ظہیر بابر سدھو کو تاحیات مارشل آف دی ایئر فورس بنانے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ مئی کی پاک بھارت جنگ کے دوران انڈیا کو شکست فاش سے دوچار کرنے والے فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو کی خدمات کے اعتراف میں انہیں مارشل آف دی ایئر فورس کا ٹائیٹل دیتے ہوئے مزید پانچ برس کے لیے دوبارہ اسی عہدے پر تعینات کر دیا جائے۔ ان کی نئی تقرری کی مدت مارچ 2026 سے شروع ہو گی۔ مارشل آف دی ائیر فورس کا عہدہ ان کے پاس تاحیات رہے گا۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو بھی پاک بھارت جنگ کے دوران شاندار خدمات کے اعتراف میں تاحیات فیلڈ مارشل کا ٹائٹل دیا گیا تھا۔ اب فیلڈ مارشل کے اس عہدے کو آئینی تحفظ دینے کے لیے نہ صرف آئین میں 27ویں ترامیم کی گئی ہیں بلکہ فضائیہ میں مارشل آف دی ایئر فورس اور نیول میں ایڈمیرل آف دی فلیٹ کے عہدے بھی تخلیق کیے گئے ہیں۔ 19 مارچ 2021 کو پاکستان ایئر فورس کی کمان سنبھالنے والے ائیر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو کو مارچ 2024 میں ایک سال کے لیے توسیع دی گئی تھی۔ بھارت کے ساتھ جنگ میں ان کی شاندار قیادت کے باعث، جہاں پاک فضائیہ نے بھارت کے سات جدید ترین لڑاکا طیارے مار گرائے تھے جن میں فرانسیسی ساختہ جدید رافیل جنگی طیارے بھی شامل تھے۔ چنانچہ انہیں مارشل آف دی ایئر فورس کا اعزازی درجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا اعلان جلد کر دیا جائے گا۔ وہ اس اعزاز کے حامل پہلے چیف آف ایئر سٹاف ہوں گے۔
قومی اسمبلی نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ 14 نومبر کو ایوان کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے سے قبل تینوں افواج یعنی بری، بحری اور فضائیہ کے لیے نئے قواعد و ضوابط سے متعلق قانون سازی پر بحث اور منظوری دی جائے گی۔ یہ قانون سازی آئین کے آرٹیکل 243 میں ہونے والی حالیہ ترمیم کے مطابق ہوگی۔ذرائع نے بتایا کہ ائیر چیف بابر سندھو کو بھی 5 سال کیلیے دوبارہ تعینات کیا جائے گا۔
اسکے علاوہ پاکستان آرمی میں بھی جلد ہی دو مزید فور سٹار جنرلز تعینات کیے جائیں گے۔ ان میں ایک جرنیل کو وائس چیف آف آرمی سٹاف اور دوسرے جرنیل کو کمانڈر آف دی نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ مقرر کیا جائے گا۔ باوثوق پارلیمانی ذرائع کے مطابق، ترمیم شدہ آئین میں درج ہے کہ وزیرِاعظم، چیف آف آرمی سٹاف، جو ساتھ ہی چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہوں گے، ان کی سفارش پر کمانڈر آف دی نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کا تقرر کریں گے۔
اس کے علاوہ 27 نومبر 2025 کو جنرل ساحر شمشاد مرزا کی ریٹائرمنٹ کیساتھ ہی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف دی سٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا جائے گا۔ 27ویں ترمیم کے تحت چیف آف آرمی سٹاف (بطور چیف آف ڈیفنس فورسز)، چیف آف ایئر سٹاف اور چیف آف نیول سٹاف کے تقرر وزیرِاعظم کی سفارش پر ہوں گے۔ جن فوجی افسران کو فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس یا ایڈمرل آف دی فلیٹ کے نئے عہدوں پر ترقی دی جائے گی، وہ اپنی وردی، مراعات اور مرتبہ تاحیات برقرار رکھیں گے۔ ان کی آئندہ ذمہ داریاں وفاقی حکومت طے کرے گی۔
پاکستان میں حملوں کے بعد افغانستان پر فضائی بمباری کا امکان
حکومتی ذرائع کے مطابق، ترمیم شدہ آئین کے تحت ان اعلیٰ فوجی عہدوں کو آئینی تحفظ حاصل ہوگا، اور انہیں صرف آرٹیکل 47 کے طریقہ کار کے مطابق ہٹایا جا سکے گا۔ اس کے ساتھ آرٹیکل 248 کے تحت صدرِ مملکت کو حاصل استثنا اب ان فوجی افسران تک بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ اس آئینی ترمیم کے بعد نئی قانون سازی پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے ذریعے کی جائے گی تاکہ تینوں افواج کے نظام میں عملی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ اسکے علاوہ پاکستان آرمی میں جلد ہی دو مزید ٹو سٹار ج4نیل تعینات کیے جائیں گے۔ ان میں سے ایک کو وائس چیف آف دی آرمی سٹاف اور دوسرے جرنیل کو کمانڈر آف دی نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ مقرر کیا جائے گا۔ دونوں عہدے چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ماتحت ہوں گے۔
