سہیل آفریدی کیخلاف گھیرا تنگ، اقتدار کی کرسی کیوں ڈولنے لگی؟

خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حکومت اس وقت ایک ایسے سیاسی مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں اسلام آباد مارچ، پارٹی کے اندرونی اختلافات، اراکین اسمبلی کی ناراضی، وفاقی حکومت سے کشیدہ تعلقات اور انتظامی معاملات ایک دوسرے سے جڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیراعلیٰ نے جو سیاسی ترجیحات اور حکمت عملی اختیار کی، اب انہی میں سے بعض فیصلے ان کے لیے مشکلات کا باعث بنتے نظر آ رہے ہیں۔ سوال صرف یہ نہیں کہ اسلام آباد مارچ کس حد تک کامیاب ہوگا، بلکہ اصل امتحان یہ ہے کہ وزیراعلیٰ اپنی جماعت، پارلیمانی صفوں اور صوبائی حکومت کو ایک سمت میں رکھنے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔
سہیل آفریدی کے لیے پہلا بڑا چیلنج پارٹی قیادت کے ساتھ سیاسی فاصلے کا تاثر ہے۔ فراہم کردہ تجزیے کے مطابق اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیراعلیٰ نے پارٹی کی وسیع تر قیادت اور اراکین اسمبلی کے بجائے چند قریبی ساتھیوں کے مشوروں پر زیادہ انحصار کیا۔ شاہد خٹک، شفیع جان اور مینا خان آفریدی کے ساتھ مشاورت کو ان کے فیصلوں میں نمایاں قرار دیا گیا ہے۔ اس طرزِ سیاست کے نتیجے میں وزیراعلیٰ اور پارٹی کی دیگر قیادت کے درمیان فاصلہ بڑھنے کی شکایات سامنے آئیں، اور اسلام آباد مارچ کے معاملے پر یہ اختلاف مزید نمایاں ہوا۔
دوسرا اہم مسئلہ اراکین اسمبلی کی ناراضی ہے۔ وزیراعلیٰ بننے کے بعد ان کے بارے میں یہ تاثر سامنے آیا کہ انہوں نے صوبائی و قومی اسمبلی کے اراکین اور پارٹی کی صوبائی و مرکزی قیادت کے ساتھ سیاسی رابطے محدود رکھے۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق متعدد اراکین اسمبلی نجی محفلوں میں وزیراعلیٰ سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ سیاسی رابطوں کی اس کمی کا ایک ممکنہ انتظامی اثر یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بیوروکریسی کا کردار مضبوط ہوا، کیونکہ افسران کے درمیان یہ تاثر پیدا ہوا کہ وزیراعلیٰ تک منتخب نمائندوں کی رسائی محدود ہے۔ اگر یہ صورت حال برقرار رہتی ہے تو یہ حکومت کی سیاسی گرفت کے ساتھ ساتھ انتظامی کارکردگی کے لیے بھی ایک اہم چیلنج بن سکتی ہے۔
تیسرا مسئلہ وزیراعلیٰ کے پشاور کے بجائے اسلام آباد میں زیادہ وقت گزارنے سے متعلق ہے۔ رپورٹ کے مطابق سہیل آفریدی اکثر ہفتے کے بیشتر دن خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں گزارتے رہے، جس کے باعث صوبائی محکموں، انتظامی افسران اور دیگر اداروں کے ساتھ ان کے براہِ راست روابط متاثر ہوئے۔ وزیراعلیٰ کے لیے وفاقی دارالحکومت میں سیاسی رابطے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اگر صوبائی دارالحکومت اور انتظامی مشینری سے براہِ راست رابطہ کم ہوجائے تو اس کے اثرات حکمرانی کے نظام پر پڑ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعلیٰ کے طرزِ قیادت اور ان کی موجودگی کا سوال بھی موجودہ سیاسی بحران میں اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
چوتھا چیلنج پارلیمانی سیاست کے مقابلے میں سوشل میڈیا پر زیادہ انحصار کا تاثر ہے۔ سوشل میڈیا موجودہ دور میں سیاسی پیغام رسانی اور عوامی رابطے کا مؤثر ذریعہ ضرور ہے، لیکن حکومت چلانے کے لیے صرف عوامی تاثر کافی نہیں ہوتا۔ پارلیمانی حمایت، سیاسی مشاورت، اراکین اسمبلی سے مسلسل رابطہ، انتظامی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی اور مختلف سیاسی فریقوں کے ساتھ مذاکرات بھی ضروری ہوتے ہیں۔ موجودہ سیاسی صورتحال میں سہیل آفریدی کو اگر اپنے گرد پیدا ہونے والے اختلافات کم کرنے ہیں تو انہیں سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ روایتی سیاسی رابطوں کو بھی زیادہ مؤثر بنانے کی ضرورت ہوگی۔
