طور پر بری کر دیا۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی کے ہمراہ سینئر وکیل فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ 2013 اور 2014 میں ٹڈاپ کرپشن سے متعلق 26 مقدمات درج کیے گئے تھے، جن میں ایک ہی نوعیت کا الزام تھا کہ سبسڈی کے لیے 50 لاکھ روپے لیے گئے۔ ان مقدمات کا اندراج ایف آئی اے نے محض ایک فرد کی شکایت پر کیا، جبکہ گیلانی صاحب 10 کیسز میں ضمانت پر تھے، پھر بھی ایف آئی اے نے انہیں مفرور قرار دیا۔

فاروق ایچ نائیک نے مزید کہا کہ عدالت نے تمام مقدمات میں یوسف رضا گیلانی کو باعزت بری کر دیا ہے۔ ان کے بقول یہ تمام کیسز جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی تھے، اور ہم عدالت سے انصاف ملنے پر جج صاحب کے شکر گزار ہیں۔

یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ ان پر جھوٹے الزامات لگائے گئے، اور فاروق ایچ نائیک نے بہترین انداز میں ان کا دفاع کیا۔ "اللہ کا شکر ہے کہ آج عدالت نے تمام مقدمات سے باعزت بری کر دیا ہے

 زرمبادلہ ذخائر میں 7 کروڑ 16 لاکھ ڈالر کی کمی

انہوں نے یہ بھی کہا کہ "جنہوں نے یہ کیسز بنائے، میں آج ان کا اتحادی ہوں، انہیں چھوڑ بھی نہیں سکتا۔ قانون سازی ہونی چاہیے کہ اگر فیصلہ نہ ہو تو کیس خودبخود ختم ہو جائے۔”

یاد رہے کہ یوسف رضا گیلانی پر ایف آئی اے نے ٹڈاپ کرپشن اسکینڈل میں 26 مقدمات درج کیے تھے۔ وہ ان میں سے 12 کیسز میں پہلے ہی بری ہو چکے تھے، جبکہ آج انہیں بقیہ 14 کیسز سے بھی بری کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ ٹڈاپ اسکینڈل کی تحقیقات 2009 میں شروع ہوئیں، ایف آئی اے نے 2013 میں مقدمات درج کیے، اور یوسف رضا گیلانی کو 2015 میں حتمی چالان میں نامزد کیا گیا تھا۔

Back to top button