احسان اللہ احسان کے ‘فرار’ پر حکومت وضاحت دے

شہدائے آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) فورم کے صدر ایڈووکیٹ فضل خان کی قیادت میں کے شہید طلبہ کے لواحقین نے پشاور پریس کلب کے باہر احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گرد گروپ کالعدم تحریک طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے حراست سے مبینہ طور پر فرار ہونے کی وضاحت دی جائے۔
مظاہرین نے حکومت سے احسان اللہ احسان کے مبینہ طور پر فرار ہونے کے حوالے سے اٹھنے والے سوالوں کے جواب دینے اور اس حوالے سے تفتیش شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔ ایڈووکیٹ فضل خان کا کہنا تھا کہ ‘احسان اللہ احسان کے مبینہ فرار کی خبروں سے اے پی ایس کے متاثرین میں احساس محرومی پیدا ہوا ہے اور اس معاملے پر حکومت کی خاموشی نے سوالات کھڑے کردیے ہیں’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ایک دہشت گرد اعلیٰ درجے کی سیکیورٹی سے لیس ریڈ زون سے کیسے فرار ہو سکتا ہے، یہ ایک اچھا لطیفہ ہے’۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ غم زدہ والدین انصاف کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں لیکن حکومت نے ان کے مطالبات پر توجہ دینے سے انکار کردیا ہے۔ شہدا کے والدین کا کہنا تھا کہ احسان اللہ احسان کے فرار کی خبر سے ان کا غم اسی طرح تازہ ہوگیا ہے جب ان کے بچے دہشت گردوں کا نشانہ بنے تھے۔ پشاور پریس کلب کے باہر انصاف کےلیے احتجاج کرنے والے مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جس میں انصاف کے نعرے درج تھے۔ احتجاج ریکارڈ کرانے کے بعد مظاہرین پرامن انداز میں منتشر ہوگئے۔
یاد رہے کہ ایڈووکیٹ فضل خان نے مذکورہ رپورٹس کے بعد گزشتہ ہفتے حکومت کے کئی عہدیداروں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لیے پشاور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی۔
آرمی پبلک اسکول پشاور میں 16 دسمبر 2014 میں بدترین دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا تھا جہاں 140 سے زائد افراد شہید ہوگئے تھے جن میں اکثریت بچوں کی تھی اور اس کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی تھی جس کے بعد حکومت اور قومی اداروں نے نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا تھا اور فوج نے آپریشن ‘ضرب عضب’ شروع کیا تھا۔
خیال رہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی مبینہ آڈیو ٹیپ رواں ماہ سامنے آئی تھی جس میں انہوں نے 11 جنوری 2020 کو ‘پاکستانی سکیورٹی اتھارٹیز کی حراست سے’ فرار ہونے کا انکشاف کیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ترکی میں موجود ہیں جب کہ متعدد ذرائع کا ماننا ہے کہ دہشت گروپ کے سابق ترجمان افغانستان میں ہیں۔
خیال رہے کہ اس آڈیو کی حتمی طور پر تصدیق نہیں ہوئی تاہم انہوں نے دوران حراست سامنے آنے والی مشکلات اور فرار ہونے کے حوالے سے بتایا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button