جسٹس عیسیٰ کیس واپس ہوگا یا فروغ نسیم فارغ ہوجائے گا؟

معلوم ہوا ہے کہ اٹارنی جنرل فار پاکستان کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور خان کی فراغت کے بعد سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، پاکستان بار کونسل اور وکلا برادری کی طرف سے وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کی چھٹی کے مطالبے کے بعد اب حکومت جسٹس فائز عیسی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر صدارتی ریفرنس واپس لینے پر غور کر رہی ہے۔
سپریم کورٹ کے لارجر بینچ پر اپنے ساتھی جج قاضی فائز عیسیٰ کی طرفداری کا الزام لگانے کے بعد عہدے سے فارغ ہونے والے اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور خان کی جگہ لینے والے نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے پہلے ہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس میں پیروی سے انکار کردیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ وہ اعلی عدلیہ کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کا حصہ نہیں بن سکتے۔ خالد جاوید خان نے اپنی تقرری سے پہلے ہی وزیراعظم عمران خان کو جسٹس فائز عیسی کیس پر اپنے موقف سے آگاہ کر دیا تھا۔ معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم کو یہ مشورہ دیا تھا کہ یہ کیس اعلیٰ عدلیہ کے ساتھ حکومتی محاذ آرائی کا باعث ہے لہذا وفاقی حکومت کو اس سے پیچھے ہٹ جانا چاہئیے۔
سپریم کورٹ کے جج حضرات کے بارے نازیبا ریمارکس دینے والے سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان کی فراغت کے بعد ملک کی وکلاء کمیونٹی نے حکومت سے جسٹس عیسیٰ کے خلاف ریفرنس واپس لینے اور وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کو بھی فارغ کرنے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے بڑھتے ہوئے پالیسی اختلافات، حکومت کو درپیش سیاسی چیلنجز اور وکلاء کمیونٹی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر اب یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ جسٹس فائز کے خلاف دائر کردہ صدارتی ریفرنس واپس لے لیا جائے گا یا وزیر قانون فروغ نسیم کو گھر بھجوایا جائے گا۔
پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ حالیہ دنوں میں جسٹس قاضی فائزعیسی کیس کے حوالے سے تمام تر سازشیں کھل کر سامنے آگئی ہیں۔ سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان کا استعفیٰ اور نو تعینات اٹارنی جنرل بیرسٹر خالد جاوید خان کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسی کیس میں حکومت کی جانب سے پیروی سے انکار، اس سازش کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس صورتحال میں حکومت کے لئے ریفرنس کی پیروی جاری رکھنے میں بدنامی کے سوا کچھ باقی نہیں بچا۔
ادھر وکلاء کمیونٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس واپس لے۔ وکلا کا مزید مطالبہ ہے کہ اعلی عدلیہ کے ججز کی جاسوسی کروانے اور وکلاء کو تقسیم کرنے کی سازش کے مرکزی کردارفروغ نسیم کو بھی فوری طور پر کابینہ سے فارغ کیا جائے۔ قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر حکومت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس واپس لینے پر رضامند ہوتی ہے تو وزیر قانون فروغ نسیم کی کرسی بچنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب کپتان کے لیے یہ پریشانی ہے کہ اگر انہوں نے صدارتی ریفرنس واپس لیا تو ایک بار پھر یوٹرن لینے کا الزام لگے گا کیونکہ یہ ریفرنس صدر علوی نے وزیراعظم کی سفارش پر دائر کیا تھا۔
ایک اور مشکل یہ ہے کہ ریفرنس واپس لینے سے اسٹیبلشمنٹ کے مزید ناراض ہونے کا خدشہ بھی ہے۔ ان حالات میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر صدارتی ریفرنس حکومت کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں وزیراعظم یہ بھی ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی نہیں چاہتے۔ اٹارنی جنرل انور منصور خان کی چھٹی بھی اسی تاثر کو مضبوط بنانے کے لیے کی گئی تھی۔ ایسے میں قانونی ماہرین وزیراعظم کو صلاح دے رہے ہیں کہ ریفرنس کو واپس لے لیا جائے ورنہ کم سے کم وزیر قانون فروغ نسیم کی قربانی دینا ہوگی۔
قانونی اور آئینی ماہرین کا خیال ہے کہ جسٹس عیسیٰ کے خلاف ریفرنس انتہائی کمزور بنیادوں پر بنایا گیا ہے لہذا اس سے کچھ نہیں نکلے گا۔ کپتان اینڈ کمپنی نے اسٹیبلشمنٹ کو خوش کرنے کے لئے یہ ریفرنس دائر کیا تھا لیکن ملک کی بدلتی ہوئی صورتحال میں اب اسٹیبلشمنٹ اور کپتان بھی ایک پیج پر نہیں رہے لہذا اگر اسٹیبلشمنٹ مستقبل میں کپتان کو کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی ہے تو جوڈیشری کے علاوہ کپتان کو بچانے والا کوئی نہیں۔ لہذا کپتان کو ان حالات میں سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریفرنس واپس لے کر عدلیہ کو سو فیصد یقین دلانا چاہئے کہ وہ حق کے ساتھ کھڑے ہیں۔
خیال رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس زیر التوا ہے لیکن کونسل کی کارروائی اس لیے روک دی گئی تھی کیوںکہ جسٹس قاضی فائز کے خلاف ریفرنس کی کارروائی روکنے کی درخواست سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کئی مہینوں سے زیرالتوا ہونے کے باوجود تاحال حکومت اپنا موقف نہیں منوا سکی۔ الٹا اس کیس سے حکومت اور عدلیہ میں محاذ آرائی کا تاثر قائم ہوچکا ہے جو جسٹس فائز عیسی کی واپسی سے دور ہو سکتا ہے۔