پانچواں بڑا چیلنج وفاقی حکومت کے ساتھ سیاسی اور انتظامی رابطوں کا فقدان ہے۔ صوبے کے سکیورٹی، مالیاتی اور انتظامی معاملات میں وفاقی حکومت کے ساتھ رابطہ ناگزیر ہوتا ہے، لیکن سہیل آفریدی کے بارے میں یہ تاثر موجود رہا کہ وہ براہِ راست ملاقاتوں کے بجائے خطوط کے ذریعے وفاق کو صوبے کے مسائل سے آگاہ کرنے پر زیادہ انحصار کرتے رہے۔ اگر وفاق اور صوبے کے درمیان براہِ راست سیاسی رابطہ محدود ہو تو اختلافات کے حل کے امکانات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ موجودہ حالات میں یہ مسئلہ اس لیے زیادہ اہم ہے کہ خیبرپختونخوا کو ایک طرف امن و امان اور دہشت گردی جیسے مسائل کا سامنا ہے جبکہ دوسری طرف وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی کشیدگی بھی برقرار ہے۔
چھٹا اور شاید فوری نوعیت کا چیلنج اسلام آباد مارچ کا وعدہ اور اس سے وابستہ سیاسی دباؤ ہے۔ سہیل آفریدی نے عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد مارچ کا وعدہ کیا تھا، تاہم اقتدار سنبھالنے کے ابتدائی عرصے میں یہ مارچ نہیں ہو سکا۔ تقریباً دس ماہ بعد مارچ کا اعلان اور پھر اس کی تاریخ سے متعلق تبدیلیوں نے پارٹی کے اندر ان کے فیصلوں پر سوالات کو جنم دیا۔ اب جب مارچ سیاسی طور پر ایک بڑے امتحان کی شکل اختیار کر چکا ہے تو وزیراعلیٰ کے لیے یہ ثابت کرنا اہم ہوگا کہ وہ اپنے اعلان کو کس طرح عملی شکل دیتے ہیں اور اس دوران صوبائی حکومت کے انتظامی معاملات کو کس طرح سنبھالتے ہیں۔
ساتواں چیلنج مشاورت کے فقدان کا تاثر ہے۔ فراہم کردہ تجزیے میں یہ سوال بار بار سامنے آتا ہے کہ کیا وزیراعلیٰ نے اہم سیاسی فیصلوں سے قبل پارٹی کی وسیع تر قیادت اور اراکین اسمبلی کو مطلوبہ حد تک اعتماد میں لیا؟ عمران خان کی رہائی کے لیے فورس بنانے، 27 ستمبر کے احتجاج اور پارٹی کے اندر پیدا ہونے والے فارورڈ بلاک کے خاتمے جیسے معاملات میں مشاورت کے حوالے سے شکایات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اگرچہ ان دعوؤں کی نوعیت سیاسی تجزیے اور ذرائع کے بیانات پر مبنی ہے، لیکن یہ تاثر اپنی جگہ وزیراعلیٰ کے لیے ایک سیاسی مسئلہ بن سکتا ہے، کیونکہ پارلیمانی حکومت کی مضبوطی کا انحصار صرف وزیراعلیٰ کی ذاتی سیاسی سرگرمی پر نہیں بلکہ پارٹی کے اندر اجتماعی حمایت پر بھی ہوتا ہے۔
یہ تمام عوامل اب ایک دوسرے سے جڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف اسلام آباد مارچ کا اعلان ہے، دوسری طرف پارٹی کے اندر اختلافات اور بعض اراکین اسمبلی کے تحفظات ہیں، جبکہ تیسری جانب وفاقی حکومت کے ساتھ سیاسی کشیدگی موجود ہے۔ اس کے ساتھ صوبے کے انتظامی اور سکیورٹی مسائل بھی وزیراعلیٰ کی توجہ کے متقاضی ہیں۔ چنانچہ سہیل آفریدی کے لیے اصل چیلنج محض مارچ کو آگے بڑھانا نہیں بلکہ اس پورے سیاسی اور انتظامی دباؤ کو بیک وقت سنبھالنا ہے۔
جہاں تک حکومت یا وزیراعلیٰ کا تخت الٹنے کے خدشات کا تعلق ہے، فراہم کردہ مضمون میں پارٹی کے اندر اختلافات، اراکین اسمبلی کی ناراضی اور فارورڈ بلاک جیسے عوامل کا ذکر ضرور ہے، لیکن ان عوامل کی بنیاد پر کسی حتمی سیاسی نتیجے تک پہنچنا ممکن نہیں۔ حکومت کی تبدیلی یا وزیراعلیٰ کے خلاف کسی باقاعدہ اقدام کے لیے محض سیاسی اختلافات کافی نہیں ہوتے بلکہ پارلیمانی حمایت، پارٹی کے اندر طاقت کے توازن، آئینی و قانونی طریقہ کار اور سیاسی حالات سمیت متعدد عوامل فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے موجودہ صورتحال کو ایک سنجیدہ سیاسی دباؤ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، لیکن اسے لازماً حکومت کے خاتمے کی یقینی علامت قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔
آنے والے دنوں میں سہیل آفریدی کے لیے اصل امتحان یہی ہوگا کہ وہ پارٹی کے اندر موجود تحفظات کو کس حد تک کم کرتے ہیں، اراکین اسمبلی کے ساتھ رابطہ کیسے بحال کرتے ہیں، وفاق سے اختلافات کے باوجود انتظامی معاملات میں تعاون کی گنجائش کیسے پیدا کرتے ہیں اور اسلام آباد مارچ کے سیاسی فیصلے کو صوبائی حکومت کی ذمہ داریوں کے ساتھ کس طرح متوازن کرتے ہیں۔ ان کی سیاسی بقا اور حکومت کے استحکام کا معاملہ بالآخر اسی بات سے جڑا ہوگا کہ وہ احتجاجی سیاست، جماعتی نظم، پارلیمانی حمایت اور صوبائی حکمرانی کے درمیان توازن کس حد تک قائم کر پاتے ہیں۔
