کیا فوجی قیادت ایک فریق بننے کی بجائے نیوٹرل ہونے جا رہی ہے؟

باخبر ذرائع کا کہنا ہے اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک میں تیزی آنے کے بعد اس بات کا قوی امکان موجود یے کہ فوجی قیادت کسی بھی فریق کے ساتھ پارٹی بن کر کھڑا ہونے کی بجائے نیوٹرل ہو جائے تاکہ اس کی ساکھ پر کوئی سوال نہ اٹھایا جا سکے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن اتحاد کی تحریک بظاہر تو حکومت مخالف ہے لیکن اس کا اصل ایجنڈا بنیادی طور پر اسٹیبلشمنٹ مخالف ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی لڑائی وزیراعظم عمران خان سے نہیں ہے بلکہ ان چند جرنیلوں سے ہے جنہوں نے دھاندلی کے ذریعے انہیں وزیر اعظم بنایا۔ لہذا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستانی فوجی اسٹیبلشمینٹ یہ چاہے گی کہ اپوزیشن کی موجودہ تحریک کامیاب ہو اور ان کی بنائی گئی کپتان حکومت گر جائے۔ ظاہر ہے کہ اگر ایسا ہوگیا تو پھر اپوزیشن جماعتیں اپنا اینٹی اسٹیبلشمنٹ ایجنڈا لے کر آگے بڑھیں گی اور سیاست سے فوج کی مداخلت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنے کے لیے آئینی اقدامات کریں گی۔ اگر اس حقیقت سے اسٹیبلشمنٹ بھی آگاہ ہے تو پھر تو وہ موجودہ فوجی قیادت تو کسی صورت عمران حکومت کو گرنے نہیں دے گی۔
لیکن ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ فوجی اسٹیبلشمینٹ بھی آخر کب تک پاکستانی تاریخ کی اس ناکام ترین حکومت کا ساتھ دے کر اپنی ساکھ کا جنازہ نکالنے کا رسک لے سکتی ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ عہدے میں توسیع تو آرمی چیف جنرل باجوہ نے حاصل کی تھی جسکا فائدہ بھی صرف انکی ذات کو ہی ہوا لیکن کیا اسکا نقصان پاکسان کو یا فوج کے ادارے کو ہونا چاہیئے۔ لہذا ناقدین سوال کرتے ہیں کہ دیگر جرنیل کب تک کسی کی ذات کو بچانے کے لیے اپنے ادارے کی ساکھ کو برباد کرنے کی اجازت دیں گے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فوج میں ہمیشہ سے ایکسٹینشن حاصل کرنے والا آرمی چیف بالآخر اپنے ادارے میں آئسولیٹ ہو کر رہ جاتا ہے اور پھر مجبورا اس کو وہ کرنا پڑتا ہے جو کہ ساتھی جرنیلوں کی اکثریت چاہتی ہے۔ لہذا جو تجزیہ نگار یہ سمجھتے ہیں کہ اپوزیشن کی موجودہ تحریک کے خاتمے تک فوج کا ادارہ وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا رہے گا انکو اپنے تجزیے پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ صورتحال بالکل الٹ بھی ہو سکتی ہے اور اس چیز کا قوی امکان موجود ہے کہ اپوزیشن کی تحریک میں تیزی آنے کے نتیجے میں فوجی اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہو جائے اور کپتان حکومت کے خلاف لائی جانے والی ممکنہ عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے دے۔ یعنی مختصر الفاظ میں فوجی اسٹیبلشمنٹ اپوزیشن کی موجودہ حکومت مخالف تحریک کو اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کی بحالی کے لیے بھی استعمال کرسکتی ہے۔
