اداروں نے سہیل وڑائچ کی بجائے ان کی کتاب کیوں اٹھائی؟


پاکستان کی صحافتی تاریخ میں اب یہ انوکھا واقعہ ہوا ہے کہ ریاستی اداروں نے ایک صحافی کو اٹھانے کی بجائے مارکیٹ سے اس کی کتاب اٹھا لی ہے۔ جی ہاں، معروف اینکر اور صحافی سہیل وڑائچ کی کتاب ’یہ کمپنی نہیں چلے گی‘ فروخت ہونے سے پہلے ہی مارکیٹ سے اٹھا لی گئی ہے۔ ان کی کتاب بک سٹالز پر تو آئی مگر اسے مبینہ طور پر کچھ ریاستی اداروں کی جانب سے اعتراض کے بعد اٹھوا لیا گیا۔
سہیل وڑائچ کے خیر خواہوں کا کہنا ہے کہ انہیں ریاستی اداروں کا شکریہ ادا کرنا چاہیے جنہوں نے ان کو اٹھانے کی بجائے ان کی کتاب اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ کتاب کے بک سٹالز پر سے اچانک غائب ہونے پر سوشل میڈیا پر بھی بحث جاری ہے اور مختلف مکتبہ فکر کے لوگ اس کی مخالفت اور حق میں رائے دے رہے ہیں۔ اس حوالے سے سہیل وڑائچ نے بی بی سی کو بتایا کہ کتاب لکھنا پاکستان میں کوئی پیسہ بنانے کا کاروبار نہیں، اس لیے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کسی حکمت عملی کے تحت کامیاب بنانے کے لیے اٹھوائی گئی ہے۔ انہوں نے کنفرم کیا کہ ان کی کتاب کو اٹھانے والوں نے ہی اٹھایا ہے کیونکہ انہیں کتاب کے ٹائٹل پر اعتراض تھا۔ کتاب کے ٹائٹل پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ایک سوٹ میں کرسی پر بیٹھے نظر آتے ہیں جبکہ وزیراعظم عمران خان ان کے پاس زمین پر بیٹھ کر ایک بال کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ جب اس ٹائٹل کے ساتھ کتاب کے عنوان "یہ کمپنی نہیں چلے گی”، کو ملا کر پڑھا جائے تو پھر اعتراض تو بنتا ہے۔ اس حوالے سے ایک سوال کے جواب میں سہیل وڑائچ نے کہا کہ انکی ’کتاب ایسے کالموں کا مجموعہ ہے جو پہلے ہی شائع ہوچکے ہیں لیکن اعتراض اس کے سرورق پر لگی تصویر پر اٹھایا گیا ہے. ٹائٹل پر لگی تصویر پاکستان کے معروف کارٹونسٹ صابر نذر نے بنائی ہے، جن کے اکثر و بیشتر کارٹون پہلے بھی اخبارات میں چھپتے رہتے ہیں۔‘ انہوں نے ریاستی حلقوں کے اعتراض پر کتاب کا ٹائٹل تبدیل کر رہے ہیں اور جلد نئے ٹائٹل کے ساتھ یہ کتاب مارکیٹ میں لائی جائے گی۔ ان کے خیال میں اس ٹائٹل میں کوئی قابل اعتراض چیز نہیں کیونکہ خاکے کو عموماً سنجیدگی کی بجائے ہلکے پھلے انداز میں لیا جاتا ہے۔ ‘میرا مقصد صرف اپنی کتاب کے مواد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک دلچسپ ٹائٹل کے ذریعے قارئین کی توجہ حاصل کرنا تھا، جیسے ہر مصنف نئے آئیڈیاز سے اپنی تصانیف اور کتابوں کے ٹائٹل کو دلچسپ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔’
سہیل وڑائچ نے کہا کہ مجھ سے رابطہ کیا گیا کہ اس کتاب کے سرورق پر جو کارٹون ہے وہ وزیراعظم کے وقار میں کمی لاتا ہے۔ رات دیر گئے میرے بہت سے ساتھیوں اور میرے گروپ نے بہت زیادہ اصرار کیا تو میں نے ٹوئٹر سے یہ ٹائٹل ہٹا دیا۔ اب ہم اس کتاب کا سرورق تبدیل کریں گے۔‘ سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ’ظاہر ہے کہ اس سے پہلے حزبِ اختلاف بھی اس طرح کی باتیں کرتی رہی ہے کہ وزیراعظم کو کھلی چھٹی ہے، سب ایک ہی پیچ پر ہیں، تو یہ کارٹون اُسی سیاق و سباق میں بنایا گیا تھا لیکن اگر اداروں کو اس پر اعتراض ہے تو اس کو تبدیل کر لیں گے۔‘
