کیا زمان پارک کو دوبارہ نو گو ایریا بننے دیا جائے گا

زمان پارک میں عمران خان کی رہائش گاہ کا نو گو ایریا کا سٹیٹس ختم کیے جانے کے بعد کپتان کے یوتھیوں نے دوبارہ سے اپنا کنٹرول بحال کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ دوسری جانب نگران حکومت نے واضح کیا ہے کہ جب جب زمان پارک کو نو گو ایریا بنانے کی کوشش ہوگی تب تب وہاں آپریشن کیا جائے گا

عمرانڈوز کی شرپسندانہ کارروائیوں میں شدت آنے کے بعد حکمت عملی کے تحت پولیس زمان پارک سے مکمل طور پر نکل چکی ہے۔ تاہم زمان پارک پر پی ٹی آئی کے مزید کارکنان پہنچ چکے ہیں۔ جن میں پچانوے فیصد سے زائد پنجاب سے باہر اور بالخصوص صوبہ خیبر پختونخوا، سوات، گلگت بلتستان اور دیگر شمالی علاقوں سے ہیں۔ ان کارکنان میں ایک کالعدم تنظیم کے شر پسند عناصر بھی موجود ہیں۔ جنہوں نے زمان پارک کا کنٹرول سنبھال رکھا ہے۔ ان شر پسندوں کے پاس آتشیں اسلحہ بھی موجود ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ذرائع کے مطابق کالعدم تنظیم کے کارکنان شہر کے مختلف علاقوں میں بھی مقیم ہیں۔ جبکہ بعض شر پسند عناصر کو زمان پارک ہی کے بعض گھروں میں رہائش کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں زمان پارک میں موجود پی ٹی آئی کارکنوں نے عمران خان کے قریبی گھروں کے اندر اور چھتوں پر پتھر بھی جمع کر رکھے ہیں۔

یاد رہے کہ مسلسل تصادم کے بعد عدالت نے پولیس آپریشن روک دیا تھا۔ بعد ازاں عمران عدالتی پیشی کیلئے اسلام آبد گئے تو پولیس نے زمان پارک میں کلیننگ آپریشن کیا اور زمان پارک کو نو گو ایریا بنانے کیلئے لگائی گئیں تمام رکاوٹوں کو ختم کر دیا۔ موقع پر موجود شرپسندوں کو گرفتار کیا گیا اور کچھ بھاگ گئے تاہم عمران خان کے اسلام آباد سے واپس پہنچتے ہی تحریکِ انصاف کے کارکنان پھر سے زمان پارک میں بڑی تعداد میں جمع ہوگئے ہیں۔ البتہ ہزاروں ایسے افراد اور بہت سے رہنما دکھائی نہیں دیتے جو آٹھ مارچ کے بعد سے کیمپ لگائے بیٹھے تھے۔

اس وقت زمان پارک میں ایسے کارکنوں کا قبضہ ہے جو پنجاب سے باہر سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کارکنوں نے دھکیل کر دو کنٹینرز عمران خان کے گھر جانے والی گلی کے سامنے کھڑے کر دیے ہیں اور گلیوں میں بھی پوزیشن سنبھالے ہوئے ہیں۔ عمران خان کے گھر اور دو ملحقہ گھروں کے لان سے راہداریوں کیلئے لگائے گئے مخصوص پتھروں کے فرش ٹوٹ چکے ہیں اور ان سے اکھاڑے گئے پتھر ابھی بھی کارکنوں کے ہاتھوں میں دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں میں سے ایک گوجرانوالہ کے رہائشی ابو ہریرہ نے بتایا کہ وہ گوجرانوالہ میں دروازوں اور کھڑکیوں کے قبضے بنانے کا کام کرتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں پتھر تھا۔ جو اس نے ہوا میں لہراتے ہوئے کہا کہ یہ پتھراس نے عمران خان کے گھر کے باہر سے اٹھایا ہے اور اس سے وہ پولیس کو مارے گا۔

