کرونا سے پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کی معیشت شدید متاثر ہوگی

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ کورونا وائرس بحران کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی حالات سے پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے اور اس نقصان سے نمٹنے کے لئے 25 کھرب ڈالر تک کے معاون پیکیج کی ضرورت ہوگی۔
گزشتہ روز جاری ہونے والی اقوام متحدہ کی تجارت اور ترقی سے متعلق کانفرنس (یو این سی ٹی اے ڈی) کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان، ارجنٹائن اور سب صحارا افریقی ممالک کو ’خوفناک امتزاج‘ کے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا، جس میں قرضوں کے اضافے شامل ہیں جس کے ساتھ ساتھ صحت کے شعبے پر تباہ کن اثرات بھی رونما ہوں گے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معیشتیں اعلی سرمائے کے بہاؤ سے ’بری طرح متاثر‘ ہوں گی، اشیاء کی گرتی ہوئی قیمتوں اور کرنسی کی قدر میں کمی کی وجہ سے برآمدات کے منافع میں کمی ہوگی، جس کا مجموعی اثر 2008 کے بحران سے کہیں زیادہ خراب ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ’بین الاقوامی اداروں کو اس قسم کی تجاویز کو بہت سنجیدگی سے لینا چاہیے کیونکہ یہ واحد راستہ ہے جس سے ہم پہلے ہی سے ہونے والے نقصان کو روکنے کے لیے دیکھ سکتے ہیں اور جو بدتر ہوں گے‘۔کوزول رائٹ نے تخمینہ لگایا کہ اس سال اور اگلے سال میں کورونا وائرس 20 سے30 کھرب ڈالر کے مالی خسارے کا سبب بنے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو اس سال معاشی بحران کا سامنا کرنے کے لیے 25 کھرن ڈالر کے امدادی پیکیج کی ضرورت ہوگی۔مطلوبہ اقدامات میں 10 کھرب ڈالر کا لیکویڈیٹی انجیکشن اور 01 کھرب ڈالر کا قرض سے نجات پیکیج شامل ہوگا اور ہنگامی صحت سروسز اور متعلقہ پروگراموں کے لیے حکومت کے کنٹرول میں بالترتیب مزید 50 کروڑ ڈالر کی ضرورت ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button