ایران پر حملوں سے پاکستان سفارتی مشکل میں کیوں پھنس گیا ؟

 

 

 

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ پاکستان کو بھی ایک نازک سفارتی دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف تہران کے ساتھ طویل سرحد اور تاریخی تعلقات، دوسری جانب واشنگٹن اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ معاشی و سٹریٹجک مفادات کی وجہ سے اسلام آباد کے لیے جاری کشیدگی کے دوران توازن برقرار رکھنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ، اسرائیل کی جنگ میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ کیا پاکستان اس طوفان میں غیر جانبدار رہ سکتا ہے، یا اسے بالآخر واضح صف بندی کرنا پڑے گی؟

 

عالمی امور کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کے مطابق موجودہ حالات میں پاکستان کے لیے ایران کی صورتحال کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ اسلام آباد نے اب تک ایران پر اسرائیلی و امریکی حملوں کی مذمت کی ہے مگر امریکہ کا نام لینے سے گریز کیا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک کے ساتھ بھی اظہارِ یکجہتی کیا ہے لیکن ایران کے کویت، یواے ای، قطر، بحرین اور عمان سمیت مختلف ممالک پر حملوں بارے کوئی ردعمل ظاہر کرنے کی بجائے صرف مذاکرات سے مسائل کے حل پر زور دیا ہے۔ ان کے بقول، ایران امریکہ اسرائیل جنگ کے دوران پاکستان کی جانب سے اختیار کی گئی یہ متوازن پالیسی چند دن تو چل سکتی ہے، لیکن اگر جنگ طول پکڑ گئی تو پاکستان کو واضح پوزیشن لینا ہوگی، اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ پاکستان کیلئے آسان نہیں ہوگا۔‘‘

 

بعض دیگر مبصرین کے مطابق پاکستان کو ایران امریکہ جنگ بارے واضح اور دوٹوک موقف اختیار کرنے میں سفارتی کے ساتھ ساتھ کئی معاشی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ پاکستان کے پاس اگرچہ ایٹمی صلاحیت اور مضبوط فوج موجود ہے، مگر کمزور معیشت اسے آزاد خارجہ پالیسی اختیار کرنے سے روکتی ہے۔پاکستان جانتا ہے کہ کوئی بھی جارحانہ سفارتی پالیسی اپنانے کے نتیجے میں آئی ایم ایف جیسے مالیاتی اداروں کے فیصلے پاکستان کی معاشی سانسوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ویسے بھی پاکستان کی برآمدات کا بڑا حصہ مغربی منڈیوں سے جڑا ہے جبکہ لاکھوں پاکستانی سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں میں کام کر کے ترسیلاتِ زر بھیجتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کا عالمی نظام سے الگ ہو کر کوئی جرات مندانہ فیصلہ کرنا ممکن نہیں۔

 

ادھر بعض حکومتی حلقے یہ تاثر بھی دیتے دکھائی دیتے ہیں کہ اسلام آباد، واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات کی بنیاد پر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران مصالحتی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس حوالے سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ڈائیلاگ اور سفارتکاری ہی اس مسئلے کا حل ہے اسی لئے پاکستان تمام علاقائی ملکوں سے رابطے میں ہے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاہم ناقدین اس مؤقف کو زیادہ پر امید نہیں سمجھتے۔ ان کےبقول، وزیر خارجہ کی سفارتی سرگرمیاں اس وقت تک فیصلہ کن اثر نہیں ڈال سکتیں جب تک بڑی طاقتیں خودجنگ کوروکنے اور مذاکرات کرنے پرسنجیدہ نہ ہوں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اس حوالے سے پاکستان کے اندر بھی پالیسی سازی کے حوالے سے مکمل ہم آہنگی نہیں۔ حکومتی اشرافیہ امریکہ کے ساتھ قربت میں خود کو محفوظ سمجھتی ہے، جبکہ سٹریٹجک حلقے چین کو طویل المدت دفاعی ضامن تصور کرتے ہیں۔ دوسری جانب ایک سینئر سفارت کار کا کہنا ہے کہ پاکستانی دفتر خارجہ کی صلاحیتوں کو کم تر نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق،پاکستان کے امریکہ، عرب ملکوں اور ایران کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں اس لئے پاکستان مصالحتی کوششوں میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے،  اسلام آباد ماضی میں بھی متحارب فریقوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے اور موجودہ بحران میں بھی اصولی موقف کے ساتھ مصالحتی کردار ادا کر سکتا ہے۔

امریکہ اور ایران کی جنگ میں پاکستان بال بال کیسے بچا؟

تاہم ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کا محتاط طرزِ عمل محض مجبوری نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا سٹریٹجک انتخاب ہے۔ اگر یہ جنگ پھیلتی ہے تو اس کے براہِ راست اثرات پاکستان پر مرتب ہوں گے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ پہلے سے دباؤ کا شکار معیشت کو مزید کمزور کر سکتا ہے۔ خلیجی فضائی حدود کی بندش یا پروازوں میں رکاوٹ ترسیلاتِ زر پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ خلیج میں کام کرنے والے پاکستانی مزدوروں کی ممکنہ واپسی ایک نیا معاشی و سماجی بحران پیدا کر سکتی ہے۔ مزید برآں پاک۔ایران سرحد پر سکیورٹی دباؤ میں اضافہ بھی خارج از امکان نہیں۔ مبصرین کے مطابق فی الحال اسلام آباد ’’دیکھو اور انتظار کرو‘‘ کی حکمت عملی پر گامزن دکھائی دیتا ہے کیونکہ ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ جنگ محدود دائرے میں رہے گی یا کسی بڑے علاقائی تصادم میں بدل جائے گی۔ اسی غیر یقینی کیفیت میں پاکستان جذباتی یا فوری صف بندی کے بجائے حالات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے۔ مگر سوال بدستور قائم ہے: اگر ایران امریکہ اسرائیل جنگ طویل ہو گئی تو کیا پاکستان غیر جانبدار رہ پائے گا؟ یا اسے اپنے مفادات، جغرافیے اور معیشت کے تقاضوں کے مطابق کسی ایک سمت کھڑا ہونا پڑے گا؟ مبصرین کے مطابق آنے والے دن نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے بھی فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

Back to top button