آئینی اور سیاسی کیسز کےلیے 5 رکنی آئینی عدالت قائم کرنے کا فیصلہ

شہباز شریف کی اتحادی حکومت نے مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے مابین 2006 میں ہونے والے میثاق جمہوریت کے آئینی پیکج کے تحت ایک آئینی عدالت کے قیام کا فیصلہ کیا ہے جو پانچ ججوں پر مشتمل ہوگی اور اس کا اپنا علیحدہ چیف جسٹس ہوگا۔ مجوزہ آئینی عدالت مفاد عامہ کی بجائے صرف آئینی اور سیاسی کیسز سنے گے جن پر سپریم کورٹ کا زیادہ تر وقت لگ جاتا ہے۔ آئینی عدالت کا سپریم کورٹ آف پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہوگا اور وہ بدستور اپنا کام کرتی رہے گی۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ائینی عدالت کے قیام کا مقصد آئینی مقدمات اور مفاد عامہ کے مقدمات کو الگ الگ کر کے عدالت عظمیٰ پر بوجھ کم کرنا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پانچ رکنی آئینی عدالت کے قیام کے لیے تمام صوبوں سے ایک ایک جج لیا جائے گا جب کہ ایک جج وفاق سے لیا جائے گا۔

اس حوالے سے حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی آئینی عدالت کے قیام کا معاملہ مجوزہ آئینی ترمیم کا حصہ ہو گا، مفاد عامہ کے دیگر کیسز موجودہ سپریم کورٹ میں سنے جائیں گے۔ بتایا گیا یے کہ آئینی عدالت میں آئین کے آرٹیکل 184، 185 اور 186 سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہو گی، نجوزہ آئینی عدالت کی تشکیل میں چاروں صوبوں اور وفاق کے ججز کی نمائندگی کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ حکومتی ذرائع نے بتایا کہ آئینی عدالت میں صوبوں کی طرف سے آئین کی تشریح کے معاملات بھی زیرِ غور آسکیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے مطالبے پر میثاق جمہوریت کے تحت آئینی عدالت کے قیام کو آئینی پیکج کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

چیف جسٹس کی توسیع کے لیے دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کا اعلان

یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو اور مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف ایک طویل سیاسی رقابت کے بعد 15 مئی 2006 کو لندن میں اکٹھے ہوئے تھے، اور ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جسے میثاق جمہوریت کا نام دیا گیا تھا۔  تب جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کو تقریبا سات سال گزر چکے تھے اور بے نظیر بھٹو اور نواز شریف دونوں جلا وطنی میں زندگی گزار رہے تھے۔ ماضی کی دون2ں حریف جماعتیں پہلے مرحلے میں اتحاد برائے بحالی جمہوریت میں قریب آئیں جس کے بعد انھوں نے اس میثاق پر دستخط کیے۔ ان دنوں جنرل پرویز مشرف نے بعض ایسی آئینی ترامیم متعارف کرائی تھیں جن سے وزیراعظم کے اختیارات مذید محدود ہوئے اور مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو سیاست سے باہر رکھا گیا۔ مشرف کی ائینی ترامیم میں تیسری بار وزیر اعظم بننے پر پابندی بھی شامل تھی۔

سال 2006 میں طے پانے والے میثاقِ جمہوریت کی ایک اہم شق آئینی عدالت کا قیام بھی تھا تاہم اس پر کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی تھی۔ میثاق جمہوریت کے گواہ اور اٹھارہویں آئینی ترمیم کے مرکزی کردار رضا ربانی کہتے ہیں کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے وقت یہ جائزہ لیا گیا تھا کہ آئینی عدالت کی کتنی افادیت ہو گی۔ اس وقت سیاسی جماعتوں کا خیال تھا کہ آئینی عدالت کے پاس ہو سکتا ہے اتنا کام نہ ہو اور ایک متبادل عدالتی ڈھانچہ لا کر کھڑا کر دیں اور پتہ چلے کے اکا دکا مقدمات ہی ریفر ہو رہے ہیں۔ لیکن اگر آپ آج کے حالات دیکھیں تو آئینی عدالت کے پاس جتنا بزنس ہو گا شاید کسی اور عدالت کے پاس نہ ہو۔ اس لیے آئینی عدالت کا قیام ای احسن فیصلہ ہے جس پر فوری عمل درامد ہونا چاہیے تاکہ سپریم کورٹ کے پاس مفاد عامہ کے کیسز سننے کے لیے کھلا وقت ہو۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے جولائی 2024 میں پاکستان بار کونسل نے شہباز حکومت کو سیاسی و آئینی مقدمات سننے کے لیے آئینی عدالت کے قیام کی تجویز دے دی۔ بار کونسل کا کہنا تھق کہ حکومت آئینی ترمیم کرکے آئینی عدالت قائم کرے، آئینی عدالت کے قیام سے سپریم کورٹ پر سیاسی و آئینی مقدمات کا بوجھ ختم ہوگا۔

پاکستان بار کونسل نے نکتہ اٹھایا تھا کہ سپریم کورٹ ججز کا زیادہ وقت سیاسی مقدمات میں گزر جاتا ہے، سیاسی مقدمات کی وجہ سے عام سائلین کے مقدمات تاخیر کا شکار ہوجاتے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ آئینی عدالت کا قیام بھی عدلیہ سے متعلق آئینی ترامیم کے پیکج کا حصہ ہوگا جسے منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیا جانے والا ہے۔

Back to top button