خیبر پختونخوا: ایمرجنسی کے راستے میں آئینی رکاوٹیں درپیش

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے بار بار اسلام آباد پر چڑھائی کرنے والے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے جان چھڑانے کے لیے اصل فیصلہ سازوں نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو جواز بنا کر ایمرجنسی نافذ کرنے کا ذہن تو بنا لیا ہے، لیکن اس راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ صوبائی اسمبلی سے ایمرجنسی کے نفاذ کے حق میں قرارداد منظور کروانا ہے۔
آئینی ماہرین کے مطابق خیبر پختون خواہ میں ایمرجنسی کے نفاذ میں سب سے بڑی مشکل یہ درپیش ہے کہ اگر یہ ایکشن داخلی بدامنی کو بنیاد بنا کر آرٹیکل 232 کے تحت لیا جائے تو متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد لازمی ہوگی، جبکہ موجودہ سیاسی حالات میں ایسی قرارداد کا منظور ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ یوں وفاق کے سامنے اصل چیلنج محض ایمرجنسی نافذ کرنے کا سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ اس کے لیے آئین میں طے کردہ لازمی شرائط پوری کرنا ہے۔
آئین پاکستان کا آرٹیکل 232 صدر کو اس وقت ایمرجنسی نافذ کرنے کا اختیار دیتا ہے جب جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی داخلی بدامنی کے باعث سنگین ہنگامی صورت حال پیدا ہو جائے جس پر قابو پانا صوبائی حکومت کے اختیار سے باہر ہو۔ تاہم اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اس شق میں واضح کر دیا گیا کہ اگر ایمرجنسی داخلی بدامنی کی بنیاد پر نافذ کی جا رہی ہو تو متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد ضروری ہوگی۔ اس لیے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی خراب صورتحال یا اسلام آباد کی طرف احتجاجی مارچ کو بنیاد بنا کر آرٹیکل 232 کا سہارا لینے کی صورت میں صوبائی اسمبلی کی منظوری بنیادی آئینی تقاضا بن جاتی ہے۔
اس آئینی شرط کا مطلب یہ ہے کہ صدر یا وفاقی حکومت محض اپنے طور پر یہ فیصلہ کرکے کہ خیبر پختونخوا میں داخلی بدامنی صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہو چکی ہے، آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی نافذ نہیں کر سکتے۔ آئین نے اس معاملے میں وفاقی اختیار کے ساتھ صوبائی اسمبلی کی رضامندی کو بھی لازم قرار دیا ہے۔ چنانچہ اگر صوبائی اسمبلی میں ایسی قرارداد منظور ہونے کے امکانات نہ ہوں تو داخلی بدامنی کی بنیاد پر آرٹیکل 232 کا راستہ آئینی طور پر انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی نافذ ہو بھی جائے تو یہ وفاق کو صوبے میں لامحدود اختیارات نہیں دیتا۔
آئینی ماہرین کے مطابق ایمرجنسی کے دوران پارلیمنٹ کو بعض صوبائی معاملات پر قانون سازی کا اختیار مل سکتا ہے، وفاق صوبائی حکومت کو ہدایات دے سکتا ہے اور بعض حالات میں وفاق یا گورنر صوبائی حکومت کے بعض اختیارات استعمال کر سکتے ہیں، تاہم آئین نے ہائی کورٹ کے اختیارات کو اس دائرے سے واضح طور پر محفوظ رکھا ہے۔ یوں ایمرجنسی ایک غیر معمولی آئینی اقدام ہے جس کے ذریعے وفاق اور صوبے کے درمیان اختیارات کا توازن عارضی طور پر تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد دوسرا اہم آئینی مرحلہ پارلیمانی منظوری کا ہے۔ آرٹیکل 232 کے تحت جاری ہونے والا ایمرجنسی کا اعلان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور عام حالات میں دو ماہ کے اندر منظوری نہ ملنے کی صورت میں وہ ختم ہو جاتا ہے۔ یوں آئین نے صوبائی اسمبلی کی قرارداد کے علاوہ وفاقی اقدام پر پارلیمانی نگرانی کی ایک دوسری حفاظتی دیوار بھی قائم کر رکھی ہے۔
