کیا وفاق کے ایکشن سے پہلے آفریدی اسمبلی توڑ دیں گے؟

 

 

 

 

وفاق کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے یا گورنر راج لگانے کی افواہوں کے درمیان اب یہ اطلاع آ رہی ہے کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی وفاق کی جانب سے کسی ایسے ایکشن سے پہلے ہی صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی قیادت صوبے کی موجودہ صورتحال میں مختلف آئینی آپشنز پر غور کر رہی ہے اور اسمبلی کی تحلیل، ان ہاؤس تبدیلی اور تحریک عدم اعتماد کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جس کے بعد خیبر پختونخوا کا سیاسی بحران ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

 

27 ستمبر کا اسلام آباد لانگ مارچ ملتوی ہونے کے بعد تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے سامنے اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وفاق کی جانب سے ایمرجنسی یا گورنر راج سے پہلے سیاسی چال کون چلتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ ملتوی کرنے کے اعلان کے بعد سے سہیل افریدی سخت سیاسی دباؤ میں آ گئے ہیں اور علی امید گنڈاپور کا گروپ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تیاری کر رہا ہے۔ ایسے میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اسمبلی تحلیل کرنے کے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ پارٹی کی قیادت اور پارلیمانی پارٹی کی مشاورت سے متوقع ہے۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی کے لیے اسمبلی تحلیل کرنا ایک غیر معمولی سیاسی قدم ہوگا کیونکہ اس کے نتیجے میں صوبے میں موجودہ حکومت کا آئینی بندوبست ختم ہو کر نئے انتخابات اور نگران سیٹ اپ کی طرف جانے کا راستہ کھل سکتا ہے۔ تاہم اگر پارٹی قیادت کو یہ خدشہ ہو کہ وفاقی حکومت گورنر راج یا ایمرجنسی کے ذریعے صوبائی حکومت کو ہٹانے کی طرف بڑھ رہی ہے تو اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ اس سے پہلے سامنے آ سکتا ہے۔

 

دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی ایک ممکنہ آئینی راستہ ہے۔ آئین کے آرٹیکل 136 کے تحت صوبائی اسمبلی کے کم از کم 20 فیصد ارکان وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پیش کر سکتے ہیں، جبکہ اسے کامیاب بنانے کے لیے ایوان کی کل رکنیت کی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 130 کے تحت مخصوص آئینی صورتحال میں وزیراعلیٰ سے اعتماد کا ووٹ بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔ سابق وزیراعلی امین گنڈاپور پہلے ہی یہ بیان دے چکے ہیں کہ اگر انہیں دوبارہ سے وزارت اعلی سنبھالنے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ انکار نہیں کریں گے۔ یہ افواہیں بھی گرم ہیں کہ گنڈاپور اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر سہیل آفریدی کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی لا سکتے ہیں۔

 

یاد رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے امکانات پر بیانات نے پی ٹی آئی کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور پارلیمانی امور کے وزیر برائے مملکت طارق فضل چوہدری نے یہ بیان بھی دے ڈالا ہے کہ خیبر پختون خواہ میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر وفاق وہاں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ بھی کر سکتا ہے۔ ادھر وفاقی وزیر امیر مقام کا کہنا ہے کہ گورنر راج کے نفاذ کے لیے قانونی تقاضے پورے ہو چکے ہیں اور اس معاملے پر مشاورت جاری ہے۔

 

وفاقی حکومت کے اس مؤقف کے برعکس پی ٹی آئی اسے صوبائی حکومت پر سیاسی دباؤ قرار دیتی ہے اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بھی واضح کر چکے ہیں کہ وہ ایسے دباؤ کے سامنے اپنے سیاسی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 232 کا سہارا لیا جا سکتا ہے جبکہ گورنر راج کے نفاذ کے لیے آئین کے آرٹیکل 234 کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آئینی طور پر گورنر راج کا معاملہ آرٹیکل 234 کے تحت آتا ہے، دونوں آرٹیکلز کے تحت صوبے میں آئینی مشینری ناکام ہونے کی صورت میں ایمرجنسی بھی عائد کی جا سکتی ہے اور گورنر راج کا نفاذ بھی ہو سکتا ہے۔ دونوں صورتوں میں آئین نے الگ الگ طریقہ کار اور پارلیمانی تقاضے مقرر کر رکھے ہیں۔

 

اگر وفاق واقعی ایمرجنسی یا گورنر راج کی طرف بڑھتا ہے تو پی ٹی آئی کی جانب سے اس فیصلے کو سیاسی اور قانونی دونوں محاذوں پر چیلنج کیے جانے کا امکان ہے۔ پارٹی کے اندر اس حوالے سے احتجاج، عدالتی چارہ جوئی اور اسمبلی ارکان کے ذریعے سیاسی مزاحمت سمیت مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم حتمی حکمت عملی اس بات پر منحصر ہوگی کہ وفاق کی جانب سے کس آئینی شق کے تحت اور کس نوعیت کا اقدام کیا جاتا ہے۔

 

اس صورتحال میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے کا ممکنہ فیصلہ بھی انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اگر وہ اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری گورنر کو بھیجتے ہیں تو صوبے میں ایک نیا آئینی مرحلہ شروع ہوگا، جبکہ گورنر کی جانب سے اس سمری پر عمل نہ کرنے کی صورت میں بھی ایک نیا آئینی تنازع پیدا ہو سکتا ہے۔ یوں اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ خود وفاق اور صوبے کے درمیان جاری کشیدگی کو مزید ایک نئے قانونی مرحلے میں داخل کر سکتا ہے۔

بندکمروں کے فیصلے کسی صورت منظور نہیں،سہیل آفریدی

دوسری طرف 4 اکتوبر کا مجوزہ لانگ مارچ بھی پی ٹی آئی کی حکمت عملی پر اثرانداز ہوگا۔ اگر اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ ہوتا ہے تو پارٹی کی ساری سیاسی توجہ صوبے کے آئینی مستقبل اور نئے انتخابی مرحلے پر مرکوز ہو سکتی ہے، جبکہ اگر موجودہ حکومت برقرار رہتی ہے تو وفاق کے ساتھ محاذ آرائی اور اسلام آباد مارچ دونوں بیک وقت جاری رہ سکتے ہیں۔ اس طرح پشاور اور اسلام آباد کی سیاست ایک دوسرے سے مزید جڑ جائے گی۔ یوں خیبرپختونخوا میں اصل سیاسی معرکہ اب صرف لانگ مارچ یا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مستقبل تک محدود نہیں رہا بلکہ صوبائی اسمبلی کے مستقبل تک پہنچ گیا ہے۔

Back to top button