آرٹیکل 63 اے کے فیصلے نے پارٹی سربراہ کی آمریت کیسے ختم کی؟

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسی نے آئینی ترامیم کا پیکج پیش ہونے سے چند روز پہلے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کو کالعدم قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے غلط فیصلے نے سیاسی جماعت کے سربراہ کو ایک آمر میں تبدیل کر دیا تھا کیونکہ اسے کبھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا تھا۔
یاد رہے کہ اس فیصلے کے بعد اگر اپوزیشن جماعت کا کوئی رکن مجوزہ آئینی ترمیمی پیکج کے حق میں ووٹ دیتا ہے تو اس کا ووٹ اب شمار ہو جائے گا جب کہ ماضی میں ایسا نہیں تھا۔
تفصیلی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پارٹی لائن سے انحراف کرنے والا دراصل اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کر رہا ہوتا ہے لہذا اس کا ووٹ شمار کرنا ضروری ہے۔
قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے تحریر کردہ 23 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے کیوں متفقہ طور پر 3 اکتوبر کے سابقہ حکم کو کالعدم قرار دیا جس میں کہا گیا تھا کہ آرٹیکل 63-اے کے تحت پارٹی لائن کے برعکس ڈالے گئے ووٹ شمار نہیں کیے جائیں گے۔
فیصلے میں وضاحت کی گئی کہ اس سے قبل جسٹس عمر عطا بندیال کے فیصلے نے پارٹی لائن سے انحراف کرنے والے اراکین پارلیمنٹ کے لیے مکمل ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی پارلیمنٹ کی تاریخ میں صرف ایک بار کسی رکن اسمبلی نے ضمیر کی بنیاد پر انحراف کا راستہ اختیار کیا جس کے نتیجے میں وہ آرٹیکل 63-اے کے تحت سیٹ گنوا بیٹھا۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی فیصلے میں عدلیہ کی جانب سے کسی ایجنڈے کے تحت آئینی دفعات کو اخلاقیات اور ذاتی پسند سے بدلنے کے رجحان پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس سے گریز کیا جانا چاہیے۔ فیصلے میں چیف جسٹس نے لکھا کہ گوکہ قانون ساز اخلاقی اصولوں کو قوانین میں تبدیل کر سکتے ہیں تاہم، عدالتیں اس بات کو مدنظر رکھتی ہیں کہ کون سا عمل قانونی یا غیر قانونی ہے۔
انہوں نے لکھا کہ پارلیمنٹ قانون بناتی ہے جس کا اطلاق عدالتیں کرتی ہیں اور اگر قانون میں کوئی ابہام ہو تو جج اس کی تشریح کرتا ہے، لہٰذا آئین کی تشریح بھی قانون کے دائرہ اختیار کے اندر اور تشریح کے طے شدہ اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے، بجائے کہ کوئی جج دوبارہ سے آئین لکھنا شروع کر دے۔
تفصیلی فیصلے میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ آئینی یا قانونی بنیاد کے بجائے اکثریت کے فیصلے میں اخلاقیات اور غیر قانونی اصطلاحات کی بھرمار ہے، اور برائی، کینسر، اور خطرہ جیسے الفاظ کا استعمال کیا گیا۔
سپریم کورٹ کے مطابق اس سے قبل اس معاملے پر جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے دیا گیا فیصلہ آئین کی واضح زبان اور مینڈیٹ کے ساتھ ساتھ لارجر بینچ کے سابقہ فیصلوں کے بھی خلاف تھا۔
چیف جسٹس فائز عیسی نے اپنے تفصیلی فیصلے اختتام پر جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل کے اختلافی نوٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ 17 مئی کے فیصلے میں اقلیتی ججوں کا فیصلہ برقرار ہے۔
