حکومت فون ٹریکنگ کے ذریعے پاکستانیوں کی جاسوسی کرنے لگی

معلوم ہوا ہے کہ حکومت پاکستان موبائل فون ٹریکنگ کے ذریعے اپنے شہریوں کی جاسوسی کررہی ہے۔ اس بات کا انکشاف برطانوی نشریاتی ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے کرونا وبا کی روک تھام کی آڑ میں وائرس سے متاثرہ افراد کا موبائل فون ڈیٹا ان کی اجازت کے بغیر استعمال کیا جارہا ہے۔ کئی موبائل فون صارفین نے بتایا ہے کہ حکومت ان کے فون ڈیٹا کی مدد سے ان کی لوکیشن اور کال ریکارڈز تک رسائی حاصل کر رہی ہے۔
دوسری طرف قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حکومتی عمل آئین پاکستان میں عوام کو دئیے گئے حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے اور ایک غیر قانونی عمل ہے. کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد کے ایک رہائشی نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ان کے گھر میں کرونا وائرس کے تین مریض تھے جو ہسپتال سے صحت یاب ہو کر اب گھر آچکے ہیں، مگر پچھلے چند دنوں سے ان کے کچھ خاندان والوں، دوستوں اور پڑوسیوں کو کرونا الرٹ کے نام سے ایک ایس ایم ایس میسج موصول ہو رہا ہے، جس سے وہ پریشانی میں مبتلا ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ میسج موصول ہونے کے بعد کئی لوگوں نے موبائل ٹریسنگ کے خوف سے ان لوگون سے رابطہ منقطع کر دیا ہے. پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے ملک کے بیشتر حصوں میں کئی لوگوں کو ”کرونا الرٹ“ کے نام سے ٹیکسٹ میسج ارسال کیے گئے ہیں۔ انگریزی میں جاری اس میسج میں لکھا ہے“اس بات کا امکان ہے کہ آپ پچھلے 14 دنوں میں کرونا وائرس کے کسی تصدیق شدہ کیس سے رابطے میں آئے ہیں، لہٰذا آپ سے درخواست کی جاتی ہے کہ ضروری احتیاتی تدابیر اپنائیں اور بخار، کھانسی اور سانس لینے میں دشواری یا جسمانی تکلیف جیسی علامات کی صورت میں براہ کرم 1166 پر فون کریں“ . پی ٹی اے کے ترجمان خرم مہران نے ان ایس ایم ایس پیغامات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ پیغام وزارتِ صحت کی ہدایت پر صرف مخصوص لوگوں کو بھیجے جا رہے ہیں‘ پی ٹی اے کے ترجمان نے بتایا کہ کووڈ 19 کے مریضوں کے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ موبائل نمبر پر رابطہ کرنے والے افراد کو یہ میسج بھیجا جاتا ہے.ان مریضوں کی پچھلے کچھ دنوں کی موبائل ہسٹری دیکھ کر معلوم کیا جاتا ہے کہ وہ کن علاقوں میں سفر کرچکے ہیں اورکن لوگوں سے رابطے میں رہے‘۔
انہوں نے کہا کہ وزارتِ صحت کی درخواست پر یہ میسیج اس لیے بھیجا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو آگاہ کیا جا سکے کہ ان کے علاقے میں کرونا وائرس کا کوئی مریض موجود ہے یا ان کے رابطے میں آچکا ہے لہٰذا وہ فوری طور پر احتیاطی تدابیر اپنائیں.کرونا کی روک تھام کے لیے اس وقت کئی ممالک کال ڈیٹا ریکارڈنگ ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل کانٹیکٹ ٹریسنگ سسٹم کا استعمال کر رہے ہیں، جس کے بعد دنیا میں یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کیا کرونا وبا کی روک تھام کے لیے صارفین کی نجی معلومات تک رسائی اخلاقی طور پر صحیح ہے؟
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عمل مکمل طور پر غیر قانونی ہے اور اگر پھر بھی حکومت یہ کام کرنا چاہتی ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کو آگاہ کریں کہ کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے ان کے موبائل فونز ٹریک کیے جا رہے ہیں. انہوں نے کہا کہ پی ٹی اے کے ایس ایم ایس پیغام کی وجہ سے کئی افراد خوف میں مبتلا ہیں اور وہ کرونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے کے باوجود ٹیسٹ کروانے نہیں جا رہے کیوں کہ انہیں ڈر ہے کہ اگر ٹیسٹ کے نتائج مثبت آگئے تو ان کی اور ان کے اہل خانہ کی نگرانی کی جائے گی.
ماہرِ قانون بیرسٹرعلی طاہر نے وضاحت کی کہ آئین کی شق 14 کے مطابق پرائیویسی یا رازداری پاکستان کے ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ کی دفعہ38 کے مطابق کوئی ادارہ یا کوئی فرد اگر کسی شخص کی ذاتی معلومات بغیر رضامندی کے ظاہر کرتا ہے تو یہ جرم تصور ہو گا.انہوں نے کہا کہ یہ رسائی صرف جوڈیشل وارنٹ کے ذریعے ہی ممکن ہے لیکن وہ بھی صرف ان حالات میں جب کسی جرم کی تحقیقات کرنی ہوں۔ جہاں تک ڈیٹا پروٹیکشن قوانین کی بات ہے تو اس حوالے سے ایک بل پارلیمنٹ میں موجود ہے لیکن وہ ابھی تک منظور نہیں ہوا. انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دوسرے ملکوں کے برعکس ڈیٹا پروٹیکشن قوانین تو موجود نہیں لیکن آئین کے دیے گئے حقوق کی بنا پر یہ عمل غیر قانونی ہے. موبائل فون کی ٹریسنگ کے لیے مختلف طریقے استعمال ہوتے ہیں، مثلاً موبائل کیریئرز سیل سائٹ انفارمیشن استعمال کرتے ہوئے موبائل کی لوکیشن کے بارے میں پتہ چل سکتا ہے ۔جیسے ہی کوئی موبائل فون ایک سیل ٹاور سے دوسرے سیل ٹاور کی جانب سفر کرتا ہے تو موبائل نیٹ ورک کال ڈیٹا ریکارڈز کی شکل میں وقت اور مقام کے ساتھ کالز، ایس ایم ایس اور ڈیٹا کے استعمال جیسی معلومات بھی ریکارڈ کر لیتا ہے.
لہذا یہ ممکن ہے کہ موبائل فون کے کال ڈیٹا ریکارڈز کے ذریعے کرونا وائرس کے مریضوں کے ساتھ ساتھ ان کے ارد گرد رہنے والوں اور ان کے رابطے میں آنے والے افراد کا ڈیٹا ریکارڈ کیا جا سکے۔ پاکستان میں اس ٹیکنالوجی کا استعمال عام ہے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے مطابق پنجاب پولیس کا محکمہ انسداد دہشت گردی بڑے جرائم کی روک تھام کے لیے اس سسٹم کی مدد لیتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button