فوج کو حکومت میں آئینی کردار دلوانے کا ضیائی ایجنڈا مکمل

 

 

 

27ویں آئینی ترمیم سے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق کا وہ خواب پورا ہوتا دکھائی دیتا ہے جو اس نے 46 برس قبل دیکھا تھا، یعنی فوج کو حکومت کے معاملات میں باضابطہ آئینی کردار دلوانا۔ ضیا اپنی بھرپور کوشش کے باوجود جس مجلسِ شوریٰ سے اس خواب کی تعبیر نہیں لکھوا سکا تھا، اسے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے دور میں وزیر اعظم شہباز شریف کی ہائبرڈ حکومت نے پورا کر دیا ہے۔

 

بی بی سی اردو کے لیے اپنے تازہ تجزیے میں معروف لکھاری اور تجزیہ کار وسعت اللہ خان ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے یاد دلاتے ہیں کہ جنرل ضیا نے غیر جماعتی مجلسِ شوریٰ کے ذریعے فوجی نمائندگی پر مبنی قومی سلامتی کونسل بنانے کی کوشش کی تھی۔ مجلسِ شوریٰ نے مارشل لا اٹھانے کی قیمت کے طور پر آٹھویں آئینی ترمیم کے ذریعے ضیا کو طاقتور صدر کے طور پر 58 ٹو بی کے تحت منتخب حکومت اور اسمبلی کو برطرف کرنے کے اختیارات تو دے دیے، مگر فوج کی سربراہی میں قومی سلامتی کونسل تشکیل دینے کا مطالبہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ضیا کے پاس 58(2)(b) جیسا مہلک ہتھیار پہلے سے موجود تھا، لہٰذا اسے مجلس شوری کے اس انکار سے زیادہ فرق نہیں پڑا تھا۔

 

وسعت اللہ خان لکھتے ہیں کہ 1988 میں جماعتی پارلیمانی نظام کی بحالی اور محمد خان جونیجو کے وزیرِاعظم بننے کے بعد آنے والی حکومتیں مسلسل 58(2)(b) کے اختیارات کے گرد گھومتی رہیں۔ اکتوبر 1998 میں آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت نے نیول کیڈٹس سے خطاب میں فوج اور سویلین نمائندوں پر مبنی ایک مشترکہ نیشنل سکیورٹی کونسل بنانے کی تجویز پیش کی تو دو تہائی اکثریت رکھنے والی نواز شریف حکومت نے انہیں استعفا دینے پر مجبور کر دیا۔ یہ ایک ایسا غیر معمولی واقعہ تھا جس نے سیاسی قیادت پر فوج کے اعتماد میں ایک اور گرہ ڈال دی۔

 

جنرل جہانگیر کرامت کی جگہ جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف بنایا گیا تو یہ امید پیدا ہوئی کہ سویلین حکومتیں اب شاید اپنی آئینی مدت پوری کرنے لگیں اور اقتدار کی ایک سویلین حکومت سے دوسری کو منتقلی معمول بن جائے۔ لیکن جب نواز شریف کو حکومت کے خلاف سازش کی بو آئی، تو انہوں نے پرویز مشرف کو اس کے عہدے سے برطرف کر دیا، مشرف نے جوابی وار کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور نواز شریف کو قید میں ڈال دیا۔

 

وسعت اللہ خان لکھتے ہیں کہ جب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ’’میثاقِ جمہوریت‘‘ پر دستخط کیے، تو عمران خان کو بطور سیاسی پیادہ میدان میں اتارا گیا۔ 2018 کے دھاندلی زدہ الیکش  کے ذریعے انہیں وزیرِ اعظم بنا دیا گیا۔ تاہم جنرل باجوہ کا ’’دس سالہ عمران خان پروجیکٹ‘‘ ساڑھے تین برس میں ہی دم توڑ گیا اور پھر عمران خان کو عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانے کے لیے دوبارہ انہی نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی خدمات لی گئیں۔ حیرت انگیز طور پر بانی پی ٹی آئی نواز شریف کے برعکس ایک ’’سخت اخروٹ‘‘ ثابت ہوئے، جنہیں سیاسی بساط سے باہر رکھنے کے لیے ہر ممکن قانونی حربہ آزمایا جا رہا ہے۔