یہاں اصل پیچیدگی یہ ہے کہ اگر خیبر پختونخوا اسمبلی داخلی بدامنی کی بنیاد پر ایمرجنسی کی قرارداد منظور نہ کرے تو کیا وفاق کے تمام راستے بند ہو جاتے ہیں؟ آئینی جواب یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے، کیونکہ آئین کا آرٹیکل 234 ایک الگ راستہ فراہم کرتا ہے۔ تاہم آرٹیکل 234 کو آرٹیکل 232 کا متبادل یا صوبائی اسمبلی کی قرارداد سے بچنے کا آسان راستہ سمجھنا بھی درست نہیں ہوگا، کیونکہ دونوں دفعات کے بنیادی مقاصد اور شرائط مختلف ہیں۔
آرٹیکل 234 اس وقت حرکت میں آتا ہے جب صدر کو صوبے کے گورنر کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد یہ اطمینان ہو جائے کہ ایسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جس میں صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی۔ اس صورت میں صدر اعلان کے ذریعے صوبائی حکومت کے تمام یا بعض اختیارات اپنے پاس لے سکتے ہیں یا گورنر کو صدر کی جانب سے یہ اختیارات استعمال کرنے کی ہدایت کر سکتے ہیں۔ آرٹیکل 234 میں صوبائی اسمبلی کی قرارداد کو بنیادی شرط نہیں بنایا گیا، البتہ صوبائی حکومت کے آئین کے مطابق نہ چل سکنے کی صورتحال کا آئینی معیار پورا کرنا ضروری ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ’ایمرجنسی‘ اور ’گورنر راج‘ کے درمیان بنیادی آئینی فرق سامنے آتا ہے۔ داخلی بدامنی بذات خود آرٹیکل 234 کے اطلاق کا خودکار جواز نہیں بنتی۔ وفاق کو یہ آئینی بنیاد قائم کرنا ہوگی کہ صوبائی حکومت کا نظام آئین کے مطابق چلانا ممکن نہیں رہا، جبکہ آرٹیکل 234 کی کارروائی گورنر کی رپورٹ سے منسلک ہے۔
KPKمیں تبدیلی اندرسے آئیگی یا باہر سے؟بڑا فیصلہ ہو گیا
لہٰذا اگر وفاقی حکومت سہیل آفریدی حکومت کے خلاف آرٹیکل 234 کا راستہ اختیار کرنا چاہے تو اسے صرف امن و امان کی خرابی نہیں بلکہ آئینی مشینری کی ناکامی کا معاملہ ثابت کرنا ہوگا۔ آرٹیکل 234 کے تحت بھی صدر کو صوبائی اسمبلی یا ہائی کورٹ کے اختیارات پر مکمل اور غیر محدود اختیار حاصل نہیں ہوتا۔ صدر صوبائی حکومت کے اختیارات اپنے پاس لے سکتے ہیں اور مخصوص حالات میں صوبائی اسمبلی کے اختیارات پارلیمنٹ کے ذریعے استعمال کیے جا سکتے ہیں، لیکن ہائی کورٹ کے اختیارات سنبھالنے یا اس سے متعلق آئینی تحفظات معطل کرنے کا اختیار اس آرٹیکل کے تحت حاصل نہیں۔ مزید یہ کہ ایسا اعلان بھی مستقل نہیں رہ سکتا؛ اسے پارلیمانی نگرانی کا سامنا ہوتا ہے اور عام حالات میں دو ماہ کے بعد اسے برقرار رکھنے کے لیے منظوری درکار ہوتی ہے، جبکہ مجموعی مدت چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔
چنانچہ خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال میں آئینی تصویر خاصی واضح ہے۔ اگر وفاق داخلی بدامنی کو بنیاد بنا کر آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی لگانا چاہتا ہے تو صوبائی اسمبلی کی قرارداد کے بغیر یہ راستہ آئینی طور پر دستیاب نہیں، جبکہ اگر وفاق کا مؤقف یہ ہو کہ مسئلہ صرف امن و امان کا نہیں بلکہ صوبائی حکومت آئین کے مطابق چلنے کے قابل نہیں رہی تو آرٹیکل 234 کا الگ آئینی طریقہ موجود ہے۔ تاہم اس صورت میں گورنر کی رپورٹ، صدر کا آئینی اطمینان اور بعد ازاں پارلیمانی منظوری سمیت تمام متعلقہ شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
