نور مقدم قتل کیس، مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو سزائے موت کا حکم

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے سابق پاکستانی سفیر کی بیٹی نور مقدم کے بہیمانہ قتل میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو سزائے موت جبکہ شریک ملزمان کو دس دس سال قید کی سزا سنا دی ہے. عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے 4 ماہ کے ٹرائل کے بعد 2 روز قبل فیصلہ محفوظ کیا تھا جوآج سنایا گیا ہے.

عدالت کی طرف سے سنائے گئے فیصلے کے مطابق قتل کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو سزائے موت سنائی گئی ہے جبکہ دیگر دو شریک ملزمان جمیل اور افتخار کو 10 دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے. عدالت سے تھراپی ورکس کے ملازم تمام ملزمان کو الزامات سے بری کر دیا ہے.

خیال رہے کہ گزشتہ سماعت کے سلسلے میں وکلا، تھراپی ورکس کے ملازمین، مرکزی ملزم کی والدہ عصمت آدم کے علاوہ مدعی شوکت مقدم اہنے وکلا کے ہمراہ پیش ہوئے۔ اس کے علاوہ مرکزی ملزم ظاہر ذاکر جعفر سمیت چار گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا تو جج نے وکلا سمیت تمام افراد کو کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا۔

کپتان کا جانا ٹھہر چکا ہے، صبح گیا کہ شام گیا

جج نے پولیس کو حکم دیا کہ مجھے بات کرنی ہے سب باہر چلیں جائیں، جس پر مرکزی ملزم سمیت چاروں گرفتار افراد کو واپس بھیج دیا گیا۔ واضح رہے کہ 27 سالہ نور کو 20 جولائی 2021 کو دارالحکومت کے پوش علاقے سیکٹر ایف- 7/4 میں ایک گھر میں قتل کیا گیا تھا، اسی روز ظاہر جعفر کے خلاف واقعے کا مقدمہ درج کرتے ہوئے اسے جائے وقوع سے گرفتار کرلیا گیا تھا۔

واقعے کا مقدمہ مقتولہ کے والد کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 (منصوبہ بندی کے تحت قتل) کے تحت درج کیا گیا تھا۔عدالت نے 14 اکتوبر کو ظاہر سمیت مقدمے میں نامزد دیگر 11 افراد پر فرد جرم عائد کی تھی۔
ملزمان میں ظاہر جعفر کے والدین، ان کے تین ملازمین افتخار (چوکیدار)، جان محمد (باغبان) اور جمیل (خانسامہ)، تھیراپی ورکس کے سی ای او طاہر ظہور اور ملازمین امجد، دلیپ کمار، عبدالحق، وامق اور ثمر عباس شامل ہیں۔ قتل کے مقدمے کی باقاعدہ سماعت 20 اکتوبر کو شروع ہوئی تھی۔

Back to top button