ویسے بھی اسوقت پاکستانی فوجی قیادت نواز شریف کی جانب سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید پر نام لے کر مسلسل الزامات لگائے جانے کے بعد سے شدید دباو میں ہے اور چاہے گی کہ ان پر لگے الزامات کا داغ دھل جائے۔ لہذا اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک میں تیزی آنے کے بعد پس پردہ مذاکرات کے نتیجے میں اس بات پر اتفاق ہو جائے کہ اگر اپوزیشن وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائے تو اسٹیبلشمنٹ اس میں نیوٹرل رہے۔ ایسی صورت میں وزیراعظم کا اپنے عہدے پر برقرار رہنا ناممکن ہو گا۔
موجودہ صورتحال یہ ہے کہ بظاہر حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے تحریک میں تیزی لائے جانے کے باوجود مذاکرات کے لیے تیار نہیں اور حزب مخالف کے اسمبلیوں سے استعفوں کی دھمکی کے جواب میں وزیر اعظم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ ضمنی انتخابات کروانے کے لیے تیار ہیں۔ ایسے میں سوال یہ بھی یے کہ ادارے کتنا عوامی دباؤ برداشت کر سکتے ہیں۔ اس کا فیصلہ دسمبر کا مہینہ کرے گا اور دیکھنا یہ یے کہ 2020 کا دسمبر ماضی کی طرح ستمگر ثابت ہو گا کہ نہیں۔
سینئر صحافی اور اینکر پرسن عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ ہمارے لیے دسمبر اپنے دامن میں کئی قومی داغ لیے بیٹھا ہے۔ سولہ دسمبر سقوط ڈھاکہ، سولہ دسمبر سانحہ آرمی پبلک سکول، 27 دسمبر محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت۔ ایسی آگ اس دسمبر میں لگی ہے جو سورج کے سوا نیزے پر ہونے سے بھی نہ لگے۔ دسمبر کی ان شاموں میں وہ تپش ہے جو جون کی تپتی دوپہروں میں بھی نہ ہو اور ایسا حبس جو کبھی ساون بھادوں میں بھی سلگتی زمین سے نہ نکلا ہو۔
اب ایک اور دسمبر کا سامنا ہے۔ عاصمہ یاد دلواتی ہیں کہ دسمبر 1971 میں پاکستان دو لخت کیسے ہوا تھا؟ مشرقی پاکستان مغربی پاکستان سے جُدا کیوں ہوا تھا؟ اور کس کی انا اور ضد نے پاکستان کو اس نہج تک پہنچایا کہ دنیائے اسلام کی سب سے بڑی ریاست دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوئی۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر برسر اقتدار قوتوں خو برا نہ لگے تو انہیں آج کے سیاسی منظر نامے پر بھی غور کرنا چاہیے کہ کہیں دوبارہ سے حالات اسی نہج پر تو نہیں جا رہے۔
عمران خان کے وزارت عظمی پر فائز ہونے کے دو سال بعد پاکستان کی گیارہ چھوٹی بڑی سیاسی جماعتیں یک نکاتی ایجنڈے پر یکجا ہیں۔ یہ ایجنڈا حکومت مخالف نہیں بلکہ اسٹیبلشمنیٹ مخالف ہے۔ دلچسپ بات یہ کہ ماضی کی ’مائنس ون‘ تحریکوں کے برعکس اس بار اپوزیشن تحریک کا مطالبہ محض ‘مائنس ون’ نہیں۔ یہ تحریک ملک میں سویلین بالادستی اور ادارہ جاتی سیاست کی عدم مداخلت کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اپنے تئیں یہ تحریک اپنے حتمی مراحل میں داخل ہو رہی ہے جس کا اظہار پنجاب کے مرکز اور دارالحکومت لاہور سے تیرہ دسمبر کو ہونے جا رہا ہے۔ یوں تو تحریکیں ایوب خان، یحیی خان، ضیا الحق اور پرویز مشرف کے خلاف بھی چلیں جن میں حکومتوں کو برطرف کرنے اور عام انتخابات کی راہ ہموار کرنے کا مطالبہ سر فہرست رہا مگر اس تحریک کا محور بظاہر سیاسی مگر دراصل غیر سیاسی ہے۔