 

دوسری طرف اتحادی دونوں جماعتوں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی قیادت کو بڑی کامیابی سے یہ باور کرایا گیا ہے کہ انتخابی جمہوریت کا تھیٹر چلے گا ضرور، مگر تماشائیوں کی فرمائشوں پر نہیں بلکہ ’’تھیٹر کے ڈائریکٹر‘‘ کی مرضی سے۔ سیاسی کرداروں کو پتلی ٹائپ بادشاہ اور وزیر بننا ہے، سب نے مؤدبانہ انداز میں ’’جی سر، جی سر‘‘ کہہ کر یہ سبق ازبر کر لیا۔

وسعت اللہ خان کا کہنا ہے کہ نئی طاقت کے توازن کی اس ڈرائنگ میں عدلیہ کو لگام دیے بغیر رنگ پورے نہیں ہو سکتے تھے۔ 2006 کی عدلیہ بحالی تحریک نے جہاں مشرف کے قدم اکھاڑے، وہیں اس نے نئی عدلیہ اور وکلا برادری کو غیر معمولی خود اعتمادی اور شدت پسندی بھی دی، جس نے عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے روایتی گٹھ جوڑ میں پہلی مرتبہ دراڑ ڈالی۔ یکے بعد دیگرے چیف جسٹس کریز سے باہر نکل کر ’’جاوید میانداد‘‘ بننے کی کوشش میں مبتلا رہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار عدلیہ مخالف سیاست دان اب اسٹیبلشمنٹ الیون کا حصہ بن چکے ہیں۔

 

وسعت اللہ خان کے مطابق یہ ماننا پڑے گا کہ موجودہ ’بادشاہ گر اسٹیبلشمنٹ‘ پہلے والوں سے کہیں زیادہ زیرک ہو چکی ہے۔ اب صرف دباؤ اور دھمکی پر انحصار نہیں بلکہ معیشت اور سیاست پر مکمل گرفت کے لیے چھڑی کے ساتھ ساتھ حکمت، صبر اور تدبیر کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ پہلے عمران خان سے روایتی سیاسی طبقے کو پٹوایا گیا، پھر 9 مئی کے ڈنڈے سے عمران خان کو کچلا گیا، اور پھر روایتی سیاسی جماعتوں پر 8 فروری کے انتخابات کا احسان رکھ کر ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ انہی جماعتوں سے روندوا دیا گیا۔

 

اب، وسعت اللہ خان کے مطابق، 9 مئی کے ڈنڈے کی ضرورت اس لیے باقی نہیں رہی کہ 10 مئی کی ’’بنیان المرصوص‘‘ فتح اس کی جگہ لے چکی ہے۔ اسی لیے 26ویں ترمیم کے بعد 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین کو ’’مکھن کی ٹکیہ‘‘ کی طرح کاٹ کر رکھ دیا گیا۔ جو ایجنڈا پہلی ترمیم سے مکمل نہ ہو سکا تھا، وہ دوسری سے پایۂ تکمیل کو پہنچ گیا۔ یوں جنرل ضیاءالحق کا فوج کو حکومتی معاملات میں آئینی کردار دلوانے کا 46 برس پرانا خواب پورا ہو گیا۔

کیا صدر زرداری کی ناراضی کے بعد سرفراز بگٹی کا بچنا ممکن ہے؟

وسعت اللہ کے مطابق پچھلے ایک برس کی آئینی پیش قدمی عسکری حکمت عملی کے نقطۂ نظر سے دیکھیں تو سمجھ آتا ہے کہ اس کا مقصد یہ نہیں کہ دس کے دس اہداف ایک ہی وار میں حاصل کر لیے جائیں۔ بلکہ جو ہدف آسانی سے حاصل ہو سکتا ہے، اسے پہلے مضبوط کرو، اس پر گرفت مستحکم کرو، اور پھر اگلے ہدف پر پوری توانائی سے چڑھائی کرو۔ موجودہ منظرنامہ اسی حکمتِ عملی کی کامیاب تعبیر ہے۔

 

Back to top button