اسٹیبلشمنٹ کا عمران کو اقتدار دلوانے کا تجربہ کیسے ناکام ہوا؟


تحریک انصاف حکومت کی اڑھائی سالہ بدترین پرفارمس اور ادارہ جاتی بحران کو دیکھتے ہوئے ماہرین نے گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی ضرورت پر زور دیا ہے کیونکہ اس صورت پاکستان کو خدانخواستہ واضح دکھائی دینے والی تباہی سے بچایا جاسکتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں یہ بات طے ہو گئی ہے کہ 2018میں نئے نظام کا جو تجربہ کیا گیا، وہ بری طرح ناکامی سے دوچار ہوگیا۔ ریاستی اداروں نے اپنی حدود سے آگے بڑھ کر اُس کے ساتھ تعاون کیا۔ میڈیا نے مثبت رپورٹنگ کی نئی تاریخ رقم کردی لیکن اُس کے باوجود یہ نظام چلنے کا نام نہیں لے رہا۔ اِن حالات میں ایک بار پھر تبدیلی کی صدائیں بلند ہونے لگی ہیں لیکن سنجیدہ حلقے تبدیلی سے زیادہ گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ پر زور دے رہے ہیں۔ وجہ صاف ظاہر ہے، اِس وقت جن مسائل کا سامنا ہے اُن میں بعض تو حکومت سے متعلق ہیں لیکن زیادہ تر کا تعلق ریاست سے ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ حکومت کو خطرات کم لیکن ریاست کو زیادہ درپیش ہیں اور اِس لئے ریاستی اداروں کے مابین گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت زیادہ محسوس کی جارہی ہے۔
سنیئر صحافی سلیم صافی روزنامہ جنگ کے لئے اپنے تازہ کالم میں کھتے ہیں کہ حقیقت تو یہ ہے کہ تحریک انصاف حکومت متنازعہ ہے، سوائے پی ٹی آئی کے باقی ہر جماعت نے انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیا تھا۔ سینیٹ ہو یا قومی اسمبلی یا پھر صوبائی اسمبلیاں، ویسے تو اپوزیشن کے لوگ بھی اِس میں بیٹھے ہیں لیکن اُن کو کوئی جینوئن منتخب ادارہ سمجھتا ہے اور نہ اُن کے پاس کوئی اختیار ہے۔ملک معاشی طور پر تباہی سے دوچار ہے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ جی ڈی پی گروتھ منفی کی طرف جارہی ہے۔ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو اقتصادی حوالوں سے پاکستان کے لئے سلامتی کا خطرہ بن سکتا ہے۔ فوج کے ادارے سے متعلق پہلی مرتبہ سوالات اُٹھ رہے ہیں۔ ماضی میں صرف بلوچستان، پختونخوا اور سندھ سے تنقید ہوتی تھی، آج پنجاب کا لیڈر نواز شریف سب سے سخت لہجہ استعمال کررہا ہے۔
ماضی میں حکومتیں اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان پل کا کردار کرتی تھیں لیکن موجودہ حکومت کو اپنی بقا اِس میں نظر آتی ہے کہ وہ اپوزیشن کو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ لڑا دے۔ اپوزیشن پر جب غداری کے الزامات لگتے ہیں تو جواب میں اُن کی طرف سے بھی بعض اوقات ایسے بیانات آجاتے ہیں جو قومی مفاد کے لئے نقصان کا باعث بن جاتے ہیں۔ بلوچستان، قبائلی اضلاع اور گلگت بلتستان کی محرومیاں اپنی جگہ برقرار ہیں جبکہ مسنگ پرسنز کا معاملہ ریاست اور عوام کے مابین خلیج بڑھا رہا ہے۔الیکشن سے پہلے اور الیکشن کے بعد عدلیہ پر جس طرح دبائو ڈالا گیا یا پھر ثاقب نثار اور ارشد ملک جیسے ججز نے جو کردار ادا کیا، اس کی وجہ سے عدلیہ پر عوام کا اعتماد بہت مجروح ہو گیا ہے۔ اِس میں اب کوئی شک نہیں رہا کہ قومی احتساب بیورو، احتساب کا نہیں بلکہ سیاسی انتقام اور سیاسی بلیک میلنگ کا ادارہ ہے۔ خود چیئرمین نیب بھی بلیک میل ہورہے ہیں اور جب نیب سے متعلق اصل حقائق سامنے آئیں گے تو قیامت صغریٰ برپا ہوگی۔ مقبوضہ کشمیر کو مودی نے ہڑپ کر لیا لیکن سفارتی محاذ پر پاکستان کی تنہائی کا یہ عالم ہے کہ انڈیا کو کسی صورت فیصلہ واپس لینے پر مجبور نہیں کرپا رہا۔ دوسرا آپشن جنگ کا ہے لیکن ظاہر ہے اِس وقت پاکستان جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
