نواز شریف کے داماد اور نون لیگی وکیل رہنما آمنے سامنے کیوں ؟

 

 

 

سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد اور وزیراعلیٰ مریم نواز کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اور معروف وکیل رہنما احسن بھون ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے ہیں اور ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کر رہے ہیں، حالانکہ دونوں کی سیاسی ہمدردیاں مسلم لیگ ن سے وابستہ ہیں۔

 

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے آئندہ انتخابات سے قبل وکلا کی تعلیمی اسناد کی تصدیق کا معاملہ اب باقاعدہ قانونی تنازع بن چکا ہے، احسن بھون نے کیپٹن صفدر کو پانچ ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھیج دیا ہے۔ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ستمبر کے تیسرے ہفتے میں کیپٹن صفدر نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بعض امیدواروں اور سینیئر وکلا کی قانون کی ڈگریوں کی تصدیق کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے احسن بھون کی تعلیمی اسناد سے بارے بھی سوالات اٹھائے، جس کے بعد انتخابی سرگرمیوں سے جڑا معاملہ براہ راست دونوں شخصیات کے درمیان قانونی کشیدگی میں تبدیل ہوگیا۔

 

کیپٹن صفدر کے مطابق انہوں نے احسن بھون سے ایک ایسے شخص کو انتخابی ٹکٹ دیے جانے پر سوال کیا جس کی ڈگری کے بارے میں انہیں شبہ تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ احسن بھون اپنی ڈگری اور دیگر دستاویزات پیش کرکے معاملہ واضح کریں۔ کیپٹن صفدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس حوالے سے معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور اگر ڈگری درست ثابت ہوئی تو وہ معافی مانگنے کے لیے تیار ہیں۔

 

دوسری جانب احسن بھون نے کیپٹن صفدر کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ایک قانونی نوٹس جاری کیا ہے۔ انہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا  ہے کہ انہوں نے مارچ 1989 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ نوٹس کے مطابق پنجاب بار کونسل کے ریکارڈ میں ان کا 1989 میں لوئر کورٹس، 1992 میں ہائی کورٹ اور 19 جولائی 2003 کو سپریم کورٹ کے وکیل کی حیثیت سے اندراج موجود ہے۔

 

قانونی نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے کنٹرولر امتحانات نے 21 جنوری 2026 کو احسن بھون کی اسناد کی تصدیق بھی کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ محض الزامات کی بنیاد پر کسی شخص کی ڈگری کو جعلی قرار نہیں دیا جا سکتا اور ایسے بیانات سے ان کی شہرت اور پیشہ ورانہ حیثیت متاثر ہوئی ہے۔ احسن بھون نے کیپٹن صفدر سے سات روز کے اندر غیر مشروط معافی مانگنے اور الزامات واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں سول اور فوجداری کارروائی شروع کی جا سکتی ہے، جس کے بعد یہ تنازع محض سیاسی یا انتخابی بیان بازی کے بجائے قانونی محاذ پر بھی منتقل ہوگیا ہے۔

خیبر پختونخوا: ایمرجنسی کے راستے میں آئینی رکاوٹیں درپیش

ادھر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیپٹن صفدر قابل احترام ہیں تاہم وہ وکیل یا بار کے رکن نہیں، اس لیے انہیں بار کے انتخابی معاملات سے دور رہنا چاہیے۔ انہوں نے احسن بھون کو وکلا برادری کی محترم شخصیت قرار دیا اور کہا کہ 2020 کے بار انتخابات کے دوران امیدواروں کی اسناد کی تصدیق کا عمل ہو چکا ہے۔ وزیر قانون نے کیپٹن صفدر اور امجد شاہ کے درمیان اختلاف کو بھی ذاتی نوعیت کا قرار دیا اور اسے مانسہرہ میں ایک پلاٹ کے تنازع سے جوڑا۔

 

یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات 29 اکتوبر کو ہونے جا رہے ہیں۔ مختلف وکلا گروپس نے امیدوار میدان میں اتار دیے ہیں، انڈپینڈنٹ گروپ نے صدارت کے لیے سید امجد علی شاہ جبکہ پروفیشنل گروپ نے سردار امان خان کو امیدوار نامزد کیا ہے۔ کیپٹن صفدر نے بھی اپنے گروپ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے وکلا کو اس میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔

یوں اسناد کی تصدیق کا سوال سپریم کورٹ بار کے انتخابی مقابلے کے ساتھ ساتھ وکلا گروپس کی اندرونی کشمکش اور فریقین کے قانونی اختلاف تک پھیل گیا ہے۔ اب اہم سوال یہ ہے کہ کیپٹن صفدر قانونی نوٹس کا کیا جواب دیتے ہیں اور آیا فریقین کے درمیان معاملہ عدالت تک پہنچتا ہے۔ حتمی صورت حال کا تعین متعلقہ یونیورسٹی، بار کونسل اور عدالتی ریکارڈ سے ہی ہوگا۔

 

Back to top button