ڈیم فنڈ کے نام پر عوام سے لیا گیا اربوں روپیہ کہاں گیا؟

حکومت پاکستان کو مہمند ڈیم منصوبے کی تعمیر کے لئے مجموعی طور پر ایک کھرب 80 روپے کی رقم درکار ہے تاہم وزیر اعظم اور چیف جسٹس فنڈ میں اگست 2019 تک جمع ہونے والی کل رقم تقریبا 11 ارب روپے بنتی ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ صرف مہمند ڈیم کی تعمیرکے لئے ابھی ایک کھرب اور 69 ارب روپے مزید درکار ہیں۔
دوسری طرف حکومت نے ڈیم فنڈ میں جمع کی گئی رقم ڈیمز کی تعمیر پر صرف کرنے کی بجائے اس سے سرمایہ کاری شروع کر دی۔ حکومت نے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم فنڈ میں جمع ہونے والے عطیات میں کمی آنے کے بعد سے ڈیم فنڈ کی جمع شدہ رقم سے سرکاری ہنڈی(ٹی بیز) میں سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی طرف سے دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کے حوالے سے وزیر اعظم اور چیف جسٹس پاکستان فنڈز میں آنے والے 10اعشاریہ9ارب روپے سے حکومتی ٹریژری بلز میں سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔
ڈیم فنڈ کی رقم سے سرکاری ٹریژری بلز میں سرمایہ کاری کے حوالے سے خصوصی سیکرٹری خزانہ اور سرکاری ترجمان عمر حمیدکا کہنا ہے کہ 14 فیصد منافع کے حصول کے لئے ڈیم فنڈ کی رقم ٹی بیز میں لگائی جا رہی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈیم فنڈ کی جمع شدہ رقم کی ٹریژری بلز میں سرمایہ کاری نیشنل بینک آف پاکستان کے ذریعے کی جارہی ہے جبکہ ڈیم فنڈز کی مد میں مزید جمع ہونے والے فنڈزسے بھی ٹریژری بلز میں سرمایہ کاری کی جائے گی۔
ملک میں پانی کے ذخائر کی تعمیر کے لئے جولائی 2018 میں ڈیم فنڈ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا اور اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار اور وزیر اعظم عمران خان نے عوام سے ڈیم فنڈ میں عطیات جمع کرانے کی اپیل کی تھی۔
چیف جسٹس اور وزیر اعظم ڈیمز فنڈ میں آنے والی رقم 95 فیصد کم ہو چکی ہے۔ ڈیم فنڈ میں ایک ماہ میں صرف 4 کروڑ 82 لاکھ روپے چندہ جمع کرایا گیا ہے،، پہلے اوسطا ماہانہ 90 کروڑ روپے سے زیادہ رقم جمع ہو رہی تھی۔۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق 23 اگست تک دیامر بھاشا اینڈ مہمند ڈیم فنڈ میں مجموعی طور پر 10 ارب 90 کروڑ 50 لاکھ 60 ہزار روپے جمع کرائے گئے ہیں،، ان میں سے ایک ارب 67 کروڑ روپے بیرون ملک سے چندہ دیا گیا،، جو کل رقم کا ساڑھے 14 فیصد بنتا ہے،، ڈیم فنڈ گزشتہ سال جولائی میں قائم کیا گیا تھا،، اس سال جولائی کے تیسرے ہفتے تک فنڈ میں 10 ارب 85 کروڑ 68 لاکھ روپے اکٹھے ہوئے،، جو اوسطا ماہانہ 90 کروڑ 47 لاکھ روپے بنتے ہیں،، تاہم اس کے بعد ایک ماہ کے دوران فنڈ میں صرف 4 کروڑ 82 لاکھ 6 ہزار روپے ہی چندہ دیا گیا،، جس میں بیرون ملک سے آنے والی رقم صرف 43 لاکھ 6 ہزار روپے ہے،، ایک ماہ کے دوران ایس ایم ایس کے ذریعے مجموعی طور پر 5 لاکھ روپے ہی چندہ دیا گیا،، پہلے اوسطا ماہانہ 1 کروڑ 24 لاکھ روپے مل رہے تھے،، اسٹیٹ بینک کے پاس ڈیم فنڈ میں اس وقت صرف 2 کروڑ 17 لاکھ روپے ہی پڑے ہیں۔
دریائے سوات پربننے والے مہمند ڈیم کی تعمیر کا سنگ بنیاد دو مئی2019 کو رکھا گیا۔ واپڈا نے ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ چینی کمپنی چائنا گژوبا اور پاکستانی کمپنی ڈیسکون کو مشترکہ طور پر دیا جس کی مالیت 180 ارب روپے سے زیادہ کی ہے۔
واپڈا کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق پشاور شہر سے 48 کلومیٹر کا فاصلے پر دریائے سوات پر کنکریٹ کی مدد سے تعمیر کیے جانے والے ڈیم کی اونچائی 213 میٹر ہوگی اور منصوبے کے تحت اس سے آٹھ سو میگا واٹ بجلی حاصل کی جا سکے گی۔
ڈیم کی تعمیر سے بننے والی مصنوعی جھیل میں 13 لاکھ ملین ایکڑ فیٹ پانی سٹور ہو سکتا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ سات گیٹ پر مشتمل ڈیم کی تعمیر سے سالانہ 2800 گیگا واٹ سے زیادہ بجلی بنائی جائی گی
جبکہ دوسری طرف پاکستان کے شمالی علاقہ جات، گلگت بلتستان میں بھاشا کے مقام پر دیامیر بھاشا ڈیم متعدد بار تعمیر کا افتتاح ہونے کے باوجود فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک صرف ابتدائی مراحل میں ہے۔ 4500 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والے ڈیم کے منصوبے کے آغاز پر اس کا تخمینہ 12 ارب ڈالر لگایا گیا تھا لیکن مختلف ماہرین کے مطابق اس ڈیم کی کل لاگت اب 18 سے 20 ارب ڈالر تک جا سکتی ہے۔
مارچ 2018 میں وفاقی حکومت نے اصولی طور پر دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے رقم مختص کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ بجٹ میں 370 ارب روپے اس ڈیم کی تعمیر کے لیے مختص کیے جائیں گے جبکہ واپڈا تقریباً 116 ارب روپے اپنے ذرائع سے جمع کرے گا۔ بقیہ 163 ارب روپے بینکوں سے قرضوں کی مد میں لیے جائیں گے لیکن تاحال ڈیم کا صرف پی سی ون ہی مکمل ہو سکا ہے۔
حکومتی اعلان کے مطابق پہلے مرحلے میں دیامیر بھاشا ڈیم کے صرف پانی ذخیرہ کرنے کی سہولت پر کام ہوگا جبکہ بجلی بنانے والے سیکشن کی تعمیر میں مزید 900 ارب روپے سے زائد درکار ہوں گے اور کل منصوبے کی تعمیر پر 1.7 کھرب روپے کی لاگت آسکتی ہے۔ واپڈا کے مطابق اس ڈیم کی تعمیر 2012 میں شروع ہونا تھی اور اسے 2016 میں مکمل ہونا تھا لیکن ابھی تک صرف پی سی ون ہی مکمل ہوا ہے۔ اس ڈیم کی تعمیر سے 800 میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی اور 12 لاکھ ایکٹر سے زائد پانی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے
