اداکار بہروز سبزواری کی محبوبہ ان کی ماں کیسے بنی؟

سینئر اداکار بہروز سبزواری نے انکشاف کیا ہے کہ جوانی میں مجھے جو اداکارائیں اچھی لگتی تھیں، جن پر میں فدا تھا، انھوں نے ڈراموں میں ہمیشہ میری والدہ کا کردار ادا کیا۔بہروز سبزواری حال ہی میں کامیڈی شو ’’مذاق رات‘‘ میں شریک ہوئے، جہاں انہوں نے کیریئر سمیت مختلف معاملات پر کھل کر بات کی اور یہ بھی بتایا کہ پاکستان کی فلم انڈسٹری کن وجوہات کی بنا پر زوال کا سبب بنی۔اداکار نے بتایا کہ پہلی بار 1968 میں نوعمر بچوں کے پروگرام میں پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) کراچی سینٹر کا پروگرام کیا، اس وقت سندھ میں پی ٹی وی سینٹر کا آغاز ہوا تھا، سینئر پروڈیوسر ان کے محلے دار تھے جو ان سمیت ایک درجن سے زائد بچوں کو پروگرام کے لیے لے گئے، شو میں شرکت کے بعد ان کا ٹی وی سے سلسلہ جڑ گیا اور انہوں نے مسلسل اداکاری کی اور اب انہیں شوبز میں آئے ہوئے نصف صدی گزر چکی۔اداکار کے مطابق انہیں زیادہ شہرت ’خدا کی بستی‘ نامی ڈرامے سے ملے، سینما انڈسٹری کے زوال پذیر ہونے پر بھی بات کی اور بتایا کہ جب کوئی پروڈیوسر فلم بنانے کے لیے آتا تو اداکار دو دو سال تک انہیں وقت نہیں دیتے تھے اور ان سے خرچہ کرواتے رہتے تھے، ایسی بہت ساری غلطیاں انڈسٹری کے زوال کا سبب بنیں۔بہروز سبزواری نے بتایا کہ سینما انڈسٹری میں تکنیکی کام کرنے والے زیادہ تر افراد کو دوسرا کام آتا ہی نہیں تھا اور انڈسٹری کے زوال پذیر ہونے سے وہ بھی بے روزگار ہوگئے۔زائد العمر افراد کے لیے پوتے اور پوتیاں ملٹی وٹامنز کا کام کرتے ہیں اور ان کے لیے بیٹے شہروز سبزواری کی دونوں بیٹیاں ملٹی وٹامنز ہیں، خدا کا شکر ادا کیا کہ انہیں زائد العمری میں پوتیوں کی خوشی نصیب ہوئی اور وہ اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔اداکار نے بتایا کہ انہیں کبھی کسی سے یک طرفہ محبت نہیں ہوئی اور نہ ہی ان سے کسی کو محبت ہوئی، اگر کسی کو ان سے یک طرفہ محبت ہوئی بھی ہوگی تو اس شخص نے انہیں اس کا پتا نہیں لگنے دیا، ’خدا کی بستی‘ کے بعد جب وہ لڑکپن سے جوانی میں داخل ہو رہے تھے تو وہ ٹی وی کی متعدد اداکاراوں پر فدا تھے، کئی اداکارائیں ان کا ’کرش‘ تھیں۔بہروز سبزواری کا کہنا تھا کہ تاہم انہوں نے کبھی کسی اداکارہ کو یہ پتا نہیں لگنے دیا کہ وہ انہیں پسند کرتے ہیں، حیران کن طور پر جن اداکاراؤں پر وہ فدا تھے، ان میں سے زیادہ تر اداکارائیں بعد ازاں ڈراموں میں ان کی ماں کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں۔

Back to top button