ذوالفقار علی بھٹو جونئیر کی نئی جماعت، ایک اور چلا ہوا کارتوس

پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے پوتے اور میر مرتضیٰ  بھٹو کے بیٹے ذوالفقار علی بھٹو جونیئر نے نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ہمشیرہ فاطمہ بھٹو کے ساتھ مل کر جلد اسکے نام کا اعلان کریں گے۔

ذوالفقار علی بھٹو جونیئر نے کراچی میں اپنی آبائی رہائش گاہ 70 کلفٹن میں ایک پریس کانفرنس میں نئی سیاسی جماعت بنا کر سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کی نئی جماعت بھی ان کی سوتیلی والدہ غنوی بھٹو کی جماعت کی طرح ایک چلا ہوا کارتوس ثابت ہوگی کیونکہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی موجودگی میں کسی اور جماعت کی دال گلنے کا امکان نہیں۔

یاد رہے کہ 20 ستمبر 1996 کو کراچی میں اپنی رہائش گاہ کے باہر ایک پولیس مقابلے میں جان گنوانے والے ذوالفقار علی بھٹو کے بیٹے میر مرتضی بھٹو نے بھی خود ساختہ جلاوطنی ختم کرتے ہوئے پاکستان واپس لوٹنے کے بعد اپنی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) کی بنیاد رکھتے ہوئے سیاسی  سرگرمیاں 70 کلفٹن سے شروع کی تھیں۔ اپنی پریس کانفرنس میں ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنی پارٹی کے نام پر غور کر رہے ہیں جس کا اعلان فاطمہ بھٹو کے پاکستان آنے کے بعد کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی ہمشیرہ جلد پاکستان آنے والی ہیں۔

صدر ٹرمپ پاکستان کی محبت میں مودی کو انگلی کیوں کروانے لگے ؟

اس سے پہلے پاکستان پہنچنے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو جونیئر  نے بار بار کہا تھا کہ وہ سیاست میں قدم نہیں رکھیں گے لہذا یہ سوال اٹھتا ہے کہ انہوں نے اچانک اپنا ذہن بدلتے ہوئے سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیوں کیسے کر دیا؟اس سوال کے جواب میں ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کا کہنا تھا کہ میں نے فیصلہ کیا تھا کہ سیاست نہیں کروں گا، لیکن بعد میں مجھے محسوس ہوا کہ ہم پر ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے ملک اور اسکے عوام کے لیے کچھ کریں۔ تاہم جب پریس کانفرنس کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے اپنے دادا ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی اور اپنے والد کی پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) میں شمولیت اختیار کرنے کے بجائے نئی سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کیوں کیا تو ان کا کہنا تھا کہ میرے بزرگوں کی جماعت ’پیپلز پارٹی ہائی جیک ہوچکی ہے، ہم زرداری لیگ کو مسترد کرتے ہیں، یہ وہ پیپلز پارٹی نہیں جو ذوالفقار علی بھٹو نے بنائی تھی۔

پیپلز پارٹی (بھٹو شہید) کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بھٹو جونیئر نے کہا کہ میر مرتضیٰ بھٹو کی پارٹی کے لوگوں نے شہید بھٹو کا نام استعمال کر کے کرپشن کی، اس لیے میں نے ایک نئی جماعت بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔  نئی سیاسی جماعت کے منشور کے حوالے سے ذوالفقار علی بھٹو جونیئر نے بتایا کہ ’اس نئی جماعت کا منشور وہی ہوگا جو ذوالفقار علی بھٹو کا تھا، جس میں نہ صرف روٹی کپڑا، مکان ہوگا، بلکہ صاف پانی، بجلی اور گیس بھی شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ ذوالفقار علی بھٹو کی پی پی پی کا نعرہ مساوات تھا، ہم مساوات کو اپنے منشور کا حصہ بنائیں گے، جس کے تحت پاکستان میں رہنے والے تمام لوگ برابر ہوں اور ان کو مساوی حقوق حاصل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ’پاکستان میں ڈویلپمنٹ عوام کے لیے نہیں بلکہ عوام کے اوپر ہوتی ہے، ہمیں پتہ ہے کہ کون پاکستان چلا رہا ہے؟ ہم نوجوانوں کی طاقت سے اس نظام کو بدل سکتے ہیں۔‘

پاکستانی سیاست میں فوجی اسٹبلیشمنٹ کے کردار بارے سوال کے جواب میں بھٹو جونیئر نے کہا کہ ’مجھے اسٹیبلشمنٹ کی کوئی سپورٹ نہیں ہے، میں خود اپنے آپ کو بنانے کی کوشش کر رہا ہوں۔‘

Back to top button