زمان پارک کے اندر واقع گول گرائونڈ میں بیرون شہر سے آئے پی ٹی آئی کارکنوں نے ڈیرے لگائے ہوئے ہیں اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ انہیں میں ایک کالعدم تنظیم کے اراکین بھی شامل ہیں۔ اس کالعدم تنظیم کے افراد شہر کے مختلف علاقوں میں بھی پناہ گزین ہیں۔ جبکہ کچھ شر پسند عناصر کو زمان پارک ہی کے بعض گھروں میں رہائش کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ ان کے علاوہ بھی لوگ مختلف ریسٹ ہائوسز اور نجی ہوٹلوں میں یہ مقیم ہیں۔ تاہم زیادہ تر کارکنان مختلف گھروں اور ڈیروں میں رہائش پذیر ہیں۔

کینال روڈ پر زمان پارک کے باہر پی ٹی آئی کے پشتو بولنے والے کئی کارکنان مقامی عمرانڈوز کو گھروں میں جانے کی تلقین کرتے ہوئے یہ کہتے بھی سنے گئے کہ تم لوگ جائو۔ اب ہم نے سیکورٹی سنبھال لی ہے۔ خان کا تحفظ کرلیں گے۔ اب کوئی ادھر کا رخ کرنے کی جرات نہیں کرے گا۔

ریاستی اداروں کو بھی زمان پارک میں ایسے لوگوں کی موجودگی کی اطلاعات فراہم کی گئی ہیں۔ جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دوسرے صوبوں میں مطلوب ہیں۔ اس کی تصدیق کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس نے تحریکِ نفاذِ شریعت محمدی سوات کے سابق امیر مولانا صوفی محمد کے ترجمان اور مرکزی امیر محمد عبداللہ کی تصویر بھی جاری کی ہے۔ سیکورٹی اداروں سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق زمان پارک میں دیکھنے میں تو ڈنڈے، غلیلیں اور پتھر ہی ہیں۔ لیکن جدید آتشیں اسلحے رکھنے والے عمرانڈوز بھی وہاں موجود ہیں اور یہ اسلحہ گزشتہ پانچ چھ روز میں یہاں پہنچایا گیا ہے۔ پولیس سے تصادم کیلئے استعمال ہونے والے زیادہ تر پتھر عمران خان کے گھر سے ڈیڑھ فرلانگ کے فاصلے سے گزرتی ریلوے لائن سے بھی جمع کیے گئے تھے۔ جس کے بعد ریلوے لائن کے اطراف میں کچھ فاصلے تک شامیانے بھی لگا دیئے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق کالعدم تنظیم کے کارکنوں کی زمان پارک میں موجودگی کی اطلاعات کی تصدیق نگران حکومت کے وزیر عامر میر نے بھی کی ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ یہ معلومات آئی جی پنجاب کے ساتھ شیئر کی گئی ہیں۔ درجنوں سیکورٹی اہلکار مزید معلومات اکٹھی کر رہے ہیں اور حاصل شدہ معلومات کی نادرا سمیت مختلف ذرائع سے تصدیق کی جارہی ہے۔

ذرائع کے مطابق پولیس کے ساتھ تصادم میں دکھائی دینے والے ایک ہی وضع قطع کے کئی کارکنوں کی شناخت نہیں ہو پارہی ہے۔ تاہم انہیں شناخت کرنے کا عمل جاری ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ جب ریاستی اداروں اور سیکورٹی اداروں کے ذمے داران سے یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ کالعدم تنظیم کے شدت پسندوں کی اطلاعات کے بعد کیا کارروائی کی جارہی ہے تو اس پر جواب دینے اور تبصرہ کرنے سے گریز کیا گیا۔

البتہ سرکاری طور پر انسپکٹر جنرل پولیس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ انتظامیہ، انٹیلی جنس ادارے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک پیج پر متحد ہیں اور اس اتحاد کی موجودگی میں کوئی ریاست پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

دریں اثنا ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی اداروں کی جانب سے زمان پارک آنے والوں کی مکمل چھان بین کے بعد مزید لائحہ عمل طے کیا جارہا ہے اور مشکوک اور مطلوب افراد کی الگ الگ شناخت بھی جاری ہے۔ مطلوب افراد کی گرفتاریوں کی پلاننگ بھی کی جارہی ہے۔ پی ایس ایل ختم ہو چکا ہے اب جلد آپریشن کلین سویپ ہونے والا ہے۔ غالب امکان ہے کہ ان مطلوب افراد کی لاہور سے باہر نکلنے پر گرفتاریاں عمل میں لائی جائیںگی۔

بے سرے اور بے تا ل پاکستان کا با جا کس نے توڑا ؟

Back to top button