صدر زرداری کی ایمرجنسی اور گورنر راج کی مخالفت

باخبر حکومتی ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ خیبر پختون خوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ صدر آصف علی زرداری بنے ہوئے ہیں جن کے دستخط کے بغیر وفاقی حکومت ایسا کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی۔
صدر آصف علی زرداری کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ ایسا کوئی قدم اٹھانے سے گریزاں ہیں جس سے پیپلز پارٹی کے جمہوری ماضی پر پانی پھر جائے۔ اگرچہ صدر کی جانب سے اس ایشو پر کوئی باضابطہ حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا لیکن ان کے قریبی ذرائع کا دعوی ہے کہ وہ طاقتور فیصلہ سازوں پر واضح کر چکے ہیں کہ انکے لیے کسی بھی صوبے میں گورنر راج لگانا یا ایمرجنسی نافذ کرنا ممکن نہیں ہے۔ ان کا موقف ہے کہ وہ کسی بھی صوبے کے عوام کی منتخب اسمبلی کے خلاف کوئی بھی قدم نہیں اٹھائیں گے۔
یاد رہے کہ اس وقت وفاقی حکومت وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی کے پیدا کردہ سیاسی بحران سے نمٹنے کے لیے آئینی راستوں پر غور کر رہی ہے۔ ان راستوں میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ اور آرٹیکل 234 کے تحت صوبے میں گورنر راج کا نفاذ شامل ہیں۔ وفاقی وزرا گزشتہ چند روز سے مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ اگر آئینی شرائط پوری ہوئیں تو ایسے اقدامات کیے جا سکتے ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ صوبے کی بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال اس کے لیے بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔
تاہم آئینی طریقہ کار کے باعث معاملہ براہ راست وفاقی حکومت کے اختیار میں نہیں رہتا۔ آرٹیکل 232 کے تحت صدر کو اس وقت ایمرجنسی نافذ کرنے کا اختیار حاصل ہے جب جنگ، بیرونی جارحیت یا صوبائی حکومت کی دسترس سے باہر داخلی خلفشار کے باعث ملک یا اس کے کسی حصے کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو، جبکہ موجودہ آئینی متن داخلی خلفشار کی بنیاد پر ایمرجنسی کے لیے صوبائی اسمبلی کی قرارداد کی شرط بھی بیان کرتا ہے۔ دوسری جانب آرٹیکل 234 کے تحت صوبے میں آئینی مشینری ناکام ہونے کی صورت میں صدر صدارتی فرمان جاری کر سکتے ہیں، جو بعد ازاں پارلیمانی منظوری کے آئینی عمل سے گزرتا ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں یہ تاثر ضرور دیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں حالات اس نہج تک پہنچ سکتے ہیں جہاں غیر معمولی آئینی اقدامات پر غور کرنا پڑے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام اور دیگر وفاقی شخصیات نے گورنر راج یا ایمرجنسی کے آئینی راستے کی موجودگی کی بات کی ہے، جبکہ وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ بھی گورنر راج کو آئینی اور قانونی آپشن قرار دے چکے ہیں، تاہم مختلف حکومتی بیانات میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
اسی دوران صدر زرداری اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے درمیان اہم ملاقات بھی ہوئی ہے جس میں ملکی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، اس سے قبل بھی صدر، بلاول بھٹو اور محسن نقوی کے درمیان اہم مشاورت کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کی صورتحال بھی ان رابطوں کا حصہ تھی، تاہم ملاقات کے حوالے سے جاری سرکاری معلومات میں کسی حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
پیپلز پارٹی کے اندر سے آنے والا حالیہ سب سے واضح بیان بھی اس معاملے کو اہم بنا دیتا ہے۔ وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے 28 ستمبر کو ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا میں نہ ایمرجنسی کی حمایت کرتی ہے اور نہ گورنر راج کی۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری اسی پروگرام میں یہ مؤقف اختیار کر رہے تھے کہ اگر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ ہوئی تو اس کی وجہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ نہیں بلکہ صوبے کی سکیورٹی صورتحال ہوگی۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا سابقہ مؤقف بھی اس معاملے میں اہم ہے، دسمبر 2025 میں بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے بارے میں اس وقت کوئی باقاعدہ بات چیت نہیں ہوئی، تاہم صوبے میں بدامنی برقرار رہنے کی صورت میں گورنر راج آئینی آپشن موجود ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اصولی طور پر اس آئینی راستے کو تسلیم کرتی ہے، مگر اسے موجودہ سیاسی صورتحال میں اختیار کرنے کی حمایت اور محض آئینی آپشن کی موجودگی کو ایک ہی بات نہیں سمجھا جا سکتا۔
ادھر خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھی صورتحال کے سنگین ہونے کی صورت میں گورنر راج کے امکان کا ذکر کیا ہے۔ 29 ستمبر کو ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں جنگ جیسی صورتحال پیدا ہو چکی ہے اور اگر حالات مزید خراب ہوئے تو آئین کے تحت گورنر راج کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ان کی ذاتی خواہش نہیں اور اگر صدر کی طرف سے آئینی طور پر ہدایت ملی تو وہ اس پر عمل کریں گے۔ اس سے ایک روز قبل وہ صوبے میں جاری سکیورٹی صورتحال کے باعث تحریک انصاف کو اسلام آباد مارچ مؤخر کرنے کا مشورہ بھی دے چکے تھے۔
اس معاملے میں ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ وفاقی حکومت کے اندر بھی ایمرجنسی اور گورنر راج کے حوالے سے یکساں مؤقف سامنے نہیں آ رہا۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے 28 ستمبر کو کہا کہ فی الحال گورنر راج نافذ نہیں کیا جا رہا اور ایمرجنسی کا آپشن زیر غور ہے، جبکہ سرکاری ذرائع نے 29 ستمبر کو یہ مؤقف اختیار کیا کہ خیبر پختون خوا میں نہ ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ ہوا ہے اور نہ گورنر راج کا کوئی حتمی فیصلہ کیا گیا ہے۔ یوں حکومتی سطح پر مختلف آپشنز زیر بحث ضرور ہیں لیکن حتمی فیصلے کا مرحلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
ایمرجنسی یا گورنر راج: فیصلہ 4 اکتوبر سے پہلے یا بعد
ایمرجنسی کے آپشن کو بعض حکومتی حلقے گورنر راج کے مقابلے میں نسبتاً کم سیاسی نوعیت کا اقدام قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس صورت میں صوبائی اسمبلی برقرار رہتی ہے، جبکہ وفاقی سطح سے صوبائی انتظامی اختیارات کے استعمال کا راستہ نکل سکتا ہے۔ حکومتی مؤقف یہ ہے کہ اگر ایمرجنسی کا جواز پیش کرنا پڑا تو اسے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے بجائے خیبر پختونخوا میں مسلسل دہشت گردی، امن و امان کی صورتحال اور صوبائی حکومت کی ناکامی سے جوڑا جائے گا۔ تاہم اس مؤقف کی آئینی حیثیت اور اس پر پارلیمانی و عدالتی جانچ ایک الگ معاملہ ہوگا۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ آیا وفاقی حکومت اور طاقتور فیصلہ ساز صدر آصف علی زرداری کو کسی آئینی اقدام پر آمادہ کر پاتے ہیں یا نہیں۔
