اسمارٹ نہیں مزید دو ہفتے سخت لاک ڈاؤن ہونا چاہیے، ڈاکٹرز کا مطالبہ

صدر پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن ڈاکٹر افتخار برنی نے کہا ہے کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کی بجائے مزید دو ہفتے سخت لاک ڈاؤن ہونا چاہیے. صرف 6 دنوں میں کورونا کے مریضوں کی تعداد دگنی ہوگئی. پہلے لاک ڈاؤن میں بیماری کنٹرول تھی، اب خطرناک نتائج آ رہے ہیں،
دیگرڈاکٹرز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ان کا کہنا تھا کہ ایک ہفتے کے دوران کرونا کیسز میں بڑی تعداد میں اضافہ ہوا۔ کورونا سے متاثرہ افراد کی حقیقی تعداد اس سے بہت زیادہ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک ہفتہ قبل کرونا کے چھ ہزار مریض ایک ماہ میں سامنے آئے۔ گزشتہ 6 دن میں کورنا کے مریضوں کی تعداد دگنی ہو گئی ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم لوگ سمجھتے ہیں اللہ کے بہت چہیتے ہیں اور وبائی امراض ہم تک نہیں پہنچیں گے۔ڈاکٹر افتخار برنی نے کہا کہ کرونا کی شدت کے کم ہونے کی غلط فہمی کو دور کیا جائے۔
ڈاکٹر افتخار برنی نے کہا کہ ہماری حکومتوں نے ابتدائی طور ہر اچھے اقدام اٹھائے اور لاک ڈاؤن کیا۔ سخت لاک ڈاؤن کے باعث یہ بیماری ابتداء میں شدت کے ساتھ نہیں پہنچی۔ گزشتہ ہفتے میں اس بیماری کی شدت خوفناک حد تک پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طبی عملے میں بڑی تعداد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہو رہی ہے۔ اس وقت 100 ڈاکٹرز سمیت 200 سے زیادہ طبی عملے کے افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ڈاکٹر افتخار برنی نے کہا کہ اس مرض کا حتمی علاج نہیں ہے، دوسری طرف ہسپتالوں کی گنجائش ختم ہو رہی ہے۔ اسمارٹ لاک ڈاؤن پاکستان کے ماحول کے حساب سے مطابقت نہیں رکھتا۔ لوگ اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پابندی نہیں کرسکیں گے۔ سخت لاک ڈاؤن مزید دو ہفتے ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر افتخار برنی نے کہا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کیلئے تاجروں کا حکومت پر دباؤ ہے۔ تاجر طبقے کو چاہیے فی الحال استقامت سے کام لے۔ اسی طرح مساجد کرونا وائرس منتقل کرنے کا بہت بڑا ذریعہ بن رہی ہیں۔ ضرورت ہے کہ مسجد میں جانے کی بجائے گھر میں نماز ادا کی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button