پاکستان میں یوٹیوب سروس سست روی کا شکار،بڑے انکشافات

اتوار کو پاکستان کےمختلف شہروں میں یوٹیوب کی سروس میں سست روی دیکھنے میں آئی ہے۔بالخصوص ملک کی سیاسی صورتحال پر بات کرنے والے یوٹیوبرزکو اپنے وی لاگز کی اپلوڈنگ اور لوڈنگ میں دشواری کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

اس حوالے سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے ) کی ترجمان ملاحت عبید کا کہنا ہے کہ پی ٹی اےکو ملک میں یوٹیوب کی سروس متاثر ہونے کے حوالے سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔

اُنہوں نےبتایا کہ اگر کسی علاقے میں یوٹیوب کی سروس میں خلل ہےتو پی ٹی اے شکایات موصول ہونے پر یا اپنی طرف سے اس معاملےکا نوٹس لےگی اور پھرمسائل دور کرنے کی کوشش کرے گی۔

یوٹیوب کی سروس میں سست روی کے حوالے سے یوٹیوبرز اورانفارمیشن ٹیکنالوجی کےماہرین سے رائے جاننے کی کوشش کی تو اُنہوں نےبتایا کہ گذشتہ رات سے پاکستان میں موبائل پر یوٹیوب استعمال کرنے والےصارفین کے لیے سروسز کو سلو ڈاؤن کیا گیا ہے،تاہم لیپ ٹاپ یا ویب براؤزر پر ان پابندیوں کا اثر کم ہو رہا ہے۔

یوٹیوب سروسز پر پابندی،ویب منیجمنٹ سسٹم (فائر وال) کا سہارا

پاکستان میں یوٹیوب کی سروسزکی سست روی کے حوالے سے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کےایک اعلیٰ عہدیدار نےبتایا ہے کہ ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال کے سبب فائر وال کےذریعے یوٹیوب کی سروسزکو سست کیا گیا ہے۔

اُنہوں نے بتایا کہ اس وقت ملک میں یوٹیوب کومکمل بند یا سلو ڈاؤن نہیں کیا گیا، تاہم پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 24 نومبر کو احتجاجی مظاہرے کی کال کےسبب یوٹیوب پر ایسے وی لاگز کی اپلوڈنگ سست کی گئی ہے جو لوگوں کو پی ٹی آئی احتجاج سے متعلق معلومات فراہم کر رہےہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں ملک کی سیاسی صورتحال دیکھتے ہوئے ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارمزکی بندش یا بحالی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

سینیئر صحافی عمر چیمہ نےیوٹیوب کی سروس کے حوالے سے بتایا ہےکہ پاکستان میں گذشتہ تین سے چار روز سے یوٹیوب کی سروسزکسی حد تک متاثر ہیں۔ عمر چیمہ کا کہنا تھا کہ اُنہیں یہ توواضح نہیں کہ آیا فائر وال کے ذریعے یوٹیوب کی سروسز کومتاثر کیا گیا یا نہیں، تاہم اس وقت اپلوڈ کیے گئے وی لاگز پرنسبتاً ویورشپ میں کمی آئی ہے۔

وی پی این کا استعمال غیر شرعی نہیں  : رانا ثنا اللہ

 

انفارمیشن ٹیکنالوجی کےماہر روحان ذکی کے خیال میں اتوار کو پاکستان میں یوٹیوب کی سروسز کسی حد تک ضرور متاثر ہوئی ہیں۔ اُنہوں نےگفتگو میں بتایا کہ بظاہر یہی معلوم ہو رہا ہے کہ ایسے یوٹیوبرز کےلیے اپلوڈنگ اور پہلے سے اپلوڈ لیے گئے وہ لاگز کی لوڈنگ کومشکل بنایا گیا ہے جو اس وقت ملک کی سیاسی صورتحال پر تبصرہ کر رہے ہیں۔

روحان ذکی کےمطابق اس وقت موبائل فون پر یوٹیوب کے استعمال میں زیادہ مسئلہ دیکھنےمیں آ رہا ہے کیونکہ اتھارٹیز کے لیے موبائل فون پر استعمال ہونےوالی ایپس پر پابندیاں لگانا قدرے آسان ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ویب براؤزر یا لیپ ٹاپ پر سوشل میڈیا ایپس پر لگائی گئی پابندی کومختلف ذریعوں سے بائی پاس کیا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں حالیہ عرصےکے دوران صارفین کو سماجی رابطے کی ویب سائٹس کےاستعمال میں مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس حوالے سےپاکستان کی وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے نے ویب مینیجمینٹ سسٹم یعنی فائروال کی تنصیب پر بھی کام کیا ہے جس کے ذریعے بوقت ضرورت ملک میں سوشل میڈیا ایپس یا انٹرنیٹ سروسز کوسست کر دیا جاتا ہے۔

پاکستان میں ایکس کی بندش

فائر وال کی تنصیب کےساتھ ساتھ پاکستان میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کی سروس بھی گذشتہ کئی ماہ سے بند ہے۔

اس حوالے سےپاکستان کی وزارت داخلہ نے ایکس کو ملکی سلامتی کے لیےخطرہ قرار دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ایکس پر ملکی اداروں کےخلاف نفرت انگیز مواد اپ لوڈ کیا جاتا ہے، جس کے سب ملک کی سلامتی کے لیے ایکس پرپابندی عائد کی گئی ہے۔ ایک بیان میں وزارت داخلہ کا کہنا تھاایکس پر پابندی سے پہلے تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے۔

 

Back to top button