بڑا سوال یہ ہے کہ پی ڈی ایم اپنے چھبیس نکاتی ایجنڈے کے حصول کے لیے کس حد تک جا سکتی ہے؟ یاد ریے ماضی کی تمام حکومتوں یا مارشل لاؤں کی کامیابی میں ’ادارے کے اندر‘ کا تعاون ایک اہم اور سب سے بڑا خاصہ رہا تاہم اندر کا تعاون ہمیشہ تحریکوں کے نتیجے میں پیدا شدہ دباؤ کے تحت ہی وجود میں آتا رہا۔
عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا احاطہ کرنے والی کئی ایک کتابوں میں واضح طور پر موجود ہے کہ جنرل ایوب کے خلاف اُس وقت کے جنرل یحییٰ، جنرل یحییٰ کے خلاف اس وقت کی اسٹیبلیشمنٹ، جنرل ضیا الحق اور جنرل مشرف کے خلاف اندرونی بیرونی طاقتوں کا کردار اہم رہا اور یہ بھی سچ ہے کہ جو بھی جس راستے سے آیا اُسی راستے سے ہٹایا بھی گیا۔ سیاسی حکومتیں بھی بظاہر سیاسی لانگ مارچ مگر اسٹیبلیشمنٹ کے سہارے ایک دوسرے کا پتہ کاٹتی رہیں۔ تحریک انصاف کا لانگ مارچ اور دھرنا وہ واحد سیاسی تحریک تھا جسے اسٹیبلیشمینٹ کی ہمدردی کے باوجود پذیرائی نہ ملی اور اُس کا سبب بدلتے معروضی حالات اور سیاسی طاقتوں کا ایک جگہ اکٹھا ہونا تھا۔
اس پس منظر میں حزب اختلاف کی موجودہ تحریک کس حد تک کامیاب ہو گی یہ ایک بڑا سوال ہے کیونکہ بظاہر اسے ’اداروں کی اندرونی‘ حمایت حاصل نہیں۔ ایسی صورت میں اپوزیشن جماعتیں محض دیوار سے سر ٹکرائیں گی اور حکومت کو گھر بھجوانے کی بجائے خود گھر چلی جائیں گی؟ یا سیاسی جماعتیں ’تخت یا تختہ‘ یا ’آر یا پار‘ سوچ کر نکلی ہیںن؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا نواز شریف، آصف زرداری اور مولانا محض سیاسی ورزش کے لیے میدان میں اُترے ہیں؟ جواب ہو سکتا ہے ہرگز نہیں، تو پھر آگے کیا؟ حتمی نتیجہ کیا ہو گا؟ اینڈ گیم کس کے نام ہو گی؟
حزب اختلاف کی جماعتوں کے سرکردہ راہنماؤں کے پاس شاید اس سوال کا کوئی حتمی جواب نہیں مگر سیاسی سربراہوں کے پاس ضرور موجود ہے۔ یہ قائدین ’زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم کیا‘ پر آنے کو تیار ہو سکتے ہیں۔ یہ بات تو ملتان جلسے کے بعد ظاہر ہو گئی ہے کہ جلسوں کو روکے جانا ناممکن ہے اور جلسوں اور لانگ مارچ کا جاری رہنا؟ ہر روز اپوزیشن کی جانب سے اپنے ’بیانیے‘ کا اظہار کہیں نہ کہیں تو دباؤ بڑھائے گا۔ کیا ادارے وہ دباؤ برداشت کریں گے؟ اسلام آباد مذاکرات کو تیار نہیں اور اپوزیشن بات چیت پر رضامند نہیں ایسے میں ادارے کتنا عوامی دباؤ برداشت کر سکتے ہیں اور کب تک پاکستان کی غیر مقبول ترین حکومت کے ساتھ کھڑے رہ سکتے ہیں۔
اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں پاکستان کی آئسولیٹڈ فوجی قیادت اور ادارے کو فیصلہ سازی کے لیے ایک ہی صفحے پر آنا ہوگا۔ اگر ایسا ہو گیا اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ اپوزیشن کی کڑی تنقید کا شکار فوجی قیادت دونوں فریقوں میں سے کسی کا ساتھ دینے کی بجائے نیوٹرل ہو جائے جس کا فائدہ ظاہر ہے اپوزیشن کو ہوگا۔
