سسٹم کے ضامن زرداری کو ایوان صدر سے نکالنا ممکن کیوں نہیں؟

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ صدارت کے منصب پر دوبارہ فائز ہونے والے آصف علی زرداری موجودہ ہائبرڈ نظام کے ضامن ہیں، لہذا وہ دوبارہ اپنی پانچ سالہ مدت پوری کریں گے، انہیں اس سے پہلے ایوان صدر سے نکالنا تو دور کی بات، ایسا کرنے کا سوچنا بھی ممکن نہیں ہے۔

معروف لکھاری اور تجزیہ کار بلال غوری ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے روزنامہ جنگ میں لکھتے ہیں کہ کچھ دنوں سے آصف زرداری کو ایوان صدر سے نکالنے کی افواہیں زیر گردش ہیں۔ گزشتہ دور میں انکے ساتھ صدارتی ترجمان کی حیثیت سے خدمات سرانجام دینے والے فرحت اللہ بابر نے اپنی حالیہ کتاب میں کچھ ایسے واقعات بیان کیے ہیں جن سے صورت حال کو باآسانی سمجھا جاسکتا ہے۔ 10 اکتوبر2011ء کو برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز میں ایک مضمون شائع ہوا جس سے پاکستان کی سیاست میں بھونچال آگیا۔ منصور اعجاز نے دعویٰ کیا کہ اسامہ بن لادن کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے ایبٹ آباد آپریشن کے ایک ہفتہ بعد یعنی 9 مئی 2011ء کو ایک سینئر پاکستانی ڈپلومیٹ نے ان سے رابطہ کر کے درخواست کی کہ صدر زرداری وائٹ ہائوس کو یہ ہنگامی پیغام بھیجنا چاہتے ہیں کہ ایبٹ آباد آپریشن میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد فوج کی طرف سے اقتدار پر قبضہ کیے جانے کا خدشہ ہے، لہٰذا امریکی انتظامیہ مداخلت کرے اور جنرل اشفاق پرویز کیانی کو کہا جائے کہ ایسی مہم جوئی سے باز رہیں۔

بعد ازاں یہ دعویٰ کیا گیا کہ منصور اعجاز سے رابطہ کرنے والے سفارت کار دراصل امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی ہیں۔ پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے یہ قومی سلامتی کا معاملہ قرار پایا اور اسے میموگیٹ سکینڈل کا نام دیا گیا۔ فرحت اللہ بابر کے مطابق میمو گیٹ بظاہر تو حسین حقانی کیخلاف چارج شیٹ تھی لیکن اس کا اصل نشانہ صدر زرداری تھے۔حسین حقانی پر دبائو بڑھنے لگا تو یہ باتیں ہونے لگیں کہ وہ صدر زرداری کیخلاف سلطانی گواہ بن جائیں گے۔22 نومبر 2011 کو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے دفتر میں ایک اہم ترین نشست ہوئی جس میں صدر زرداری اور جنرل اشفاق پرویز کیانی نے شرکت کی۔ اس بیٹھک میں فیصلہ ہوا کہ حسین حقانی استعفیٰ دیدیں تاکہ شفاف انداز میں تحقیقات کو یقینی بنایا جاسکے۔

بلال غوری فرحت اللہ بابر کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ حسین حقانی نے استعفیٰ دیدیا اور کہا کہ اب مجھے امریکہ واپس جانے دیں، لیکن آصف زرداری کو معلوم تھا کہ دیوتا حسین حقانی کی بھینٹ پر مطمئن نہیں ہونگے اور مزید قربانی کا مطالبہ کرینگے۔ میمو گیٹ کی بنیاد پر صدر زرداری کیخلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت سنگین غداری کا مقدمہ دائر کرکے ٹرائل کرنے کی باتیں ہونے لگیں تو زرداری نے جواب آں غزل کے طور پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرکے سازش کا بھانڈا پھوڑنے کا اعلان کردیا۔ فرحت اللہ بابر کے مطابق صدر آصف زرداری بظاہر تو پراعتماد تھے مگر وہ شدید دبائو کا شکار تھے۔