یاد رہے کہ حال ہی میں متعدد صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کروائے گئے ہیں جن میں ان پر ریاستی اداروں کی مخالفت کے الزامات ہیں۔ کیا سہیل وڑائچ کی کتاب پر اعتراض آنا اِسی سخت برتاؤ کے سلسلہ کی ایک کڑی ہے؟ اس سوال پر سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں اس واقعے کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ مگر یہ غلط کر رہے ہیں۔ اس سے نہ حکومت کو فائدہ ہے، نہ ریاست کو اور نہ صحافت کو۔‘ انھوں نے کہا کہ صحافی نہ کسی کے مستقل طور پر خلاف ہوتے ہیں اور نہ کسی کے مستقل طور پر حمایتی کیونکہ ہماری صحافت موضوع کی بنیاد پر ہوتی ہے اور مختلف ایشوز پر ہم کبھی کسی کی حمایت کر رہے ہوتے ہیں اور کبھی کسی کی مخالفت کر رہے ہوتے ہیں۔ انھوں نے کہا مگر اس کو اس طرح دیکھنا کہ اگر کسی چیز یا بات کی مخالفت کی ہے تو یہ ہمارا دشمن ہو گیا ہے، یہ غلط ہے۔
تجزیہ کار امتیاز عالم کے مطابق اس طرح کے اعتراضات آزادی اظہار کے خلاف ہیں۔ ’کارٹون مزاح کی نمائندگی کرتے ہیں، اعتراض کرنے والے معاشرے سے مزاح ختم کرنا چاہتے ہیں جب ایسا ہو تو فکری گھٹن پیدا ہوتی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’کارٹون سے حکومتی فارمیشن کی عکاسی کی گئی ہے جو حقائق پر مبنی ہے اور کسی کو بھی اس کے اظہار کی آزادی کا حق ہے۔ اس پر اعتراض اس لیے کیا گیا کہ اس کارٹون میں مزاحیہ انداز سے حقیقت دکھائی گئی کہ عمران خان کی حکومت کہاں سے کنٹرول ہو رہی ہے اور سٹیبلشمنٹ کا کردار کیا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’یہاں مذہبی منافرت اور فرقہ ورانہ مواد سے متعلق لٹریچرعام ہے اس کے ذمہ داروں کو کوئی پکڑ نہیں سکتا جبکہ حقائق لکھنے بولنے اور دکھانے پر اعتراض ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ایسے اعتراض تخلیقی اور تحقیقی کام کو روکنے کا موجب ہیں کیونکہ سرکاری سچ سچ ہو جائے تو جھوٹ کہاں ڈھونڈیں گے؟ امتیاز عالم کے مطابق فکر کو تحقیق کو تخلیق اور تنقید کو کھلا چھوڑنا چاہیے لوگ خود فیصلہ کریں کیا اچھا ہے اور کیا برا ہے۔
یہ سوال جب پاکستان میں کئی کتابوں کے مصنف وجاہت مسعود سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ کسی کی خواہش یا اعتراض کی قانونی حیثیت نہیں ہوتی کیونکہ ریاست میں آئین موجود ہے جس کے آرٹیکل 19 میں ہر پاکستانی شہری کو آزادی اظہار رائے کا حق دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کارٹونسٹ خاکہ نگاری کرتے ہیں جن کو مسخ آئینہ قرار دیا گیا ہے۔ کارٹونسٹ اپنے فن سے معاشرے میں کسی بھی معاملے کی نشاندہی جامع انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ ہر ملک میں ہوتا ہے سوائے ایران، سعودی عرب اور چین کے۔ وجاہت نے کہا کہ معاملات کسی کی خواہش یا اعتراض پر طے نہیں ہوتے بلکہ آئین و قانون کی روشنی میں طے ہوتے ہیں لہٰذا سہیل وڑائچ نے اگر کوئی قانونی خلاف ورزی کی ہے تو ان کے خلاف مقدمہ درج تو نہیں ہوا۔ ’کارٹون ادب بجا لا کر یا احرام باندھ کر نہیں بنائے جاتے بلکہ حقائق کی عکاسی کے لیے بنائے جاتے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ لوگ بغیر بتائے بھی سب جانتے ہیں، ایسے کارٹون سے لوگوں کو حقیقت کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے۔ ’اس ملک کو کسی مخصوص سوچ سے نہیں چلایا جاسکتا بلکہ ہر مکتبہ فکر کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔‘ انہوں نے کہا کہ سہیل وڑائچ کی کتاب کے ٹائٹل پر کارٹون سے جن حقائق کی عکاسی ہوتی ہے انہیں جھٹلانے والے کارٹون کے ذریعے اس کا مقابلہ کیوں نہیں کرتے؟ ’کیونکہ تحریر کا تحریر سے، تصویر کا تصویر سے، بیان کا بیان سے اور قانون کا قانون سے مقابلہ ہوتا ہے۔ تاہم سچ تو یہ ہے کہ پاکستان میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون رائج ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button