سلیم صافی سمجھتے ہیں کہ یہ خطرہ موجود ہے کہ کشمیری پاکستان سے مایوس ہو جائیں جبکہ دوسری طرف ملک کے اندر سیاسی پولرائزیشن کی وجہ سے اپوزیشن، حکومت اور اُس کے سہولت کاروں پر کشمیر فروشی کا الزام لگ رہا ہے۔اقتصادی اور سفارتی میدانوں میں ماضی کے عرب دوست ہمارا بڑا سہارا ہوا کرتے تھے لیکن عمران خان کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے وہ ہم سے دور ہو گئے ہیں۔ ہم ایران کے اعتماد کو بحال کر نہیں سکے تھے کہ سعودی عرب اور یو اے ای کا اعتماد کھو بیٹھے۔ یہ ایک نیا چیلنج ہے۔ مڈل ایسٹ یا مشرق وسطیٰ کی تبدیلیاں بھی ہمارے لئے نیا چیلنج بن گئی ہیں۔ سعودی عرب اور یو اے ای اب ایران سے زیادہ ترکی کو خطرہ سمجھنے لگے ہیں۔ اِسی تناظرمیں اسرائیل کو تسلیم کیا جارہا ہے بلکہ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ یو اے ای، اسرائیل اور انڈیا اسٹرٹیجک الائنس کرنے جارہے ہیں۔ اِسی طرح پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے دبائو بڑھے گا۔ اِن ملکوں کے ساتھ تعلقات میں توازن پل صراط پر سفر ہے۔ اور اگر عمران خان کی حکومت پر چھوڑا جائے گا تو وہ روایتی افراط و تفریط سے کام لے کر معاملات کو مزید تباہ کردے گی۔
یہ وہ چیلنجز ہیں جن کا اِس وقت ملک کو سامنا ہے اور اگر اِن کے مقابلے کے لئے قوم کی اجتماعی ذہانت کو بروئے کار نہ لایا گیا تو اِس ملک کو خانہ جنگی سے صرف اللہ کا کرم ہی بچا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس وقت ملک میں بدترین غربت اور بےروزگاری کے ساتھ ساتھ بدترین گھٹن بھی جنم لے چکی ہے جو کسی وقت بھی ایک لاوے کی شکل میں پھٹ سکتی ہے اور اِس تباہی کا راستہ روکنے کا اِس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہنگامی بنیادوں پر گرینڈ قومی ڈائیلاگ کا آغاز کیا جائے جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز شریک ہوں۔ سوال یہ ہے کہ اس ڈائیلاگ کا اہتمام کون کرے؟ کیا حکومت کرے؟ نہیں، حکومت نہیں کر سکتی کیونکہ یہ تاریخ کی متنازعہ ترین حکومت ہے۔ تو پھر کیا فوج کرے لیکن فوج کے لئے بھی مناسب نہیں ہوگا کیونکہ وہ نہ صرف ایک ادارہ ہے بلکہ اہم فریق بھی سمجھا جاتا ہے۔ تو پھر کیا عدلیہ کرے؟ میرے نزدیک عدلیہ بھی چونکہ ریاستی ادارہ ہے اور ڈائیلاگ میں فریق بھی، اس لئے شاید عدلیہ کے لئے بھی مناسب نہیں۔
ماہرین کے خیال میں اِس ڈائیلاگ میں حکومت، اپوزیشن، فوج اور عدلیہ کو شریک ہونا چاہئے ۔ یہ ڈائیلاگ آئین کے بنیادی ڈھانچے کے دائرے کے اندر ہونا چاہئے۔ اس ڈائیلاگ کے ذریعے موجودہ سیاسی بحران کا فوری حل تجویز کرنے، انتخابی اصلاحات اور نئے انتخابات کے لئے وقت کا تعین، ہر ادارے کے کردار کو آئین میں متعین کردہ کردار تک محدود کرنے کے رولزم آف گیم وضع کرنے، بلاامتیاز احتساب کا نظام تشکیل دینے اور ٹروتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن کا قیام ہونا چاہیے لیکن سوال تو یہ سب کیسے ممکن ہوگا کیونکہ ملک میں تقسیم کا عمل خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے ایسے حالات میں کسی کرشمے کی توقع ہی کی جاسکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button