چین کے ڈاکٹر شمالی کوریا کے صدر کی جان بچانے پہنچ گئے

چین کی جانب سے انتہائی ماہر ڈاکٹروں کی ایک خصوصی ٹیم شمالی کوریا بھجوائے جانے کے بعد ان افواہوں میں تیزی آگئی ہے کہ شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ کی حالت نازک ہے اور وہ کومہ میں ہیں۔
چین کے طبی ماہرین کی ایک خصوصی ٹیم کمیونسٹ پارٹی کے انٹرنیشنل لائژن ڈیپارٹمنٹ کے ایک سینئر رکن کی سربراہی میں بیجنگ سے جنوبی کوریا پہنچ گئی ہے تاکہ کم جونگ کی زندگی بچائی جا سکے۔ شمالی کوریا کے مطلق العنان سپریم لیڈر کم جونگ آخری مرتبہ 11 اپریل کو میڈیا کے سامنے آئے تھے جب انہوں نے ایک سرکاری اجلاس کی صدارت کی تھی۔ تاہم اگلے ہی روز 12 اپریل کو ایک شدید ہارٹ اٹیک کے بعد انکے دل کا آپریشن کیا گیا تھا جس کے بعد سے وہ ہوش میں نہیں آ سکے اور کومہ میں ہیں۔ تاہم اس حوالے سے شمالی کوریا کی حکومت خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ اس دوران کم جونگ کے ہارٹ اٹیک کے بعد آپریشن کے دوران مر جانے کی خبریں بھی چل چکی ہیں جن کی تصدیق نہیں ہوسکی اور متضاد اطلاعات آنے کا سلسلہ جاری ہے۔
تاہم اب چین نے شمالی کوریا کے صدر کے علاج کے لیے اپنے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم بھیج دی ہے۔ اس سے پہلے جب ماضی میں کم جونگ کے والد کو ہارٹ اٹیک کے بعد دل کے مسائل کا سامنا ہواتھا تو ان کی جان بھی چینی ڈاکٹروں کی ایک خصوصی ٹیم نے بچائی تھی۔ خیال رہے کہ شمالی کوریا کے بارے میں خبریں فوری طور پر دنیا کے سامنے نہیں آتیں اور ویسے بھی کم جونگ کی صحت کے حوالے سے خبروں کو ریاست کی سلامتی کے طور دیکھا جاتا ہے۔
شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے کم جونگ کی سرگرمیوں کے بارے میں آخری بار 11 اپریل کو آگاہ کیا تھا جہاں انہوں نے ایک اجلاس کی صدارت کی تھی۔ تاہم سرکاری میڈیا نے 15 اپریل کو ان کے دادا کی سالگرہ کی تقریبات میں شرکت سے متعلق کوئی اطلاع نہیں دی تھی جو شمالی کوریا کا ایک اہم دن ہے۔ یاد رہے کہ شمالی کوریا کے 36 سالہ رہنما کے بارے میں اس طرح کی متضاد خبریں پہلی مرتبہ سامنے نہیں آئیں بلکہ 2014 میں ایک مہینے سے زائد عرصے تک میڈیا سے غائب رہے تھے بعد ازاں رپورٹس ملی تھیں کہ ان کی صحت ٹھیک نہیں۔
کم جونگ 2011 میں شمالی کوریا کے سربراہ بن گئے تھے جب ان کے والد کو دل کا دورہ پڑا تھا۔ اس سے قبل ان کے والد 2008 میں بھی اسی تکلیف کا شکار ہوگئے تھے جس کا علاج چینی ڈاکٹروں کی ایک خصوصی ٹیم نے کیا تھا۔ اپنے والد کے انتقال کے بعد کم جونگ عالمی منظرنامے پر سخت گیر رہنما کے طور پر سامنے آئے۔ تاہم انہوں نے چین سے تعلقات کو مزید مضبوط کیا جبکہ امریکا کے ساتھ اتار چڑھاؤ آتے رہے۔ کم جونگ نے 2018 سے اب تقریباً 4 مرتبہ چین کا دورہ کیا جن کے ساتھ اقوام متحدہ کی پابندیوں کے باوجود معاشی تعلقات بھی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ کے درمیان 2018 اور 2019 میں غیر روایتی طور پر دو مرتبہ ملاقات ہوئی جس میں شمالی کوریا کے جوہری نظام پر پائے جانے والے خدشات کو دور کرنا تھا۔
امریکی میڈیا کی غیر مصدقہ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ کِم جونگ اُن دماغی طور پر مر چکے ہیں جبکہ کچھ اطلاعات ہیں کہ وہ دل کے آپریشن سے پیدا شدہ پیچیدگیوں کے باعث قریب المرگ ہیں اور ممکنہ طور پر ان کی ہمشیرہ اب عنان حکومت سنبھال سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ شمالی کوریا کے سپریم لیڈر نے دو سال پہلے اپنے باغی بھائی کو ایک بین الاقوامی ائیر پورٹ پر زہریلے سپرے کے ذریعے مروا دیا تھا۔
دوسری طرف چونکہ شمالی کوریا میں نجی ذرائع ابلاغ کا تصور نہیں اور سرکاری میڈیا کسی بھی قسم کی حساس معلومات فراہم کرنے میں ریاستی جبر کا شکار ہے لہذا اب تک یہ تصدیق نہیں ہوسکی کہ اسوقت کم جون اُن کی حالت کیسی ہے۔ ایسے میں امریکی ذمے داران نے تصدیق کی ہے کہ کِم کی حالت تشویش ناک ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ وثوق سے نہیں کہہ سکتی کہ صدر کم جانگ ان زندہ ہیں یا ان کی موت واقع ہو چکی ہے۔ تاہم شمالی کوریا کے ہمسایہ ملک جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ کم جونگ دل کے آپریشن کے بعد سے زیر علاج ہیں اور ان کی حالت میں بہتری آنے کی توقع ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button