اسامہ کو مروانے والے پاکستانی CIA ایجنٹ کی جیل میں بھوک ہڑتال

ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی رہائش گاہ کی نشاندہی کرنے میں امریکی سی آئی اے کی مدد کے الزام میں 33 برس قید کی سزا بھگتنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی نے عدالت سے شنوائی نہ ملنے پر ساہیوال جیل میں تادم مرگ بھوک ہڑتال کر دی ہے۔ شکیل آفریدی نے پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزا کے خلاف اپیلوں کی سماعت میں تاخیر پر احتجاجاً تادم مرگ بھوک ہڑتال کر دی ہے۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے بھائی جمیل آفریدی نے ان سے جیل میں ملاقات کے بعد بتایا کہ ’بھوک ہڑتال کا مقصد ان ناانصافیوں اور غیر انسانی رویوں کے خلاف احتجاج کرنا ہے جو ان کے اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ روا رکھے جا رہے ہیں۔ شکیل آفریدی کے وکیل قمر ندیم نے بھی بھوک ہڑتال کی تصدیق کی ہے۔
یاد رہے کہ شکیل آفریدی اس وقت ساہیوال کی ایک جیل میں قید ہیں۔ انہیں ایک عدالت نے دہشتگردوں کے ساتھ تعلقات کے جرم میں سزا سناتے ہوئے مئی 2012 میں 33 سال کےلیے قید کی سزا سنائی تھی۔ تاہم شکیل آفریدی نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔ بعدازاں ان کی سزا کو کم کرکے 10 سال تک کر دیا گیا تھا۔
تاہم امریکی انتظامیہ شکیل آفریدی کی سزا کو انتقام قرار دے چکی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ شکیل آفریدی کو قید اسی لیے ہوئی ہے کیوںکہ انہوں نے اُسامہ بن لادن کو ڈھونڈنے میں امریکی خفیہ ادارے کی مدد کی تھی جس سے حکومت پاکستان کا یہ مؤقف غلط ثابت ہوگیا کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں نہیں چھپا ہوا۔
یاد رہے کہ پاکستانی فوجی حکام نے اسامہ بن لادن کے امریکی فوجی آپریشن میں مارےجانے کے فورا بعد شکیل آفریدی کو گرفتار کر لیا تھا اس نے ایبٹ آباد میں پولیو مہم کی آڑ میں اسامہ بن لادن کے ٹھکانے کا پتہ لگایا تھا اور تمام انفارمیشن امریکی سی آئی اے کو پہنچا دی تھی جس کے بعد ایبٹ آباد آپریشن ہوا اور القاعدہ کا سربراہ مارا گیا۔
شکیل آفریدی کو سالوں تک کسی وکیل تک رسائی نہیں تھی، جبکہ ان کی سزا کے خلاف دائر درخواست اب بھی برسوں سے رُکی ہوئی ہے۔ ان کی عدالت میں پیشی میں ہر بار تاخیر ہوتی ہے۔ ان کے اہلِ خانہ نے بھی حکام کے ہاتھوں نشانہ بنائے جانے اور ہراساں کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔
خیال رہے کہ 2مئی 2011 میں امریکی افواج نے ایبٹ آباد میں رات کی تاریکی میں ایک خفیہ آپریشن میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے چند روز بعد ڈاکٹر شکیل آفریدی کو پشاور کے علاقے کارخانہ مارکیٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ لیکن حیران کن طورپر انہیں سزا سی آئی اے کا جاسوس ہونے کی بجائے ایک
شدت پسند تنظیم کے ساتھ تعلق رکھنے کے الزام میں دی گئی تھی۔ ان پر اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ باڑہ کی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا، جہاں مئی 2012 میں انہیں کالعدم عسکریت پسند تنظیم لشکر اسلام کو مالی اور طبی معاونت فراہم کرنے پر 33 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