کتاب کے صفحہ نمبر 303 کے مطابق اس دبائو کے اثرات پہلی بار 29 نومبر 2011 کو تب سامنے آئے جب سری لنکن وفد کی ایوان صدر میں آصف زرداری سے سرکاری ملاقات تھی۔ فرسٹریشن کا یہ عالم تھا کہ صدر آصف زرداری بلاتوقف اور بے ربط بولتے چلے گئے۔ وہ پاکستان میں سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی حملے بارے اظہار خیال کرنا شروع ہوگئے اور کہنے لگے کہ ٹرائل آصف زرداری کا نہیں بلکہ امریکہ کا ہوگا۔ ابہوں نے یہ بھی کہا کہ میں افواج پاکستان کا سپریم کمانڈر ہوں۔ اس پر سلمان فاروقی نے اے ڈی سی کو اشارہ کیا، جنہوں نے ملاقات ختم ہونے کا اعلان کیا۔ اسکے بعد صدر زرداری کی باقی ماندہ مصروفیات منسوخ کر دی گئیں۔ کچھ روز بعد زرداری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کا مسودہ تیار کرنے کیلئے مشیروں کااجلاس طلب کیا۔ایک بار پھر صدرزرداری دو گھنٹے تک خودکلامی کے انداز میں بولتے چلے گئے۔ اس گفتگو کے دوران انکی آواز بلند سے بلند تر ہوتی چلی گئی، ان کے لہجے میں تلخی آتی چلی گئی، ایک موقع پر انکا پورا جسم لرزنے لگا، زبان لڑ کھڑانے لگی۔ انکا چہرہ مرجھا گیا، اور ہھر گردن دائیں طرف صوفے پر ڈھلک گئی۔

فرحت اللہ بابر کی کتاب کے مطابق طبی امداد کے کیلئے ڈاکٹر کو طلب کیا گیا اور انہیں انکی خواب گاہ میں پہنچا دیا گیا۔ صدر زرداری کو علاج کی غرض سے دبئی لیجانے کی تیاریاں شروع کردی گئیں۔ انہیں اسلام آباد ایئرپورٹ لیجانے کیلئے ہیلی کاپٹر ایوان صدر میں لینڈ کر گیا۔ مگر اب ایک اور مسئلہ آن کھڑا ہوا۔ صدر زرداری ہر صورت حسین حقانی کو اپنے ساتھ لیجانا چاہتے تھے جبکہ حسین حقانی کا نام دیوتاؤں کی ترتیب دی گئی نو فلائی لسٹ پر تھا۔ وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ اگر آپ حقانی کو ساتھ لے گئے تو حکومت ایک دن بھی برقرار نہیں رہ پائے گی۔ مگر آصف زرداری حقانی کے بغیر سفر کرنے کو تیار نہیں تھے۔ اس موقع پر کسی نے یہ تجویز بھی دی کہ صدر زرداری کو بیہوش کرکے جہاز میں بٹھائیں اور حقانی کے بغیر دبئی لیجائیں۔

ایک سر کٹے شہر کی کہانی، سینیئر صحافی سہیل وڑائچ کی زبانی

تاہم کتاب کے مطابق صدر زرداری لوڈڈ گن کیساتھ حسین حقانی کو ساتھ لیکر ہیلی کاپٹر نمبر ایک میں سوار ہوگئے۔ 30 منٹ تک ہیلی نے اُڑان نہ بھری۔ بظاہر تو یہ بتایا گیا کہ دبئی حکام کی طرف سے اجازت ملنے کا انتظار ہے مگر حقیقت کچھ اور تھی۔ صورتحال اس قدر گھمبیر تھی کہ صدر زرداری کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم نے انکے ساتھ ہیلی کاپٹر میں بیٹھنے سے انکار کر دیا۔ انکا خیال تھا کہ صدر زرداری کے پاس لوڈڈ گن ہے، وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی اور بلاول بھٹو زرداری ہیلی پیڈ پہنچے اور صدر زرداری کو قائل کرکے ہیلی کاپٹر سے نیچے اُتارا اور بتایا کہ اب آپ کہیں نہیں جارہے، حسین حقانی یہیں ایوان صدر میں آپ کیساتھ ہونگے۔ قصہ مختصر، صدر زرداری کو حقانی کے بغیر دبئی جانا پڑا تو کہا گیا کہ وہ اب کبھی واپس نہیں آئینگے لیکن وہ نہ صرف پاکستان واپس آئے بلکہ اپنی مدت صدارت پوری کی۔ تاہم یاد رہے کہ ایوان صدر کے ذرائع نے فرحت اللہ بابر کے ان دعووں کی تردید کرتے ہوئے انہیں مضحکہ خیز قرار دیا تھا۔

بلال غوری کہتے ہیں کہ تمام طرف افواہوں کے باوجود اگر صحت اور زندگی نے ساتھ دیا تو صد4 آصف زرداری اپنی دوسری پانچ سالہ مدت صدارت بھی مکمل کریں گے چونکہ وہ موجودہ ہائبرڈ نظام کے خالقوں اور ضامنوں میں سے ایک ہیں۔

Back to top button