سابق وزیر زاہد حامد نے فیض آباد دھرنا کی ایک اور کہانی سنا دی

سابق وزیرقانون زاہد حامد نے انکشاف کیا کہ  سابق ڈی جی سی فیض حمید اور دو افسران نے فیض آباد دھرنے کے دوران ان سے ملاقات کی اور استعفے کا کہا۔26نومبر2017 کی شام آئی ایس آئی کے جونیئر افسران لاہور میں میرے گھر مجھ سے استعفیٰ لینے آئے۔فیض حمید نے تجویز دی کہ مختصر وقت کے لیے استعفے پر غور کرسکتے ہیں؟ فیض حمید سمجھتے تھےکچھ عرصہ چھٹی پربھی چلا جاؤں تو ٹی ایل پی مطمئن ہوجائےگی۔

زاہد حامد نے کہا کہ وزیراعظم کو پیشکش کی تھی مگر وہ ماننے کو تیار نہیں۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نےکہا تھا حکومت توڑ دیں گے وزیرکو استعفیٰ نہیں دینے دیں گے۔جب پولیس ایکشن ناکام ہوا تو احساس ہوا واحد متبادل فوج کی مداخلت ہوگی جواچھی نہیں ہوگی۔

Back to top button