نواز شریف کا داماد وکلا کے نشانے پر کیوں آ گیا؟

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے آئندہ انتخابات سے قبل وکلا کی تعلیمی اسناد کی تصدیق کا معاملہ ایک بڑے تنازع میں تبدیل ہو گیا ہے۔ سینیئر وکیل اور سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن محمد احسن بھون نے کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو پانچ ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھیج دیا ہے۔ یہ قانونی اقدام ان بیانات کے بعد سامنے آیا جن میں کیپٹن صفدر نے احسن بھون کی قانون کی ڈگری سمیت بعض وکلا کی تعلیمی اسناد کی تصدیق کا مطالبہ کیا اور ان کی ڈگری کے بارے میں سوالات اٹھائے۔ احسن بھون نے ان الزامات کو بے بنیاد اور ہتک آمیز قرار دیتے ہوئے سات روز کے اندر غیر مشروط معافی اور مبینہ الزام واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس تنازع کی بنیادی وجہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے آئندہ انتخابات اور امیدواروں کی تعلیمی اسناد کی جانچ پڑتال کا معاملہ ہے۔ ستمبر کے تیسرے ہفتے میں کیپٹن صفدر نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بعض امیدواروں اور سینیئر وکلا کی ڈگریوں کی تصدیق کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کے بیانات میں احسن بھون سمیت بعض معروف وکلا کی تعلیمی اسناد کی جانچ پڑتال کا معاملہ بھی شامل تھا، جس کے بعد معاملہ محض انتخابی بحث تک محدود نہ رہا بلکہ براہ راست قانونی تنازع کی شکل اختیار کر گیا۔
کیپٹن صفدر کا مؤقف ہے کہ انہوں نے احسن بھون سے ایک ایسے شخص کو انتخابی ٹکٹ دیے جانے کے معاملے پر سوال کیا جس کی ڈگری کے بارے میں انہیں مبینہ طور پر شبہ تھا۔ ان کے مطابق احسن بھون کو چاہیے کہ وہ اپنی ڈگری اور متعلقہ دستاویزات پیش کریں اور معاملہ عدالت میں واضح کریں۔ کیپٹن صفدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ احسن بھون کی تعلیمی دستاویزات سے متعلق معاملہ پہلے ہی عدالت میں زیر سماعت ہے اور اگر ڈگری درست ثابت ہو تو وہ معافی مانگنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے احسن بھون کی تعلیم اور بہاولپور میں مبینہ داخلے اور مائیگریشن سے متعلق بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
دوسری جانب احسن بھون کی طرف سے بھیجے گئے قانونی نوٹس میں ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انہوں نے مارچ 1989 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ نوٹس کے مطابق پنجاب بار کونسل کے ریکارڈ میں ان کا 1989 میں لوئر کورٹس کے وکیل، 1992 میں ہائی کورٹ کے وکیل اور 19 جولائی 2003 کو سپریم کورٹ کے وکیل کی حیثیت سے اندراج موجود ہے۔ نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے کنٹرولر امتحانات نے 21 جنوری 2026 کو ان کی اسناد کی تصدیق بھی کی تھی۔
احسن بھون کا قانونی مؤقف یہ ہے کہ محض کسی شخص کے بیان یا الزام کی بنیاد پر کسی ڈگری کو جعلی قرار نہیں دیا جا سکتا اور ایسے الزامات نے ان کی شہرت، پیشہ ورانہ حیثیت اور قانونی کیریئر کو نقصان پہنچایا ہے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے پانچ ارب روپے ہرجانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کیپٹن صفدر سے سات روز میں غیر مشروط معافی مانگنے اور الزام واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مطالبات پورے نہ کیے گئے تو سول اور فوجداری قانونی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔
اس معاملے میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا بیان بھی سامنے آیا ہے۔ ان کے مطابق کیپٹن صفدر قابل احترام ہیں لیکن وہ وکیل یا بار کے رکن نہیں، اس لیے انہیں بار کے انتخابی معاملات سے دور رہنا چاہیے۔ وزیر قانون نے احسن بھون کو وکلا برادری کی ایک محترم شخصیت قرار دیتے ہوئے انتخابی تناظر میں ان کے خلاف ہونے والی گفتگو کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ڈگریوں کی تصدیق کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 2020 کے بار انتخابات کے دوران خود امیدواروں اور متعلقہ افراد کی اسناد کی تصدیق کا عمل ہوا تھا۔
اعظم نذیر تارڑ نے کیپٹن صفدر اور امجد شاہ کے درمیان موجود اختلاف کو بھی ذاتی نوعیت کا قرار دیا اور کہا کہ یہ معاملہ مانسہرہ میں ایک پلاٹ کے تنازع سے متعلق ہے، جسے سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق اس رپورٹ میں موجود نہیں، اس لیے اسے متعلقہ فریق کے بیان کے طور پر ہی دیکھا جا سکتا ہے۔
اس پورے معاملے کی اہمیت اس لیے بڑھ گئی ہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات 29 اکتوبر کو ہونے جا رہے ہیں اور مختلف وکلا گروپس نے اپنے امیدوار میدان میں اتار دیے ہیں۔ انڈپینڈنٹ گروپ، جسے عاصمہ جہانگیر گروپ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے صدارت کے لیے سید امجد علی شاہ کو امیدوار نامزد کیا ہے جبکہ پروفیشنل گروپ نے سردار امان خان کو امیدوار بنایا ہے۔ اسی دوران کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر نے اپنے گروپ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے وکلا کو اس میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔
یوں ایک بظاہر تعلیمی اسناد کی تصدیق کا معاملہ اب سپریم کورٹ بار کے انتخابی ماحول، مختلف وکلا گروپس کی باہمی کشمکش اور ذاتی نوعیت کے مبینہ تنازعات سے بھی جڑ گیا ہے۔ تاہم اصل قانونی سوال یہی رہے گا کہ جن الزامات اور دستاویزات کا حوالہ دیا جا رہا ہے، ان کی حتمی حیثیت کیا ہے۔ اگر فریقین کے درمیان الزام تراشی کے بجائے متعلقہ یونیورسٹی، بار کونسل اور عدالت کے ریکارڈ سامنے آتے ہیں تو معاملے کی حقیقت زیادہ واضح ہو سکتی ہے۔
فی الحال ایک طرف احسن بھون نے پانچ ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھیج کر اپنے خلاف الزامات کو چیلنج کیا ہے، جبکہ دوسری طرف کیپٹن صفدر اپنے مؤقف پر قائم نظر آتے ہیں۔ اس تنازع کا اگلا مرحلہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ کیا کیپٹن صفدر قانونی نوٹس کے جواب میں اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہیں، معافی مانگتے ہیں یا معاملہ عدالت تک پہنچتا ہے۔ چونکہ سپریم کورٹ بار کے انتخابات بھی قریب ہیں، اس لیے یہ تنازع آنے والے دنوں میں وکلا کی انتخابی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
