سندھ میں کچے کے ڈاکوؤں کا نیٹ ورک کیسے توڑا گیا؟

صوبہ سندھ میں کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف چند بڑے پولیس آپریشنز کے نتیجے میں دو دہائیوں سے قائم ڈاکو راج کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ گھوٹکی، کشمور، شکار پور اور سکھر کے کچے میں خوف کی علامت بنے ڈاکوؤں کے زیادہ تر ساتھی مارے گئے ہیں جبکہ دیگر نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ ان کاروائیوں کے نتیجے میں اغوا برائے تاوان اور ہنی ٹریپ کی وارداتوں میں نمایاں کمی آئی ہے اور کچے میں ڈاکوؤں کی گرفت پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ کمزور ہو گئی ہے۔
یاد رہے کہ کچے کے ڈاکو محض چند مسلح افراد کے گروہ نہیں بلکہ برسوں سے ایک منظم نیٹ ورک کے تحت کام کرنے والے منظم گینگز ہیں۔ کچے کے ڈاکوؤں کی کامیابی کے پیچھے بنیادی طور پر مقامی سہولت کار، مخبر اور رابطہ کار موجود ہوتے تھے، جبکہ اغوا برائے تاوان سے حاصل ہونے والی بھاری رقم اس پورے نظام کو چلانے کا بنیادی ذریعہ تھی۔ یہی رقم اسلحے، گاڑیوں، نقل و حرکت اور دیگر جرائم کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ اس نیٹ ورک کا سب سے خطرناک ہتھیار ہنی ٹریپ تھا۔ ڈاکو خواتین کی آواز میں معصوم شہریوں سے رابطہ کرتے اور انہیں دوستی، کاروبار، ملازمت یا کسی دوسرے بہانے سے کچے میں بلاتے۔ شہری جیسے ہی مخصوص مقام پر پہنچتا، مسلح افراد اسے یرغمال بنا لیتے اور پھر اس کے اہل خانہ سے تاوان کا مطالبہ شروع کردیا جاتا۔
کچے کے ڈاکوؤں نے وقت کے ساتھ اپنا طریقہ واردات بھی تبدیل کیا۔ سوشل میڈیا پر سستی گاڑیوں، ٹریکٹروں، موبائل فونز اور دیگر قیمتی اشیا کے جعلی اشتہارات کے ذریعے شہریوں کو پھنسایا جانے لگا۔ رابطہ کرنے والے شخص کو کسی مخصوص مقام پر بلایا جاتا اور وہاں سے اسے اغوا کرلیا جاتا۔ روزگار اور بھاری معاوضے کی پیشکش بھی شہریوں کو کچے کے علاقے تک لانے کے لیے استعمال ہوتی رہی۔ کچے کا جغرافیہ بھی ڈاکوؤں کی طاقت کا اہم سبب رہا ہے۔
یاد رہے کہ دریائے سندھ کے کنارے پھیلے دشوار گزار علاقے، جنگلات، جزیرے نما مقامات اور محدود راستے پولیس کے لیے ڈاکوؤں کے خلاف کارروائی کو مشکل تر بنا دیتے تھے۔ اگر پولیس ایک کارروائی کے دوران کسی علاقے کو کلیئر کر بھی لیتی تو سیکیورٹی فورسز کی مستقل موجودگی نہ ہونے کے نتیجے میں ڈاکو دوبارہ اپنے ٹھکانے واگزار کروا لیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران سندھ حکومت کی جانب سے کچے کے علاقے میں آپریشنز کے باوجود ڈاکوؤں کا نیٹ ورک مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا تھو۔ گزشتہ چند برسوں میں صوبہ سندھ کے کچے کے علاقے میں پولیس اور رینجرز کی کئی کارروائیاں ہوئیں، بڑے آپریشنز کیے گئے اور سرینڈر کرنے کی پالیسی بھی متعارف کرائی گئی، لیکن ہر آپریشن کلین اپ کے بعد مستقل پولیسنگ نہ ہونے کی وجہ سے ڈاکو دوبارہ ان علاقوں میں منظم ہو جاتے تھے۔
لیکن اب اس صورتحال میں نمایاں فرق نظر آ رہا ہے۔ سندھ میں کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف پولیس کارروائیوں میں متعدد خطرناک ڈاکو مارے جا چکے ہیں جبکہ سرینڈر پالیسی کے تحت بھی سینکڑوں ڈاکو ہتھیار ڈال چکے ہیں۔ ان پولیس ایکشنز کے بعد متعلقہ علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی چوکیاں قائم کی گئی ہیں تاکہ ڈاکو راج دوبارہ سے سر نہ اٹھا سکے۔ ایسی کاروائیوں کے بعد ڈاکو گینگز کی افرادی قوت کم ہونے کے ساتھ ان کے مقامی رابطے اور شہریوں کو ہنی ٹریپ میں پھنسانے کی صلاحیت بھی متاثر ہوئی ہے۔ نتیجتاً اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔
KPKمیں ایمرجنسی یا گورنر راج؟وزیراعلیٰ، حکومت اور اسمبلی کا کیا ہوگا؟
یاد رہے کہ ڈاکوؤں کی طاقت کا ایک بڑا ستون ان کی مالی حیثیت تھی۔ تاوان کی رقم سے صرف مغویوں کو چھوڑا نہیں جاتا تھا بلکہ اسی پیسے سے اسلحہ خریدا جاتا، سہولت کاروں کو ادائیگیاں کی جاتیں اور گینگز کی نقل و حرکت برقرار رکھی جاتی تھی۔ خطرناک گروہوں کے ٹوٹنے، لیکن اب کچے کے علاقے میں سرکردہ ڈاکوؤں کے مارے جانے اور دیگر کے سرینڈر کرنے سے اس مالی نظام کو بھی بڑا دھچکا لگا ہے۔ کچے میں جرائم کے نیٹ ورک کی کمزوری نے ریاستی اداروں کے لیے بھی اپنی گرفت مضبوط کرنے کی گنجائش پیدا کردی ہے۔ وہ علاقے جہاں برسوں تک ڈاکوؤں کا خوف غالب رہا، وہاں اب پولیس کارروائیوں اور ریاستی موجودگی کے باعث صورتحال تبدیل ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ سڑکوں، بنیادی سہولتوں اور دیگر ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے بھی راستہ کھل رہا ہے۔
تاہم پولیس کے لیے اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے۔ ماضی میں بھی آپریشنز کے بعد ڈاکو دوبارہ منظم ہوتے رہے ہیں۔ اس بار کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ کچے میں مستقل پولیس موجودگی قائم رہے، جدید نگرانی کا نظام فعال ہو، باقی ماندہ گینگز کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے اور مقامی سہولت کاروں کے نیٹ ورک کو توڑا جائے۔ دو دہائیوں سے سندھ کے باسیوں کو ہنی ٹریپ اور اغوا برائے تاوان میں پھنسانے والا کچے کا نیٹ ورک اس وقت اپنی سابقہ طاقت سے محروم ہوچکا ہے۔ اب فیصلہ کن مرحلہ یہ ہے کہ اس کمزور پڑتے نیٹ ورک کو دوبارہ سر اٹھانے کا موقع نہ دیا جائے اور کچے میں قائم ہونے والی ریاستی رٹ کو مستقل بنایا جائے۔
